Wednesday, 20 August 2014

سیکولرصاب

یہ مسٹر ایکس وائی زیڈ عرف ” سیکولرصاب ” بھی عجب چوں چوں کا مربہ ہے کہ اس کے سو رنگ اور ہزار بدرنگ ہیں۔ 
یہ بڑے فخر سے خود کو سیکولر یعنی لا دین کہتا ہے لیکن کرسمس کے موقع پر گلے میں صلیب ڈالے گرجا اور دیوالی پر رام کا لاکٹ پہنے مندر یاترا بھی کرتا ہے۔ اسےسکھوں کے گوردوارے میں متھا ٹیکنے سے دلی سکون اور مہاتما بدھ کی مورتی کی قدم بوسی سے راحت ملتی ہے لیکن مسجد سے اس کا رشتہ بادشاہی مسجد سے صرف ایک فرلانگ دور شاہی محلے کے بازار حسن تک ہے۔ 
سیکولرازم تمام مذاہب سے لاتعلقی اور غیر جانبدار لادینت کا نام ہے لیکن یہ اسلام کے سوا باقی تمام مذاہب کے مذہبی پیشواؤں، رسوم و رواج اور عقیدوں کا بیحد احترام مگر صرف اسلام کے بارے ہرزہ سرائی کرتا ہے۔ اسے بابری مسجد شہید اور بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے ہندو امن گرد اور ان کیخلاف احتجاج کرنے والے مسلمان دہشت گرد لگتے ہیں۔ 
یہ بھارتی فلموں اور ڈراموں میں بتوں کی پوجا پاٹ پر باادب خاموش رہتا ہے۔ لیکن کسی پاکستانی فلم یا ڈرامے میں اذان کی آواز سے ہی اس کے کانوں میں جان لیوا کت کتاریاں ہوتی ہیں۔ یہ ماتھے پر تلک لگائے، رامائن تھامے مندر میں ہری اوم کا ورد کرے تو یہ اس کیلئے بین المذاہب اخوت کا مظہر ہے
  لیکن جب کوئی مسلمان مساجد میں ہونے والے مظالم اور قرآن و شریعت کی بات کرے تو یہ اسےعالمی امن کا دشمن قرار دیتا ہے۔ اس کے مطابق نصابی کتابوں میں صلاح الیدین ایوبی اور ٹیپو سلطان جیسے مجاہدین ملت پر مضامین دہشت گردی کا فروغ اور رچرڈ شیر دل یا ملکہ برطانیہ کی تعریف اعلی ظرفی ہے۔

 ( فاروق درویش )

No comments:

Post a Comment