Tuesday, 16 May 2017

مشرق کی ہوائیں


چین کے دارالحکومت بیجنگ میں سجے میلے کا آج دوسرا روز ہے۔ یہ میلہ اس قوم نے سجایا ہے جس کی دانش کے حوالے چار ہزار سال پر محیط ہیں اور اس کی دانش کے سوتے کبھی خشک نہیں ہوتے۔ کبھی کنفیوشس نے اس قوم کو وہ راہ دکھائی تھی جس پر چل کر راہیں بنانا ان کی خارجہ پالیسی کا ایسا مستقل جزو بنا کہ پرانے وقتوں میں بھی ان کی دیوار چین سے وہ سلک روڈ نکلی جو دنیا کے طول عرض تک انہیں رسائی دیتی تھی۔ راستے انسان کی بنیادی ضرورت ہیںسو جہاں بھی انسان پایا گیا، وہاں راہیں ضرور پائی گئیں مگر تاریخ نے دیومالائی حیثیت صرف سلک روڈ کو ہی دی ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ جو راہیں چینی بناتے ہیں وہ ایسے عالمگیر اثرات رکھتی ہیں کہ اسے سنبھالنے کو تاریخ کو باب کے باب رقم کرنے پڑ جاتے ہیں۔ اپنے تحفظ کے معاملے میں چینیوں کی سنجیدگی دیوار چین کی عظمت میں دیکھی جا سکتی ہے۔ وہ دیوار چین جسے کچی دیواروں والے جدید عالم کا جو بھی انسان دیکھتا ہے، انگلی دانتوں میں دبانے ہی نہیں چبانے پر مجبور نظر آتا ہے ۔ دیوار چین کی مضبوطی بتاتی ہے کہ چینی بھی مدتوں سے جانتے ہیں کہ دیوار گر جائے تو لوگ صحن میں رستے بنا لیتے ہیں۔

Monday, 2 January 2017

۔1917 کا 100واں سال مبارک ہو

جب اس دنیا میں ٹھیک ایک سو برس پہلے یکم جنوری سنہ 1917 کا سورج طلوع ہوا تو یہ کرہِ ارض پہلی عالمی جنگ کی تباہ کاریوں سے جوجھ رہا تھا۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ اور کتنی تباہی ابھی دیکھنا باقی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ صرف ڈھائی برس کے دوران عثمانی سلطنت کے ہاتھوں سے نکل کے مغربی طاقتوں کو منتقل ہو چکا تھا۔ سنہ 1917 کے مشرقِ وسطیٰ میں نئی بندر بانٹ کے نتیجے میں اگلے 100 برس کی تباہی کا فارمولا بالفور ڈکلریشن کی شکل میں لکھا گیا۔ برطانیہ نے کسی کی زمین (فلسطین) کسی کو الاٹ کردی۔ آج یکم جنوری سنہ 2017 کا مشرقِ وسطی اسی بندربانٹ کا خونی خمیازہ بھگت رہا ہے۔ سن 1917 میں یہاں سامراجی سٹیٹ ایکٹرز اور ان کے کٹھ پتلی بچے جمہورے ایک دوسرے کو تباہ کر رہے تھے۔ 2017 میں انہی سٹیٹ ایکٹرز کے نان سٹیٹ پوتے پڑ پوتے اور بغل بچے یہی کام خوش اسلوبی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔

Sunday, 4 December 2016

کیوبا کا سوشلزم اور امریکی لبرل ازم

کیوبا کے مرحوم سوشلسٹ لیڈر فیدل کاسترو نے 1962 میں اقوامِ متحدہ کے اجلاس سے خطاب میں بتایا کہ جب کیوبا کا وفد لبرل امریکہ پہنچا تو مقامی ہوٹلوں کو ہدایت کی گئی کہ اسے رہائش نہ دی جائے. ہارلیم میں سیاہ فام لوگوں کے ایک ہوٹل میں جہاں کیوبن وفد ٹہرا اسے امریکی میڈیا نے چکلہ قرار دے ڈالا. فیدل کاسترو نے کہا کہ اگر کیوبن انقلابی ایسے بکنے والے ہوتے تو سامراج کب کا انہیں خرید چکا ہوتا لیکن اب اسے اچھی طرح اندازہ ہو چکا ہو گا کہ سامراجی مالیاتی سرمایہ ایسی فاحشہ ہے جو کیوبن انقلابیوں کو ورغلا نہیں سکتی. کیوبا کی انقلابی اور بعدازاں سوشلسٹ ریاست نے امریکہ نواز لبرل جمہوری ریاست کے نظام کو تبدیل کر کے کیوبا کے شہریوں کی سابقہ پست حالی میں جو انقلابی تبدیلیاں کیں آئیے ان کا مختصر جائزہ لیں اور امریکی لبرل ریاست سے اس کا موازنہ کریں.

