Friday, 23 July 2010

12 اقدام کا نظام



12 اقدام کا نظام
بارہ اقدام کا یہ نظام آپ کو سکھائے گا کہ آپ کو موثر طریقے سے اپنے اہداف کیسے حاصل کرنا ہیں۔ اس طریقے کو ہزاروں لوگوں نے اپنایا اور مثبت نتائج حاصل کئے ہیں۔ اس طریقے سے آپ کی ذہنی صلاحیتیں نکھر جائیں گی کیونکہ ذہنی قانون کا کہنا ہے کہ آپ کے خیالات آ پ کے ذہن کے حقائق کو اسی وقت ظاہر کرتے ہیں جب آپ اپنے مقصد سے مخلص ہوں:
 پہلا قدم: اپنی خواہش کو شدید کیجیے۔ شدید خواہش آپ کے مقصد کو حاصل کرنے کے محرک کو طاقتور کرتی ہے اس طرح آپ تمام قسم کے خوف پر قابو پا لیتے ہیں کیونکہ خوف کامیابی حاصل کرنے میں بہت بڑی رکاوٹ ہوتا ہے۔ خوف کی وجہ سے آپ اپنے آپ کو سستا بیچ دیتے ہیں لیکن شدید خواہش ہر قسم کے خوف پر قابو پا لیتی ہے۔ جب آپ اپنے لیے کوئی چیز حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس طرح آپ کافی حد تک خود غرض ہو جاتے ہیں اور یہ خود غرضی آپ کے اندر مقاصدحاصل کرنے کی خواہش کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ آپ زندگی میں حقیقی طور پر کیا کرنا چاہتے ہیں۔ آپ زندگی کے مخصوص حصے میں محسوس کرتے ہیں کہ آپ کو اپنا مقصد حاصل کرنے میں کوئی ناکامی نہ ہوگی۔
دوسرا قدم: اپنے یقین کو پختہ کریں۔ جب آپ کا لاشعوری ذہن کام کر رہا ہوتا ہے تو آپ کی لاشعوری صلاحیتیں بھی بڑھ جاتی ہیں اس طرح آپ مکمل یقین رکھتے ہیں کہ آپ اپنا مقصد حاصل کر لیں گے اس کے علاوہ آپ کو یقین رکھنا چاہیے کہ آپ اس مقصد کو حاصل کرنے کے حقدار ہیں۔ 

