Tuesday, 19 February 2013

روح پشتون


ان پہاڑوں کے درمیاں پانی تو پہلے بھی گذرتا تھا۔ وہ پانی جس کا ردم خٹک رقص کی طرح ہوا کرتا تھا۔بل کھاتا۔ گول دائرہ بناتا۔ ایک ہاتھ میں رومال اور ایک ہاتھ میں تلوار لہراتا ہوا وہ سفر اختتام پذیر ہوا۔ اب دریائے سندھ اٹک پل سے اک نئی دھن میں گذرتا ہے۔وہ دھن جس پر پہاڑوں پر کھڑے بلند پیڑ نہیں جھومتے۔
اب اس پانی کا بہاؤ ایسا ہے کہ بوڑھے پہاڑوں کو غصہ آجاتا ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ پتھر نرم کیوں ہوگئے ہیں؟دریا کے جسم میں تو وہی تیزی ہے مگر اس کے روح کی تغیانی کم کیوں ہوگئی ہے؟ بادلوں کی وہ بغاوت کہاں گئی جس کی وجہ سے وہ شیروں کی مانند دھاڑتے تھے۔ اب کوندتی بجلی کے بعد ایک چیخ کیوں سنائی دیتی ہے؟
قرت العین حیدر کے کسی ناول کی انتہا جیسے یہ الفاظ کس قدر تلخ ہیں کہ ’’اب دنیا کس قدر بدل گئی ہے؟اب یونان کے قدیم فلسفی ہیراکلیٹس کی یہ بات سچ ثابت ہوگئی ہے کہ آپ ایک ندی میں دوبار پیر نہیں ڈال سکتے‘‘۔ مگر کبھی ایسا نہیں تھا۔ کبھی ان پہاڑوں کے درمیاں جو ندیاں بہتی تھیں ؛ ان کے پانی میں آپ دو بار تو کیا دس بار بھی پاؤں ڈبوئیں تو آپ کو وہی پانی مسیر ہوتا تھا۔کبھی یہ پانی اسی روح اسی رفتار سے بہا کرتا تھا۔وقت اور حالات اس پانی کو تبدیل نہیں کرپائے ۔
مگر اب حالات مختلف ہیں۔ کبھی یہ پہاڑی دیس گمنام سپاہی جیسا تھا مگر اب اس کو نام بھی مل گیا لیکن اس کا کردارکس قدر تبدیل ہوگیا ہے؟بات اس خوشحال خان خٹک نہیں جس کی طرف سے وصیعت رقم ہوئے علامہ اقبال نے لکھا تھا کہ:


’’قبائل ہوں ملت کی وحدت میں گم
کہ ہو نام افغانیوں کا بلند
محبت مجھے ان جوانوں سے ہیں
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
مغل سے کسی طرح کمتر نہیں
قہستاں کا یہ بچہ ارجمند
کہوں تم سے اے ہمنشیں دل کی بات
وہ مدفن ہے خوشحال خاں کو پسند
اڑا کر نہ لائے جہاں باد کوہ
مغل شہسواروں کی گردِ سمند‘‘
اب تو اس دیس میں وہ شخص بھی نہیں جو اپنے مخصوص انداز کے ساتھ بغاوت کی پرامن تصویر بن کر ابھرا تھا قوس قزح کی طرح!
بلند قد اور بڑے دل والا وہ شخص جو چھوٹی چھوٹی باتوں کا بہت خیال رکھتا تھا۔جو سادہ کھاتا تھا۔ سادہ پہنتا تھا۔ سادہ سی بات کرتا تھا۔مگر جب تک وہ خیمہ افلاک کے نیچے سانس لیتا تھا تب تک پہاڑوں کو کوئی پروا نہیں تھی۔
کہاں ہے اب وہ باچا خان؟ جس نے پوری زندگی اس ولی خان کی سیاست کو سپورٹ نہیں کیا جو ولی خان جن کی مدفن پر فیض احمد فیض کا یہ شکایتی شعر کندہ کیا جانا چاہئیے کہ:
’’ہم سہل پسند کون سے فرہاد تھے لیکن
اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے؟‘‘
مگر باچا خان کی بات اور تھی۔ وہ فرہاد تھے۔ ان کا تیشہ وہ لاٹھی تھی جس کو ہاتھ لیکر انہوں نے اپنے دیس کے سارے پہاڑ عبور کیے۔ اور اس دور میں جس دور میں میڈیا نہیں تھا۔ اس دور میں باچا خان نے ایک لاکھ سے زیادہ خدائی خدمت گار اکٹھے کیے۔وہ سرخ پوش لوگ جو جدید فکر کے ساتھ ’’پشتون ولی‘‘ کی قدیم راہ پر چلا کرتے تھے۔
اب وہ لوگ کہاں ہیں؟وہ لوگ جن کی وجہ سے پہاڑ سربلند تھے اور دریا مستی میں بہا کرتے تھے۔ ان لوگوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر احترام کے ساتھ! کیوں کہ وہ لوگ دھن کا نہیں بلکہ اپنے من کا پیچھا کرنے والے لوگ تھے۔ وہ لوگ جن کے بارے میں کازانت زاکس کے یہ الفاظ لکھے جا سکتے ہیں کہ ’’مجھے نہ ڈر ہے نہ لالچ؛ میں آزاد ہوں‘‘ ہم باچا خان سے اختلاف رکھ سکتے ہیں مگر اس اعتراف کے ساتھ کہ وہ ایسے شخص تھے جو مرزا غالب کے اس شعر کی عملی صورت تھے کہ:
’’حق مغفرت کرے؛ عجب آزاد مرد تھا‘‘
باچا خان عجیب بھی تھے اور عظیم بھی تھے۔ ان کی زندگی کا بڑا عرصہ قید میں اس لیے گذرا کیوں کہ وہ آزاد انسان تھے۔ وہ شخص جو زنجیروں میں بھی آزاد تھے؛ ان کا موازنہ ان لوگوں سے کیسے ہوسکتا ہے جو کرسیوں پر بیٹھ کر بھی قیدی نظر آتے ہیں۔وہ شخص اب خیبر پختون خواہ ں میں نہیں جنہوں نے پوری ایک صدی قبل یعنی 1915 میں پہلی بار مسجد اسکول قائم کیے تھے۔ وہ مسجد اسکول جن پر برطانوی حکومت نے پابندی عائد کی تھی۔ا نہیں معلوم تھا کہ قوموں کو دولت نہیں بلکہ داناہی اہم ہوا کرتی ہے۔ وہ جانتے تھے کہ اگر پشتونوں کو تعلیم حاصل ہوگئی تو خیبر پختون خواہ کا ہر پتھر پارس بن جائے گا۔ اس لیے انہوں نے نہ صرف لڑکوں بلکہ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے اس قبائلی معاشرے کو قائل کیا جس سے بات کرنا اپنا سر پتھر سے ٹکرانے کے برابر تھا۔ مگر باچا خان اپنا سر پتھر وں سے ٹکراتے رہے اور پھر پتھروں سے علم اور عرفان کے آبشار پھوٹ کر نکلے۔
جب سقراط زہر کا پیالہ پی چکے تب اس کے شاگرد نے ان سے پوچھا تھا کہ ’’استاد محترم! آپ کی آخری رسومات کس طرح ادا کی جائیں؟‘‘ سقراط نے اپنی موندی ہوئی آنکھیں کھولیں اور کچھ حیرت اور کچھ غصہ سے بولے ’’میری آخری رسومات۔۔۔۔!؟ کریٹو الفاظ کا غلط استعمال سب سے بڑا جرم ہے‘‘ سقراط کی یہ بات مجھے اس وقت شدت سے یاد آتی تھی اور یاد آتی ہے جب جدیدیت کے کچے رنگ میں رنگے ہوئے پشتون سیاستدان اور دانشور کہتے ہیں کہ ’’باچا خان کا نظریہ قابل عمل نہیں ہے‘‘ ان کی اس بات سے صاف طور پر یہ مطلب نکلتا ہے کہ باچا خان کا نظریہ غلط ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اب پشتون رہنماؤں میں وہ محنت؛ وہ لگن اور وہ جذبہ باقی نہیں رہا جس کے بغیر اس نظریہ پر عمل نہیں ہوسکتا۔کہاں ہے وہ سچائی؟ کہاں ہے وہ جستجو؟ جس سے تاریکی میں ڈوبے ہوئے پہاڑ روشن ہوسکتے ہیں!!