کیوبا کے بچوں کی صورتحال کیا ہے اس بارے میں کیوبا میں اقوامِ متحدہ کے بچوں کے تحفظ کے ادارے یونیسیف کے نمائندے جوز جوآن اورٹز کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں بچوں کے حقوق بری طرح سے پامال کیے جارہے ہیں لیکن کیوبا "بچوں کی جنت" ہے.

Thursday, 3 November 2016

ایک عراقی کہتا ہے

ہم دنیا کی سب سے بڑی اور مضبوط اقتصادی قوت ہوا کرتے تھے، ہمارے ایک دینار کی قیمت گیارہ سعودی ریال ہوا کرتی تھی، اس دھرتی پر سب سے بڑا تیل کا ذخیرہ ہمارا ذخیرہ ہوا کرتا تھا۔ ہم ہی دنیا کی سب سے بڑی متمدن تاریخ اور علمی ورثے کے مالک ہوا کرتے تھے۔ہم امن و سلامتی سے رہتے تھے، نعمتیں تھیں کہ دنیا بھر سے ہماری طرف کھینچی چلی آیا کرتی تھیں۔ کسی بھی عراقی کا پیدائشی حق تھا کہ جا کر حکومت سے مفت زرعی زمین کا ٹکڑا لیکر بینک سے بغیر کسی سود کے قرضہ اٹھائے اور اپنا روزگار بنا لے۔تعلیم کا تو قصہ ہی مختلف تھا، سب کے لیے لازمی ہوا کرتی تھی۔ جدھر دیکھو عمارتیں بنتی نظر آیا کرتی تھیں، ہمارے پاس دنیا جہان سے آ کر لوگ محنت و مزدوری کرتے تھے۔ صرف ایک ملک مصر سے ہی ہمارے پاس نوے لاکھ لوگ کما رہے تھے۔

ہماری ایران کے ساتھ چل رہی جنگ میں تو ہمیں اشد ضرورت تھی یہ غیر ملکی ملازمین ہمارے ملک کی اندرونی ضروریات کے لیےہمارے پاس موجود رہیں مگر جیسے ہی ہماری جنگ ختم ہوئی ہمیں ان میں سے بہت سوں کی ضرورت نا رہی۔

Sunday, 2 October 2016

یہ لوگ اس وقت تک

 جرمن فوج نے یکم ستمبر 1939ء کو پولینڈ پر حملہ کیا‘ یہ دوسری جنگ عظیم کا آغاز تھا‘ یہ حملہ ستمبر کمپیئن کہلاتا ہے۔  یہ کمپیئن ایک مہینہ چھ دن چلی‘ پولش فوج کی تعداد ساڑھے نو لاکھ تھی‘ جرمنی‘ سلواکیہ اور سوویت یونین کی بیس لاکھ فوج نے پولینڈ پر حملہ کر دیا‘ جارح فوج کو 4959توپوں‘ 4736 ٹینکوں اور 3300 جنگی طیاروں کی سپورٹ حاصل تھی‘ یہ آئے اور پولینڈ میں مہینے میں ایک لاکھ 99 ہزار 700 لاشیں بچھا دیں اور یوں آرٹ‘ کلچر اور موسیقی کا مرکز پولینڈ ایک مہینے میں راکھ کا ڈھیر بن گیا‘ ملک میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک لاشیں ہی لاشیں تھیں اور انھیں اٹھانے والا کوئی نہیں تھا‘ میں چھ بار پولینڈ گیا‘ میں جس شہر میں بھی گیا مجھے وہ وار میوزیم لگا‘ اس کی دیواروں پر 75 سال بعد بھی جنگ کے زخم تھے‘ آپ کو آج بھی وارسا اور کراکوف شہر کی گلیوں‘ بازاروں اور محلوں سے خون کی بو آتی ہے۔

جنگ کیا ہوتی ہے آپ پولینڈ کے لوگوں سے پوچھیں‘ یہ آپ کو بتائیں گے جنگیں ہوتی کیا ہیں اور انسان کو ان سے کیوں نفرت کرنی چاہیے‘ آپ پولینڈ نہیں جا سکتے تو آپ یورپ کے کسی شخص‘ کسی خاندان سے پوچھ لیں ’’جنگ کیا ہے؟‘‘ آپ اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھیں گے‘یورپ نے یکم ستمبر 1939ء سے دو ستمبر 1945ء تک مسلسل چھ سال جنگ بھگتی‘