تیسرا قدم: اپنے اہداف کو کاغذ پر لکھ لیں آپ اپنے زندگی کے جن اہداف کو لکھ لیں گے ان پر آپ یقینی طور پر کامیابی حاصل کر لیں گے لیکن جن اہداف کو آپ نہ لکھیں گے ان کے لیے کامیابی کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ صرف خواہش ہدف حاصل کرنے کی طاقت نہیں رکھتی بلکہ اس میں اور بھی کئی محرکات شامل ہوتے ہیں۔ جب آپ اپنے ہدف کو لکھ لیں گے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ آپ اس ہدف کو حاصل کرنا چاہتے ہیں اس کے بعد اس ہدف کو حاصل کرنے کی صلاحیتیں بھی آپ کے اندر بیدار ہونا شروع ہو جائیں گی۔ بہت سے لوگ اپنے اہداف کو کاغذ پر نہیں لکھتے کیونکہ ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے اہداف کو حاصل نہیں کر سکتے اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ان کو ہم کاغذ پر لکھ لیں گے تو کونسا ہم نے اس کو حاصل کر لینا ہے دراصل ایسے لوگ اپنی مایوسیوں کے تحفظ کے لیے ایسا کہتے ہیں لیکن جب آپ کی زندگی منظم ہوگی تو پھر آپ کو مایوسی بھی نہ ہوگی اور کاغذ پر لکھے ہوئے آپ کے اہداف بار بار دہرانے سے ایک دن عملی شکل ضرور اختیار کریں گے۔
چوتھا قدم: اپنا ہدف حاصل کرنے کے لیے آپ کے پاس جو بھی ذرائع ہیں ان کی ایک فہرست بنائیں کیونکہ آپ کو ہدف حاصل کرنے کے لیے کئی قسم کے وسائل کی ضرورت ہوگی۔ جب آپ کے پاس ذرائع کی فہرست ہوگی تو اس سے آپ کو تسلی ہو جائے گی کہ آپ اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ان ذرائع کو استعمال کر سکتے ہیں۔ ایک دفعہ ایک نوجوان سقراط کے پاس گیا اور اس سے پوچھا کہ میں عقل کیسے حاصل کر سکتا ہوں۔ سقراط نوجوان کو قریبی جھیل کی طرف لے گیا اور اس نوجوان کو کہا کہ میرے ساتھ گہرے پانی میں چلو جب وہ گہرے پانی میں چلے گئے تو سقراط نے نوجوان کا سرپورے زور سے پانی میں ڈبو دیا۔ پہلے تو نوجوان مذاق سمجھتا رہا اور اس نے کوئی مزاحمت نہ کی لیکن جب نوجوان کا دم گھٹنے لگا تو وہ پوری قوت سے سقراط کی گرفت سے آزاد ہو کر پانی سے باہر آگیا۔ نوجوان نے ہانپتے ہوئے پوچھا یہ آپ نے میرے ساتھ کیا کیا۔ سقراط نے کہا کہ جس طرح تم نے زندہ رہنے کے لیے سخت جدوجہد کی بالکل اس طرح عقل حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرو۔ دراصل جب آدمی کے اندر شدید خواہش ہوتی ہے تو وہ زیادہ کوشش اور جدوجہد کرتا ہے۔
پانچواں قدم: اپنی حیثیت کا تجزیہ کرو۔ مثلاً اگر آپ فیصلہ کریں کہ آپ نے وزن کم کرنا ہے تو آپ اس کے متعلقہ اقدامات کریں گے۔ اگر آپ فیصلہ کریں کہ آپ کو دولت حاصل کرنی ہے تو پھر آپ دولت حاصل کرنے کے لیے اقدامات کریں گے۔ تو اس کے لیے آپ کو اپنی ذات کا تجزیہ کرنا ہوگا کہ آپ کے اندر کس قدر صلاحیتیں، توانائی اور جدوجہد کرنے کا جذبہ ہے۔ اس تجزیے سے آپ کو ایک بنیادی فیصلہ کرنے میں سہولت رہے گی اور جب آپ اپنی ذات کا صحیح تجزیہ کر لیں گے تو اس کے مطابق اپنے ہدف کو بھی ضرور حاصل کرلیں گے۔
چھٹا قدم: اپنے ہدف کے لیے ایک خاص وقت مقرر کریں۔ جب آپ ایک مخصوص وقت مقرر کر لیں گے تو پھر آپ کے ذہن کے اندر ایک منصوبہ تشکیل پائے گا اور اس منصوبے کے مطابق آپ کا لاشعوری ذہن توانائی مہیا کرے گا۔
 ساتواں قدم: آپ کو اپنا ہدف حاصل کرنے میں جن متوقع مشکلات کا سامنا ہے ان کی ایک فہرست بنائیں۔ ایسی فہرست بنانے سے آپ کی کامیابی کے امکانات زیادہ بڑھ جائیں گے کیونکہ جب آپ مشکلات کی نشاندہی کر لیں گے تو پھر ان مشکلات کے حل بھی آپ کو مل جائیں گے۔ آپ کی مشکلات زیادہ تر خارجی ہوتی ہیں۔ یہ مشکلات غلط رویے اور غلط تعلقات کی بناء پر پیش آتی ہیں۔ یعنی یہ مشکلات حقیقی نہیں ہوتیں اور خارجی مشکلات پر قابو پانے کے لیے آپ کو اپنے رویے کو مثبت کرنا ہوگا۔
 آٹھواں قدم: آپ کو اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے جن معلومات کی ضرورت ہے وہ حاصل کریں۔ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس معاشرے کے حوالے سے تمام قسم کی معلومات کا ہونا ضروری ہے۔ ہاں اگر آپ کو اپنا ہدف حاصل کرنے کے لیے کسی خاص ہنر کی ضرورت ہے تو وہ ضرور سیکھیں۔
نواں قدم: ان لوگوں کی ایک فہرست بنائیں جو آپ کے ہدف حاصل کرنے میں آپ کے معاون ہو سکتے ہیں۔ اس فہرست میں آپ کے خاندان کے افراد کے نام بھی ہو سکتے ہیں۔ آپ کے گاہکوں کے نام بھی ہو سکتے ہیں۔ آپ کے کاروباری شراکت داروں کے نام بھی ہو سکتے ہیں اور آپ کے خاص دوستوں کے نام بھی ہو سکتے ہیں یقینا یہ لوگ آپ کے ہدف حاصل کرنے میں آپ کی مدد بھی کریں گے۔
 دسواں قدم: منصوبہ بنائیں۔ آپ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں اس کو تفصیلی طور پر کاغذ پر لکھیں اور پھر سوچیں کہ آپ کو اس منصوبے پر کہاں سے کام شروع کرنا ہے۔ دراصل ایک منصوبہ ان سرگرمیوں کی فہرست ہوتی ہے جس کو وقت کے لحاظ سے مرحلہ وار کرنا ہوتا ہے۔ منصوبے میں کچھ ایسے کام بھی ہوتے ہیں جن کو ترجیحی بنیادوں پر کرنا ہوتا ہے اس لیے منصوبہ کسی ہدف کی کامیابی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
 گیارہواں قدم: اپنے تصور کو استعمال کریں۔ آپ اپنے ہدف کے بارے میں اپنے ذہن میں ایک مکمل اور واضح تصور لائیں اور اس تصور کو بار بار اپنے خیالات میں دہرائیں تو پھر آپ کے ذہن پر آپ کے منصوبے کی مکمل اور واضح تصویر ثبت ہو جائے گی۔ آپ کا لاشعوری ذہن اس تصویر کو حقیقی رنگ دینے کے لیے متحرک ہو جائے گا اور اس طرح آپ کا منصوبہ ہر صورت میں کامیابی سے ہمکنار ہوگا۔
بارہواں قدم: فیصلہ کریں کہ آپ اپنے منصوبے کو کبھی ادھورا نہیں چھوڑیں گے۔ بعض اوقات اہداف اور منصوبے اس لیے پورے نہیں ہوتے کہ لوگوں میں اعتماد کی کمی ہوتی ہے لیکن جو لوگ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ انہیں ہر صورت میں منصوبے کو مکمل کرنا ہے تو بہت سی نادیدہ طاقتیں اس بااعتماد شخص کے ساتھ شامل ہو جاتی ہیں اور کئی ایسے مواقع اور ممکنات پیدا کر دیتی ہیں جن سے منصوبہ کامیاب ہو جاتا ہے۔
 ( کتاب ’’اعلیٰ کامیابی کا حصول‘‘ سے ماخوذ)

No comments:

Post a Comment