اور باچا خان کا نظریہ کیا ہے؟باچا خان کانظریہ ’’خٹک رقص‘‘ جیسا تھا۔اس نظریہ کو ان سادہ اور سریلے الفاظ میں پیش کیا جا سکتا ہے کہ:
’’اک ہاتھ میں رومال ہے
اک ہاتھ میں تلوار
پشتون کا کردار
جو پیار کرے ؛ پیار کرو
وار کرے وار
پشتوں کا کردار‘‘
مگر اب پشتون سیاست اپنے تاریخی اور تہذیبی توازن کو فراموش کر چکی ہے۔ اب یا تو اس کے ہاتھ میں طالبان کی تلوار ہے یا تحریک انصاف کا رومال!!
اس تلوار اور اس رومال کے درمیاں بہت بڑا فاصلہ ہے۔ اس لیے پشتونوالی کی تاریخی وجود کو تلوار والے بھی زخمی کر رہے ہیں اور ان ثقافتی سرحدوں کو رومال والے بھی روند رہے ہیں۔ان دو انتہاؤں کے درمیاں ایک بہت بڑی اکثریت بیحد دکھی ہے۔یہ باچا خان کی محنت تھی جس کی وجہ سے آج ہر پشتون کی نظر میں علم کا رتبہ بہت بلند ہے۔ اس لیے جب سیاسی مفادات کے لیے سفاکی کا راستہ اختیار کرنے والے درندہ صفت لوگ اسکول میں داخل ہوکر معصوم طالب علموں پر گولیاں چلاتے ہیں اور معلموں کو زندہ جلاتے ہیں تو پختون خوا کے پہاڑ ایک چیخ بن جاتے ہیں۔
اور جب قوم کے رہنما ڈی چوک پر ناچتے اور نچاتے ہیں تو وہ سنجیدگی سہم کر اداس ہوجاتی ہے جس کا ہاتھ غیرت کے ہاتھ سے چھوٹتا جا رہا ہے اور پشتونوں کا ساتھ اس تاریخ سے ٹوٹتا جا رہا ہے جس کے بارے میں رسول حمزاتوف نے اپنی مشہور کتاب ’’میرا داغستان‘‘ میں لکھا ہے ’’اگر تم تاریخ پر گولی چلاؤ گے تو مستقبل تم کو توپ سے اڑا دے گا‘‘
ہر قوم کی ایک روح ہوا کرتی ہے۔ پشتونوں کی بھی ایک روح ہے۔ جو کبھی سمجھ اور سنجیدگی کا سنگم تھی۔جو محبت اور محنت کا مرکب تھی۔ جس نے یہ بات اپنی لمبی قمیص کے کونے سے تعویذ کی طرح باندھ لی تھی کہ ’’خدمت کے جذبے سے کی جانے والی سیاست عبادت ہوا کرتی ہے‘‘ مگر پشتون روح نے لباس بدلا تو وہ نصیحت والا رقعہ کہیں گم ہوگیا۔ اب پشتون سیاست کے پاس وہ نقشہ نہیں جو منزل کا پتہ دیتا ہے۔ آج پشتون ترقی کے راستوں پر بھٹک رہے ہیں۔جب قوموں کا تاریخ سے رشتہ منقطع ہوجاتا ہے تو وہ بھول کی دھول بن جاتی ہیں۔
کل روح پشتوں ایک عقاب تھا مگرآج پشتون روح اس معصوم پرندے جیسا ہے جو توپ کے نال میں اپنا آشیانہ بناتا ہے اور اس بات کو فراموش کر چکا ہے کہ اگر توپ چلی تو اس کے آشیانے کا کیا ہوگا؟