Monday, 19 September 2016

تربور

ایسا ہر گز نہیں کہ وہ لوگ افغان دشمن ہیں جوپاکستان کی افغان پالیسی بناتے اور چلاتے ہیں اور اللہ گواہ ہے کہ مجھ جیسے طالب علم جو اس پالیسی کے ناقد ہیں، بھی بدنیت ہیں اور نہ پاکستان کے مفادات کے خلاف قول یا عمل کا سوچ سکتے ہیں ۔ وہ لوگ جو پاکستان کی روایتی افغان پالیسی کے بنانے والے ، چلانے والے یا پھر اس کے حامی ہیں ،حیران ہیں کہ افغانستان کے کسی قول یا عمل پر ہم جیسے لوگ اُس ردعمل کا مظاہرہ کیوں نہیں کرتے جو خود ان کی طرف سے سامنے آتا ہے اور ہم حیران ہیں کہ وہ لوگ افغانستان کی طرف سے کسی ایک بیان یا اقدام کے ردعمل میں اس انتہا تک کیوں چلے جاتے ہیں ۔

پاکستان کے پالیسی ساز یا ان کے ہمنوا شک کرتے ہیں کہ خدانخواستہ ہم جیسے ناقدین کو پاکستان سے زیادہ افغانستان کے مفادات عزیز ہیں یا پھرخاکم بدہن پاکستان کے مفادات ہمیں ان جتنے عزیز نہیں جبکہ دوسری طرف پاکستان کے پالیسی سازوں کے ناقدین کو شک ہونے لگا ہے کہ وہ جان بوجھ کر ایسی پالیسی بنارہے ہیں جو افغانستان کے مفادات کے خلاف تو ہے ہی ، پاکستان کے مفادات سے بھی

Friday, 19 August 2016

پاکستان میں کافکا کے قدیم مخطوطے کی شرح نو


کچھ دنوں سے فرانز کافکا کی کہانی ”ایک قدیم مخطوطہ“ مسلسل ذہن کے دریچوں پر دستک دے رہی ہے۔ جس کی ابتدا کچھ ان الفاظ سے ہوتی ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ ہمارے ملک کے دفاعی نظام میں بہت سی کوتاہیاں رہنے دی گئی ہیں۔ اب تک ہم نے اس معاملے سے کوئی سروکار نہیں رکھا اور اپنے روز مرہ کے کاموں میں لگے رہتے تھے۔ لیکن حال میں جو باتیں ہونے لگی ہیں انھوں نے ہمیں تنگ کرنا شروع کر دیا ہے   ۔۔ ایک قدیم مخطوطہ ۔۔ ( فرانز کافکا )
فرانز کافکا کی کہانیاں اپنے واضح اندازِ بیاں کے بوجود مفاہیم کے اعتبار سے بڑی حد تک مبہم ہیں۔ تاہم سوچنے والوں کے لئے معنی کے کئی در وا کر جاتی ہیں۔ کافکا کی یہ علامتی کہانی ایک ایسی ریاست کے حالات سے مشروط ہے جہاں باشندے اپنے ملک میں ہونے والے حادثات اور واقعات میں محض ایک تماشبین کا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ یہاں تک کہ ملک کی سلامتی کو در پیش وہ عفریت  ان کے اپنے دروازوں پر دستک دینا شروع کر دیتی ہے۔ کہانی میں موجود ملک کے عوام جو ایک طرف تو اس ماحول سے خوفزدہ ہیں تاہم دوسری طرف وہ اپنی زندگی کے معمولات میں یوں منہمک ہیں جیسے انھیں اب یہ سب دیکھنے کی عادت سی ہو گئی ہے۔

