Monday, 20 October 2014

پولیس، عدلیہ اور عوام

نادر شاہ درانی نے 1739ء میں ہندوستان پر حملہ کیا‘ دہلی فتح کیا اور شہر میں خون کی ندیاں بہا دیں‘ دہلی شہر میں نعشوں کا انبار لگ گیا‘ شہر کے ہر گھر سے دھواں اٹھنے لگا‘ خواتین کی عزتیں پامال ہوئیں اور دہلی والوں کا مال و متاع لوٹ لیا گیا‘ دہلی کے بہادروں نے جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے کا فیصلہ کیا۔
یہ لوگ اٹھے اور رات کے اندھیرے میں کوئلے سے دہلی کی دیواروں پر ’’مرگ بر ظالم لکھ دیا‘ نادر شاہ درانی نے یہ بدعا پڑھی تو جامع مسجد کے سامنے کھڑا ہو گیاقہقہہ لگایا‘ اپنے سپاہی بلائے اور اس فقرے کے نیچے لکھوا دیا ’’بعد ازاں مرگ مظلوم‘‘ نادر شاہ درانی کے کہنے کا مطلب تھا ’’ ظالم بھی مر جاتا ہے لیکن مظلوم ہمیشہ ظالم سے پہلے مرتا ہے‘‘ نادر شاہ چلا گیا مگر دنیا کو یہ حقیقت بتا گیا ’’مظلوم ظالم سے پہلے مرتا ہے‘‘ کیوں مرتا ہے؟ اس کا جواب دنیا کے کسی قانون‘ کسی آئین اور کسی عدالت کے پاس نہیں‘ عدالت خواہ قاتل کو سو بار پھانسی دے دے مگر مقتول زندہ نہیں ہو سکتا‘ وہ کبھی واپس نہیں آ سکتا۔
یہ وہ بنیادی نکتہ تھا جس نے پولیس کے ڈیپارٹمنٹ کی بنیاد رکھی‘ پولیس ڈیپارٹمنٹ مجرم کو
سزا دینے کے لیے نہیں بنایا گیا تھا‘ مظلوم کو مظلوم بننے سے روکنے کے لیے بنایا گیا تھا‘ سزا دینا عدالت کا کام ہوتا ہے اور عدالتیں پولیس ڈیپارٹمنٹ سے ہزاروں سال قبل بنائی گئی تھیں‘ یہ وجہ ہے پوری دنیا میں 15یا 1122 جیسے ادارے موجود ہیں‘ آپ ٹیلی فون کا ایک بٹن دباتے ہیں اور پولیس پانچ منٹ میں آپ کے دروازے پر پہنچ جاتی ہے جب کہ دنیا کے کسی ملک میں عدالت کے لیے ایمرجنسی کال سسٹم نہیں۔
عدالتیں ہمیشہ آہستہ کام کرتی ہیں اور پولیس فوراً‘     کیوں؟ کیونکہ عدالت مجرم کو سزا دیتی ہے جب کہ پولیس جرم روکتی ہے اور جرم روکنے کی اسپیڈ انصاف دینے والوں کی رفتار سے تیز ہونی چاہیے‘ ہمارے ملک میں یہ نظام مختلف ہے‘ ہمارے ملک میں پولیس ہو یا عدالت یہ جرم نہیں روکتی‘ یہ انصاف بھی نہیں دیتی‘ یہ صرف اور صرف مظلوموں میں اضافہ کرتی ہے‘ آپ کو میری بات پر یقین نہ آئے تو آپ اپنے دائیں بائیں دیکھ لیں‘ آپ کو اس ملک میں تاحد نظر مظلوم ہی مظلوم نظر آئیں گے‘ ان مظلوموں کا تعلق کسی ایک طبقے سے نہیں ہو گا‘ آپ اندازہ کیجیے جس ملک میں پولیس کے آئی جی انصاف مانگ رہے ہوں۔
چیف جسٹس سڑکوں پر دھکے کھا رہے ہوں اور جس میں ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت کا قائد کنٹینر پر کھڑا ہو کر سول نافرمانی‘ ہنڈی اور سرکاری بینکوں سے رقم نکالنے کا حکم دے رہا ہو اور جس میں ملک کا سابق صدر غداری کا مقدمہ بھگت رہا ہو اور جس ملک میں دو تہائی اکثریت کے حامل وزیراعظم کو وزیراعظم ہاؤس سے اٹھا کرہائی جیکنگ کی مقدمہ بنا دیا جاتا ہو اور جس میں محترمہ بے نظیر بھٹو جیسی لیڈر کو ’’ سیکیورٹی تھریٹ‘‘ قرار دے دیا گیا ہو اور جس میں آئی ایس آئی کے چیف کو ٹیلی ویژن اسکرین پر قاتل ڈکلیئر کر دیا گیا ہو اور جس میں الیکشن کمیشن کے ایک سابق ملازم کے ’’انکشافات‘‘ پر پورے الیکشن پراسیس کو دھاندلی ثابت کر دیا گیا ہو آپ کو اس ملک میں کہاں کہاں مظلوم نظر نہیں آئیں گے؟
یہ ملک‘ ملک کم اور مظلومستان زیادہ ہے اور اس مظلومستان میں عام لوگ پریشان پھر رہے ہیں۔

No comments:

Post a Comment