چند روز قبل جب چند لوگ باچا خان کی برسی منانے کے لیے جلال آباد جا رہے تھے تب تاریخ اپنی آنکھوں کی کمان سے اس طعنے کی تیر برسا رہی تھی کہ ’’منزل ہے کہاں تیری ؟ اے لالہ صحرائی؟‘‘ اور جب سرخ پوش تحریک چلانے والے باچا خان کی مذار پر انہوں نے سرخ چادر ڈالی تب پہاڑی چوٹیوں کو یہ سوچ کر بہت افسوس ہوا کہ اس سرخی کی ضرورت تو اس روح پشتون کو ہے جس کا رخ زرد ہوا چکا ہے۔جو بھول گیا ہے کہ وہ جسم کی ترقی روح کی تنزلی کا باعث بنے تو یہ سودا مہنگا ہوا کرتا ہے۔
آج عوامی نیشنل پارٹی ایک لالٹین ہے جس میں تیل نہیں اور جس کا شیشہ ٹوٹ چکا ہے۔ اور یہ لالٹین اٹھا کر برفانی طوفان میں لوسی گرے جیسی روح پشتون سفر نہیں کرسکتی۔ باچا خان نے اس روح پشتون کے ہاتھ میں گرم سورج دیا تھا اور اے این پی نے اس سورج کو بیچ کر ایک ایسا لالٹین خریدا جو اس تاریکی کا مقابلہ نہیں کرسکتا جواقتدار کی رم جھم روشنیوں میں مایوسی کے ساتھ بجھ گیا ہے۔ اس لالٹین کی لواب کہیں نہیں۔ وہ پوسٹرس جن پر یہ لالٹین چھپا ہوتا تھا وہ بھی بارش میں بھیگ کر اتر گئے۔اب دیواروں پر موسم سرما کے افسوس سے بھرے ہوئے آنسو ہیں۔
آج پشتون قوم سیاسی قبائل کا ایک منتشر ہجوم ہے۔ اس کا کوئی قائد نہیں۔ یہ ایک ایسا کارواں جس کا کوئی میر نہیں۔یہ بھول چکی ہے اس رہنما کو جس کی نگاہ بلنداور سخن دلنواز تھے۔اب اس کے پاس وہ قائد نہیں جو شہباز تھا۔ جس کے پر سنگلاخ چٹانوں پر سایہ کرتے تھے۔جو تماشہ دکھانے والا بنجارہ نہیں بلکہ آبشار کی طرح بلندی سے نیچے اتر کر صحراؤں کو سیراب کرتا تھا۔جو ایک شیر تھا جس کی خاموش بھی جنگل میں گونجا کرتی تھی۔
آج پشتونوں جس شخص کو اپنا لیڈر بنایا ہے وہ باچا خان کے شاعر اور آرٹسٹ بیٹے غنی خان کے الفاظ میں کوے کی چونچ اور سانپ کی زبان والا ہے۔گشتی دل اور خچر کی ضد والے ایسے لیڈر تو کسی بھی کمہار کے ساتھ دوستی کرکے دن میں دس تیار کروائے جاسکتے ہیں۔
کیا یہ لیڈر پہاڑوں کے بیٹے بن سکتے ہیں؟
یہ سوال پوچھ رہا ہے وہ روح پشتون جو بلند پہاڑوں پر اڑتے ہوئے یونان کے عظیم ناول نگار کازانت زاکس کی اس تحریر کا عکس پیش کر رہا ہے کہ:
’’شاہین اپنے آشیانے کی طرف لوٹ رہا ہے
کتنی دیر اس نے جلتے ہوئے پہاڑوں کو اپنے پروں کا سایہ فراہم کیا
کتنا وقت اس نے سورج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی نفرت کا اظہار کیا
اس نے اپنے پنجوں سے کتنے سانپوں کو چیر کر پھینک دیا
اس عرصے میں اسے یاد بھی نہیں تھا کہ اس کا کوئی آشیانہ بھی ہے
شاہین بوڑھے نہیں ہوتے اور نہ وہ تھکتے ہیں
یہ الگ بات ہے کہ اب شام ہو رہی ہے
اور شاہین اپنے آشیانے کی طرف لوٹ رہا ہے
ایک وحشی چیخ کے ساتھ!!‘‘


از ۔ اعجاز منگی 

No comments:

Post a Comment