Thursday, 4 December 2014

فرنگ کی کرامات


تین ماہ میں "روبل" 36 سے 56 کا ہو گیا۔
ہم رشیا کے ساتھ کاروبار کرنے والوں کا کباڑا تو نکلنا ہی ہے۔
لیکن رشین عوام جو کہ روزمرہ کے استعمال کی اشیاء جیسے ٹوائیلٹ پیپر ٹشو پیپر بچوں بوڑھوں کے پمپرز سے لیکر کھانے پینے کی اشیاء تک درآمد کرتی ہے۔ان کی زندگی بھی گھمبیر حد تک متاثر ہو گی اور اس وقت بھی مخدوش حالات ہی چل رہے ہیں۔
رشیا معدنی ذخائر سے مالا مال ملک ہے۔ اور رشین عوام بھی "انسانی خوبیوں " سے مالا مال ہے۔
عوام کا مزاج پاکستانی عوام سے بھی بدتر ہے۔ عام رشین کی اخلاقی حالت ایسی ہوتی ہے کہ کسی وقت اور کچھ بھی چوری چکاری کر سکتا ہے۔
اگر پوچھا جائے کہ یہ تو نے کیوں چوری کیا ؟
تو کہے گا کہ پڑا ہوا تھا اٹھا لیا ہے۔
یعنی کوئی شے بھی پڑی ہوئی ہو چاھئے کسی کے گھر کے سامنے یا اندر ہی کیوں نہ ہو اٹھا لینا کوئی خاص برائی نہیں سمجھے گا۔
جب رشین ہماری "دکان" پر کثرت سے آتے تھے تو گاڑیوں کے سی ڈی ، ٹیپ ، ھیڈ لائیٹ ، ٹیل لیمپ وغیرہ عموماً چوری ہوتے رہتے تھے۔
گاڑیوں کے بیٹریاں ، ٹائیر المونیم وہیل وغیرہ تک غائب ہو جاتے تھے۔ اور مہارت کا یہ عالم ہوتا تھا کہ ہم کسی بیچی ہوئی گاڑی کی رسید کاٹ رہے ہوتے تھے اور اتنی دیر میں کوئی نہ کوئی رشین ہاتھ دکھا جاتا تھا۔
جیسا کہ پاکستانی معاشرہ "قبائلی" طرز کا ہے۔ رشین معاشرہ بھی "قبائلی" طرز کا ہی ہے۔


