Sunday, 8 March 2015

خمِ دست نوازش ہو گیا ہے طوق گردن میں


ابھی ہزار سال نہ گزرے تھے چنانچہ نرگس کو اپنی بے نوری کا ادراک بھی نہ ہوا تھا اور وہ چمن میں بے فکری سے کلیلیں کرتی پھرتی تھی کہ ایک دیدہ ور نے اپنے تئیں خود کو ناگزیر سمجھتے ہوئے پیدا ہونے کی ٹھان لی۔ پھر تو گویا چمن میں دیدہ وروں کی وہ پے در پے پیدائش ہوئی کہ چمن بالکل ناکافی ثابت ہوا اور نرگس کو وہ زمانے غنیمت لگنے لگے جب وہ بے نور ہی بھلی تھی۔ ہم اور آپ ان دیدہ وروں کو پرائیوٹ ