Monday, 22 December 2014

دستورِ پاکستان اور شریعت


دستورِ پاکستان اور شریعت دونوں ملک کی ضروریات میں سے ہیں، بلکہ وطن عزیز کے قیام اور بقا کی اساس کی حیثیت رکھتی ہیں، لیکن اس سلسلہ میں جو کنفیوژن بڑھتا جا رہا ہے یا عمدًا بڑھایا جا رہا ہے، وہ دونوں طرف کے اصحابِ فکر و دانش کے لئے قابل توجہ ہے۔
دستورِ پاکستان کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ پر ہے، اس میں جمہور اور ان کے نمائندوں کو حاکم اعلیٰ تسلیم کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور قرآن و سنت کی بالادستی کا پابند قرار دیا گیا ہے اور ملک میں غیر شرعی قوانین کو ختم کر کے تمام قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کی ضمانت دی گئی ہے۔ اس لئے اس دستور کو شریعت سے متصادم قرار دینے کی بات دستور اور اس کی تشکیل کے لئے اکابر علمائے کرام کی جدوجہد کی نفی اور اس سے انحراف کے مترادف ہے، کیونکہ اس دستور کی تدوین و ترتیب اور اسے اسلامی دستور قرار دینے والوں میں مولانا مفتی محمود ؒ، مولانا عبد الحق ؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا عبد الحکیمؒ، مولانا نعمت اللہ ؒ، مولانا صدر الشہیدؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، مولانا محمد ذاکرؒ، مولانا عبدالمصطفیٰ ازہریؒ، اور پروفیسر غفور احمدؒ جیسے اکابر اہل علم و دانش شامل ہیں اور اس دستور کی وفاداری کا حلف اٹھانے والوں میں مذکورہ بالا حضرات کے علاوہ مولانا سمیع الحق، مولانا قاضی عبد اللطیفؒ، مولانا حسن جانؒ، مولانا معین الدین لکھویؒ، مولانا نور محمدؒ، مولانا محمد احمدؒ اور مولانا عبد المالک خان کے نام نمایاں ہیں۔
دستور کے حوالہ سے اہل ِ دین کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ دستور اسلامی ہے یا نہیں، بلکہ اصل مسئلہ بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ کا منافقانہ رویہ ہے، جس نے دستور کی اسلامی دفعات کو عملاً معطل رکھا ہوا ہے۔ اس مسئلہ کا حل یہ نہیں ہے کہ سرے سے دستور سے انکار کر دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ تمام اہل دین متحد ہو کر ایک زبردست عوامی تحریک کے ذریعہ اسٹیبلشمنٹ کو اپنا رویہ تبدیل کرنے اور دستور کی اسلامی دفعات پر عمل درآمد پر مجبور کریں۔ شریعت کے نفاذ کے خواہاں حلقے اگر

