Tuesday, 30 December 2014

سوڈا واٹر بوتل کی ٹر ٹر


جس ملک میں معصوم بچوں کو اسلام کے نام پر ذبح کیا جائے.....جس ملک میں وزیر اجرتی قاتل پالیں....جس ملک میں قرآن پڑهانے والا قاری معصوم بچے کی عصمت دری کرے...جس ملک میں استاد معصوم بچیوں کی عصمت سے کهیلیے....جس ملک میں وزیر اعلی کے نام پر وزیر رشوت طلب کریں...جس ملک میں ادارے سیاست دانوں کی خرید و فروخت کریں...جس ملک میں وزیر منشیات کے اسمگلر هوں...جس ملک میں اسمبلی تک پہنچنے کے لیے کیا وڈیرے اور کیا مولوی جعلی ڈگریاں بنوائیں...جب ملک میں وفاقی وزیر حج کے نام پر رشوت کهائے....جس ملک میں چور جیل سے نکال کر وزیر بنا دیا جائے....جس ملک میں صحافی لینڈ مافیا کے لیے پیڈ پروگرام کرتے هوں...جس ملک میں طوائفیں سرکاری هیلی کاپٹروں سے سپلائی کی جاتی هوں...جس ملک میں وزیراعظم رهنے والا شخص ایک گوری صحافی کو "خصوصی دوستی" کی پیشکش کرتا هو.....جس ملک میں قومی کهلاڑی پیسے لے کر نو بال کراتے هوں.....جس ملک میں چیف جسٹس کا بیٹا مہینوں میں کروڑ پتی بنتا هو...جس ملک میں اسلام کے دعویدار سینکڑوں ایکڑ اراضی کوڑیوں کے مول الاٹ کروائیں....جس ملک میں اسلامی نظام کے بہت سے علمبردار راولپنڈی ایک غنڈے کے دسترخوان سے فیضیاب هوتے هوں...جس ملک میں سیاسی جماعتوں کے صوبائی صدور اغواء برائے تاوان کا دهنده کرتے هوں...جس ملک حلالے کے لیے اشتہار چهپتے هوں....جس ملک میں روزانہ پندره ارب روپے کی کرپشن هوتی هو......جس ملک میں مضاربت کے نام پر مفتیان کرام اربوں روپے لوٹتے هوں....جس ملک چوری کی گاڑیاں وزیراعلی کے گهر سے نکلتی هوں....



وهاں اس بات پر کیا حیرانی کہ زکریا شریف نے کہہ دیا کہ مجهے عمران خان سے چرس کی بو آ رهی تهی...یہ گندی سیاست هماری خمیر میں رچی بسی هے...ایک تصویر بنوانا ہضم نہیں هوا تو اگلے دن چرس کی بو برآمد کر دی گئی....محلوں میں رهنے والا ستره سالہ شہزادے کو چرس کی بو کپڑوں سے کیسے آ سکتی هے یہ سمجهنا کوئی راکٹ سائنس نہیں هے...یہ وهی بهڑک جس نے زرداری کو سڑکوں پر گهسیٹنا تها...جس نے روٹالوجی لاجک سے دهشت گرد پکڑنے تهے...جس کو یہ زعم هے کہ هم اخلاقیات کے ٹهیکیدار هیں بهلے ان کی منکوحہ بیویاں سڑکوں پر نکاح نامے لے لے گهومتی هوں......


هم بونے هیں..بونوں کی دیس میں رهتے هیں..... یہ جو روز سر شام ٹی وی سکرینوں پر ملک میں سیاسی انقلاب کے دنگل سجتے هیں یہ بقول مولانا بجلی گهر مرحوم کے سوڈا واٹر بوتل کی ٹر ٹر هے بس......اس لیے جو اهل دستار اپنے کهڑکدار شملوں سے برسوں فوجی بوٹوں کی چمکائی میں مصروف رهے هیں وه سفید کرتے پہن کر کانوں میں عطر ملا روئی کا پهویا رکه کر بدستور اسلام فروشی کا کاروبار جاری رکهیں....

اور قوم کے غم میں گهلنے والے جعلی روشن خیال دانشور کسی سفارت خانے سے اپنی خدمات کے عوض ملی هوئی سکاچ کی بوتل کهول کر پرانے پلے بوائے میگزین نکالیں اور پی ٹی اے کی پورن بندشی کو مولویانہ آرڈینینس قرار دے کر دو چار گالیاں دے کر دل کا بوجه هلکا کریں.....

باقی جو چهوٹے موٹے بلاتکاری هیں..وه بدستور دوده میں بالصفا پوڈر ملائیں...خون کو خشک کر کے کالا رنگ چڑها کر کالی پتی میں ملائیں...اینٹ پیس کے مصالحے میں ملائیں....مرده جانوروں کے گوشت کی بریانی بیچیں...دوانوں میں سیکرین کے انجکشن ٹهوکیں....گهروں میں گیس کمپریسر لگائیں...بجلی چوری کریں...ووٹ بچیں...مسلک مسلک کهیلیں..کافر کافر کهیلیں....فتوے بیچیں....

بس جمعہ کے جمعہ غسل فرما کر جمعہ پڑها کریں...اسلام بس آیا هی چاهتا هے....جونہی اسلام آ جائے گا سب کچه خود بخود ٹهیک هو جائے گا....

اور جو باقی بچ گئے هیں وه خاموش رهیں کیونکہ روس کے صدر خروشیف ایک بار جلسے میں تقریر کرتے هوئے اسٹالن کی برائیاں کر رها تها کہ اسٹالن نے یہ کیا اسٹالن نے وه کیا...جلسہ گاه میں سے کسی نے ایک پرچی پر سوال لکه کر بهیجا کہ جب اسٹالن یہ وه کر رها تها تو آپ کیا کر رهے تهے؟؟
خروشیف تهوڑی دیر خاموش رها اور پهر سوال پڑه کر کہا کہ جس نے یہ سوال بهیجا هے وه کهڑا هو جائے..جلسہ گاه پر خاموشی چها گئی اور کوئی بهی کهڑا نہ هوا...
خروشیف مسکرایا اور کہا کہ میں اس وقت یہی کر رها تها جو اس وقت آپ کر رهے هیں.....

( از۔یدِ بیضا)

No comments:

Post a Comment