Sunday, 13 July 2014

ملالہ و قلوپطرہ

مغرب اپنی لاڈو ملالہ جی پر اربوں ڈالرز کی انوسٹمنٹ کر رہا ھے۔
یہ حقیقت بھی کسی عجوبہء الف لیلی سے کم نہیں کہ اوبامہ اور میڈونا کی لاڈلی ملالہ بھی
وزیر اعظم بنکر پاکستان کی ملکہ قلوپطرہ بننے کے خواب دیکھ رہی ہے۔
یاد رہے کہ مصر کے تاریخی تخت فرعون کی آخری حکمران، ملکہ ء حسن و شباب، عیار و فتین
قلوپطرہ نے بھی اپنے اصل سیاسی سفر اور رنگین و نمکین معاشقوں کا ہوش ربا آغاز، اسی
سولہ برس کی بالی عمر
میں ہی کیا تھا۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ تاریخ خود کو دہراتی رہتی ہے،
سو انتظار کیجئے کہ کسی ماڈرن قلوپطرہ کی جدید داستانِ حسن و عشق میں
جولیس سیزر، بروٹس، مارک انطونی، شہنشاہ آگسٹس اور جنرل آکٹیوین کون کون بنتا ہے۔۔
دیکھتے رہیئے کہ تاریخ موت کا پھندہ کس کس کے گلے میں ڈالتی ہے ۔۔

(اقتباس  شدہ )

No comments:

Post a Comment