Wednesday, 14 January 2015

فرانس اور آزادیِ اظہارِ رائے

طبقاتی سماج میں "شخصی آزادی" صرف مقتدر طبقے کے افراد کو ہی حاصل ہوتی ہے۔ بات کہنے کی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ کسی کی توہین کی جائے۔ اپنی بات کو مروجہ اخلاقی ضابطوں کی حدود میں رکھنا چاہیے۔ لیکن چونکہ چارلی ہیبڈو اخبار سرمایہ دارطبقے کے مقصد کو پورا کررہا ہے لہذا اس کی توہین آمیز قبیح حرکت کی "آزادیِ اظہارِ رائے" کے نام پر حمایت کی جارہی ہے۔ اسی چارلی ہیبڈو جریدے کے ایک کارٹونسٹ نے 2009 میں فرانس کے سابق صدر نکولس سارکوزی کے بیٹے کا کارٹون چھاپا توجریدے نے اسے معافی مانگنے پر مجبور کیا۔ وہ نہ مانا تو اسے یہ کہہ کرنوکری سے برخاست کردیا کہ اس نے "یہودیت" کی توہین کی ہے! فرانس کے ایک اورسابق صدر کی ایک کیفے میں ہونے والی موت کا تمسخراڑانے پرتواس جریدے کو فرانس کی حکومت نے بند کردیا تھا۔ اس وقت اظہاررائے کی آزادی کہاں تھی؟ عالمی سرمایہ دارانہ نظام اس وقت مذہبی منافرت، نسل پرستی اورقوم پرستی کے رجعت پرست نظریات کو اپنے معاشی مفادات کے حصول کے لئے استعمال کررہا ہے۔ وہ آزادی اظہار کے ہر اس عمل کی حمایت کرے گا جس سے اس کی پالیسی کو تقویت ملے خواہ وہ اظہار کتنا ہی

بیہودہ، استحصالی اورجمہوریت کے منافی کیوں نہ ہو۔ زبانی طور پرجمہوریت، انسانی حقوق اورسیکیولرازم کی بات کرنا اور عملا فاشزم، تعصب اوردہشت گردی کا ارتکاب کرنا۔ یہی فرانس ہے جس نے حکومتی سطح پر اعلان کیا تھا کہ ہم شام میں بشرالاسد کے مخالف باغیوں کو امداد دے رہے ہین۔ یہی فرانس تھا جس نے نیٹو اورامریکہ کے ساتھ مل کر خوشی خوشی لیبیا کے دہشت گردوں کو قذافی کے خلاف کھڑا کیا اوربعد ازاں لیبیا پرقبضہ کیا! یہی فرانس ہے جس نے گزشتہ سرما میں اسرائیل کی فلسطین پر بمباری سے ہلاک ہونے والے 15 صحافیوں کے قتل کے خلاف فرانس میں مظاہرہ کرنے پر پابندی لگا دی تھی! یہی فرانس ہے جہاں فلسطین کے حق میں یا اسرائیل کے خلاف احتجاج کرنا قانونی جرم ہے جس کی سزا 1 سال جیل اور15،000 یورو جرمانہ ہے! یہ ہے وہ عالمی سرمایہ دارانہ پالیسی جس کی مثالیں ہم دنیا بھر میں دیکھ رہے ہیں۔ ان حالات میں بے لگام شخصی آزادی صرف انہی اشخاص کو حاصل ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ ہیں اوراس کی تقویت کا باعث۔ دنیا کی کثیرآبادی کوصرف بھوک، غربت، جہالت، دہشت گردی اوراستحصال سے مرجانے کی آزادی ہے۔ ترقی، خوشحالی، آزاد سماج، آزاد منڈی اورآزاد انسان کی حقیقت ہمارے عہد میں اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ باقی سب الفاظ کی ملمع کاری ہے۔

۔۔۔۔۔۔   شاداب مرتضیٰ

No comments:

Post a Comment