Thursday, 24 March 2011

قوم کے بارے میں خلیل جبران کے افکار

*قابل رحم ہے وہ قوم جو عقائد کی دولت وافر مقدار میں‌رکھتی ہو مگر دین کے بتائے ہوئے راستے پر نہ چلتی ہو۔ 
*قابل ہمدردی ہے وہ قوم جو وہ کپڑا پہنے جو اس نے خود نہ بنا ہو،وہ غلہ کھائے جو اسنے خود نہیں اگایا ہو اور جو شدید ہیجان سے خواب میں نفرت کرے لیکن بیداری کی حالت میں اسکے آگے سر جھکا دے۔ 
*قابل نفریں ہے وہ قوم جو غرور اور تفاخر کی باتیں اپنی تباہی کے ویرانوں میں‌بیٹھ کر کرنے کی ہمت کا مظاہرہ کرے اور ظالم کا گریبان پکڑنے پر اسوقت تک آمادہ نہ ہو جب تک اسکی گردن تلوار اور گھوڑی کے بیچ میں‌نہ آجائے۔ 
* ہمدردی کے لائق ہے وہ قوم جسکا راہنما لومڑی کی خصوصیات رکھتا ہو جسکا فلسفی شعبدہ باز ہو اور خود صرف نقالی اور پیوندکاری کا ہنر جانتا ہو۔ 
*افسوس اس قوم پر جو آنے والے نئے حاکم کا استقبال ڈھول باجوں‌سے کرے اور مذاق و تمسخر کے نعروں سے اسے رخصت کرے تاکہ آنے والے نئے حاکم کو ڈھول باجوں سے خوش آمدید کہا جا سکے۔ 
*رحم کی متقاضی ہے وہ قوم جو حصوں ،ٹکڑوں میں بٹی ہو اور ہر ٹکڑا اپنے آپ کو ایک علیحدہ قوم سمجھتا ہو۔

No comments:

Post a Comment