 سخت مزاج دلیر اور سیدھی بات کرنے والے کو ایک "مقام" مل جاتا ہے۔ یہ "مقام" اچھا ہو یا برا اس سے قطعہ نظر کافی حد "شر" سے محفوظ ہو جاتا ہے۔۔
ایسے بندے کے متعلق رشین ایک لفظ کہہ دیتے ہیں کہ وہ "کریزی" ہے۔یعنی کھسکا ہوا ہے۔ اسے دفے کر یار۔
اور جس کے متعلق ایک بات مشہور ہو جائے کہ یہ بندہ معاملات کا ٹھیک ہے تو زیادہ تر رشین اس بندے کا "خیال" کر جاتے ہیں۔
دوستی یاری کے معاملے میں بھی رشین "قبائلی" سوچ ہی رکھتے ہیں۔جسے دوست سمجھ لیا اس پر اندھا اعتماد کرتے ہیں۔ اور جان نچھاور کرنے سے بھی نہیں ٹلتے۔
چھوٹا موٹا اچھا معاملہ کر دیا جائے تو اسے احسان سمجھ کر ہمیشہ یاد رکھتے ہیں۔
رشیا میں بھی "سرکاری" اہلکار سو فیصد پاکستانی سرکاری اہلکاروں جیسے ہی ہوتے ہیں۔ موقعے کی تلاش میں رہتے ہیں کہ "ہذا من فضل ربی" کہا ں سے کھینچا جا سکتا ہے۔
حکمران طبقہ بھی کرپشن کو اپنا حق سمجھتا ہے۔اور طاقتور اپنا الو سیدھا ہی رکھتا ہے۔
رشین عوام کی اکثریت "عدم تحفظ" کا شکار ہے اور "حکومت و حکمرانوں" پر ان کا اعتماد نہ ہونے کے برابر ہے۔
جس کے پاس پیسہ آگیا وہ رشیا سے ہجرت کرکے کنیڈا ، نیوزی ، آسٹریلیا ، یا دیگر ممالک کی طرف نکل گیا۔ ہمارے پرانے جاننے والے اکثر دوست بچوں سمیت ان ممالک کی طرف ہجرت کر چکے ہیں۔
دھوکہ دہی ، جھوٹ فراڈ ، زبان کر کے مکر جانا بھی رشین کے مزاج کا حصہ ہے۔ لین دین کے معاملات میں احتیاط کرنا لازمی ہوتا ہے۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ رشین میں اچھے لوگ نہیں ہوتے۔ ہیں اور ہمارے تمام دوست معاملات میں اعلی ہیں جن کے ساتھ ہم دس پندرہ سال سے مسلسل کاروبار کر رہے ہیں اور کسی قسم کی پریشانی نہیں ہوئی۔
اکثریت رشین کی "عدم تحفظ " کا شکار ہونے کی وجہ سے "خود غرضی" کا شکار ہو چکی ہے۔ اس وجہ سے "اخلاقی " تباہ حالی کچھ زیادہ ہی نمایاں ہو جاتی ہے۔
اور یہ حال ہم پاکستانیوں کا بھی ہے۔ کہ "عدم تحفظ" ، "معاشی" پریشانی کی وجہ سے اخلاقی بدحالی نمایاں ہو جاتی ہے، ورنہ میں نے اب تک جتنے ممالک کے لوگوں کو دیکھا ہے۔
ان میں اچھا اور کردار میں چمک رکھنے والا پاکستانیوں کو ہی پایا ہے۔حقیقت یہی ہے، کہ جو عام پاکستانی "افلاس" کا شکار ہو گا ۔ اس سے "اخلاقی گراوہٹ" کا معاملہ ہو جائے گا۔
لیکن جسے رزق حسب ضرورت میسر ہے۔ وہ معاملات میں بہت کم ہی برا نکلے گا۔
رشین کے ساتھ بھی پاکستانیوں کیطرح کا "عذابی معاملہ" ہے کہ "نرگیست" کے ہوائی قلعے میں رہنے کی وجہ سے ان کے حکمران بھی دانش اور دور اندیشی سے دور ہیں۔
سونے پہ سہاگہ کہ انہیں قدرتی گیس اور تیل کے وسیع ذخائر میسر ہیں ۔اور سابقہ سپر پاور رہ چکے جانے کے تفاخر کا بھی شکار ہیں ایسے ہی جیسے "مسلمانانِ پاکستان" کو فخر ہے ۔کہ
انہوں نے عرب وعجم اسپین و ھند پر حکومت کی تھی۔اور دشت و دریا میں "میڈ ان پاکستان" کے گھوڑے دوڑا کرتے تھے۔
رشیا بھی اسی ضم میں تھا کہ اب رشیا سپر پاور اگین ہو گیا ہے۔ امریکہ و یورپ سے "جوابی" پنگا کرنا شروع کر دیا ۔
پہلے "جارجیا" پر چڑھائی کی سب کے خاموش ہو جانے سے شہہ پائی اور "اوکرائینا" کی خانہ جنگی میں شامل ہو کر "بڑے شیطانوں" کو آنکھیں دکھانا شروع کر دیں۔
"بڑے شیطانوں" نے ایسا گھن چکر چلایا کہ ایک ہمارے "مقدس سعودیہ" نے اوپیک کی میٹنگ میں تیل کی پیداوار کو کم کرنے سے انکار کر دیا۔
جس سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں یک دم کمی واقعہ ہو گئی اور "رشین روبل" بے توقیری کا شکار ہو کر 56 روبل کا ایک ڈالر ہو گیا۔
اس دفعہ کی "تیل" کی قیمتوں کی کمی کی واحد وجہ رشیا کی "لگام" کھیچنا مقصود ہے۔ جو کہ مزید چند ماہ سے ایک سال تک "کھینچی" ہی رہے گی۔
پھر "بڑے شیطان" تو اسٹاک مارکیٹ میں کی گئی سرمایہ کاری سے مال بٹورنا شروع ہو جائیں گے۔
اور "سابقہ" سپر پاور کی حسین یادوں کو سینے سے لگائے رشین عوام
روٹی ، کپڑا ، اور مکان کے حصول کی خاطر ہر طرح کی "قدرتی وسائل" اور "انسانی خوبیاں" رکھنے کے باوجود "اخلاقی " تباہ حالی کا شکار ہی سمجھے اور جانے جاتے رہیں گے۔
قصور رشین عوام کا نہیں ، اور نہ ہی پاکستان عوام کا ہے۔
"حکمران" ہی قصور وار ہیں کہ "دانش مندی " اور "دور اندیشی" نہ ہونے کی وجہ عوام کی ہر طرح کی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔
"قدرتی وسائل" اور "انسانی خوبیوں" سے رشیا و پاکستان کے عوام مالا مال ہی ہیں ۔


(از۔ یاسر جاپانی)

No comments:

Post a Comment