اس کا اہتمام کر سکیں تو نفاذِ شریعت کی منزل زیادہ دور نہیں ہے۔

دستور کے حوالے سے ایک مغالطہ عام طور پر یہ پایا جاتا ہے کہ اسلام میں تحریری دستور اور تحریری قوانین کی کوئی روایت موجود نہیں ہے بلکہ براہ راست قرآن و سنت ہی دستور اور قانون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ بات خلاف واقعہ ہے۔ اسلامی تاریخ میں دستور و قانون کا پہلا باضابطہ مجموعہ حضرت امام ابو یوسفؒ نے امیر المومنین ہارون الرشیدؒ کی فرمائش پر ”کتاب الخراج“ کے نام سے مرتب کیا تھا ،جس میں اگرچہ بنیادی امور بیت المال اور اس سے متعلقہ مسائل پر مشتمل ہیں، جبکہ انتظامی اور امارتی امور بھی اس میں بہت حد تک شامل ہیں۔ یہ دستور و قانون امیر المومنین کی فرمائش پر لکھا گیا تھا اور عباسی سلطنت میں باقاعدہ نافذ العمل رہا ہے۔
اسی طرح ”الا¿حکام السلطانیہ“ کے نام سے الماوردیؒ اور قاضی ابو یعلی ؒ کی معرکة الآراءتصانیف قانون و دستور کی باقاعدہ تدوین و تشکیل کا درجہ رکھتی ہیں اور یہ دورِ جدید کی بات نہیں بلکہ قرون اولیٰ کے دور کی علمی خدمات ہیں جن سے اب تک مسلسل استفادہ کیا جا رہا ہے، پھر سلطان اورنگزیب عالم گیرؒ کے دور میں ”الفتاویٰ الہندیہ“ کے نام سے جو علمی کام ہوا وہ صرف فتاویٰ نہیں تھے، بلکہ ملک کے دستور و قانون کے طور پر مرتب کیے گئے تھے اور پورے برصغیر میں 1857ءتک نافذ العمل رہے ہیں۔
قیام پاکستان کے بعد ملک کے جمہور علمائے کرام نے قرارداد مقاصد، 22 متفقہ دستوری نکات اور دستور پاکستان کی اسلامی دفعات کی صورت میں جو اجتہادی کام کیا ہے وہ نئی اختراع نہیں ہے، بلکہ امام ابو یوسفؒ، قاضی ابو یعلیؒ، الماوردیؒ، اور اورنگزیب عالمگیرؒ کے دور کے ان سینکڑوں علمائے کرام کی اجتماعی علمی جدوجہد کا تسلسل ہے، جو اسلام کے اصولوں اور تقاضوں کے عین مطابق ہے اور اس سے انحراف درست طرز عمل نہیں ہے۔
دوسری طرف یہ تاثر دینا بھی گمراہ کن بات ہے کہ شریعت کا نفاذ صرف طالبان کا مطالبہ ہے اور اس کا دائرہ صرف شورش زدہ علاقوں تک محدود ہے۔ اس لئے کہ شریعت اسلامی کا نفاذ خود دستور پاکستان کا تقاضہ ہے، قیام پاکستان کا مقصد ہے اور پوری قوم کی اجتماعی ضرورت ہے۔ اس کی صرف دو تازہ مثالیں نمونہ کے طور پر پیش کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ ایک یہ کہ سود کے مسئلہ پر خود حکومت اب اس ضرورت کو محسوس کر رہی ہے کہ غیر سودی نظام کو اپنانا ملکی معیشت کو صحیح رخ پر لانے کے لئے ناگزیر ہے اور دوسری یہ کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سپریم کورٹ میں واضح طور پر کہا تھا کہ ملک میں کرپشن کو ختم کرنے کے لئے حضرت عمرؓ کے نظام کو اختیار کئے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ یہ حضرت عمرؓ کا نظام اور غیر سودی بینکاری کیا ہے؟ یہ دونوں شریعت اسلامیہ ہی کے اہم شعبے ہیں، جو نہ صرف عالم اسلام، بلکہ پوری دنیا کے لئے ناگزیر ضرورت بنتے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنے پچھلے دور حکومت میں قومی اسمبلی سے ”شریعت بل“ کے نام سے جو بل منظور کرایا تھا وہ یقینا انہیں یاد ہوگا، اس میں اگرچہ قرآن و سنت کو سپریم لاءقرار دیتے ہوئے حکومتی نظام کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا، جس پر ہم نے تحفظات کا اظہار کیا تھا ،لیکن کیا میاں محمد نواز شریف نے یہ بل واپس لے لیا ہے اور کیا ان کی حکومت اس ”شریعت بل“ پر عمل درآمد کو ضروری نہیں سمجھتی؟ سرِدست حکومتی نظام کو کچھ عرصہ کے لئے مستثنیٰ سمجھ کر قومی زندگی کے باقی شعبوں میں ہی اس”شریعت بل“ کے نفاذ اور عمل درآمد کا اہتمام کر لیں، لیکن اس سے آنکھیں بند کر لینا اور شریعت کو صرف طالبان کا مسئلہ قرار دے کر مسلسل نظر انداز کئے چلے جانا دینی، قانونی اور اخلاقی لحاظ سے کوئی جواز نہیں رکھتا۔ میاں صاحب محترم کو سیکولر لابیوں اور عالمی استعمار کی ان سازشوں سے ہوشیار رہنا چاہئے، جو انہیں بتدریج شریعت اور شریعت بل سے دور لے جانے کے لئے کر رہی ہیں اور میاں صاحب کے گرد بھی ایک مخصوص حصار ہے، جو اس ایجنڈے کو پورا کرنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
ہماری ان گزارشات کا مقصد یہ ہے کہ دونوں فریقوں کو اپنے اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔ طالبان کو دستور پاکستان کے بارے میں مغالطوں کے دائرے سے نکل کر حقیقت پسندانہ موقف اختیار کرنا چاہئے اور حکومت کو شریعت سے مسلسل بے اعتنائی کے طرز عمل کا جائزہ لے کر سیکولر لابیوں کے خول سے باہر نکلنا چاہئے۔ اگر دونوں فریقوں نے حقیقت پسندی سے کام لیا تو کوئی وجہ نہیں کہ مذاکرات کامیاب نہ ہوں اور پاکستان امن و سلامتی اور شریعت کی بالادستی کے حوالے سے ایک خوشگوار مستقبل کا آغاز نہ کر سکے۔
بشکریہ: روزنامہ پاکستان 

No comments:

Post a Comment