Friday, 10 June 2016

خارجہ پالیسی کی مابعدالطبیعات

امورِ خارجہ کو خوش اسلوبی سے نمٹانے کی تربیت کے بنیادی اصولوں کا جوہر یہ ہے کہ ،
      بڑے سلیقے سے میری نبھی محبت میں      تمام عمر   میں  ناکامیوں  سے   کام لیا
اور یہ کہ غصے کو ظاہر نہیں ہونے دینا۔آ بھی رہا ہو تو مدِ مقابل کے روبرو تحمل کی اداکاری کرنا تاکہ وہ آپ کی اس جبلی کمزوری کو اپنے لیے استعمال نہ کر سکے۔مدِ مقابل کی فطرت ، کارکردگی ، خوبی ، خرابی ، کمزوری اور طاقت کے بارے میں بنیادی معلومات رکھنا ۔کیمرہ دیکھتے ہی فوری رائے یا ردِ عمل کی خواہش کو دبا کے رکھنا۔کسی بھی پیش رفت ، خبر ، کامیابی و ناکامی کو پہلے ہضم کرنا ، پھر تمام ضروری پہلوؤں کا جائزہ لینا اور پھر اس کام کے ماہرین کے ذریعے نپا تلا ردِعمل یا رائے دینا۔الفاظ کا چناؤ یوں کرنا کہ کل کلاں وہ آپ کے خلاف استعمال نہ ہو جائیں۔ڈپلومیسی کا بنیادی مقصد ریاستی اہداف و فوائد کو بلا تشدد حاصل کرنا ہے۔حریف کو اگر رام نہ کیا جا سکے تو اس کی عداوت کو ٹھنڈا رکھنے کی مسلسل کوشش کرنا ہے۔ناکام ڈپلومیسی وہ ہے جس کے برتنے سے دوست بھی اگر دشمن نہ سہی تو لاتعلق ضرور بن جائے۔

Sunday, 1 May 2016

محنت کش اور یوم محنت


دنیا کے سبھی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ہر سال یکم مئی کو مزدوروں کا عالمی دن بڑے زور و شور سے منایا جاتا ہے۔ انتہائی سخت گیر آمریتوں کو چھوڑ کر دنیا کے سبھی ممالک میں ہر صنعتی شعبے میں مزدور تنظیمیں بھی موجود ہیں۔ عالمی سطح پر مزدوروں کی اجرتوں اور حالاتِ کار کے حوالے سے مقامی اور بین الاقوامی قوانین اور معیارات بھی موجود ہیں۔ دوسرے لفظوں میں محنت کشوں کے حقوق عالمی ضمیر کا ایک مستقل اور غیر متنازع حصہ بن چکے ہیں۔ اس کے باوجود اس امر کی ضرورت باقی ہے کہ مزدوروں کے حقوق میں کار فرما اصولوں کو سمجھا جائے، مزدوروں کی جدوجہد کے پس منظر سے آگہی پیدا کی جائے تاکہ آئندہ منزلوں کا درست تعین کیا جا سکے۔


عالمی تاریخ انسانی استحصال کی مختلف صورتوں کی کہانی ہے۔ رنگ و نسل کی بنیاد پر افراد اور قوموں کا استحصال، جنس کی بنیاد پر عورت کا استحصال، مذہب کے نام پرآزادی فکر کا استحصال، کم علمی اور نام نہاد اخلاقی تعصبات کی آڑ میں انسانوں کا جنسی استحصال‘جنگ کے

Wednesday, 6 April 2016

یاالٰہی مرگِ یوسف کی خبر سچی نہ ہو

ٹی ایس ایلیٹ نے لکھا کہ ”اپریل ظالم ترین مہینہ ہے“۔ فیض صاحب نے بھی کہا تھا، ”پھول کھلتے ہیں ان مہینوں میں“۔ اس ظالم مہینے میں بھی ایک تاریخ خاص طور سے ظالم ہے۔ اپریل کی چار تاریخ کو کھلنے والے پھولوں میں لہو کا رنگ اور ظلم کی بو کیوں ہوتی ہے؟

اپریل کی چار تاریخ اور 1968 کا سال۔ امریکہ کے شہر میمفس میں پچھلی رات طوفان گھِر کے آیا تھا۔ باہر سڑک پر تیز ہوا کے جھکڑ دیواروں سے سر پٹک رہے تھے۔ پانی کی بوندیں چھتوں پر جلترنگ بجا رہی تھیں۔ میسن چرچ کے بڑے ہال میں مارٹن لوتھر کنگ جذبوں کی آنچ میں سلگتے لفظوں کے انگارے اگل رہا تھا۔ انجیل کے سادہ مگر معجزے کی حد تک پراثر استعاروں میں گندھی ہوئی زبان، چھوٹے چھوٹے جملوں میں ایسے نشتر پروئے تھے کہ تین ہزار کا مجمع تڑپ تڑپ اٹھتا تھا۔ آبشار جیسی رواں خطابت میں آگے بڑھنے کی للکار بھی تھی، راہ کی مشکلات کی خبر بھی اور پہاڑی کے پار س کھ کے گاؤں تک پہنچنے کی نوید بھی۔ اس رات مارٹن لوتھرکنگ کے لب و لہجے میں استقلال اور گہرے اندوہ کا عجیب امتزاج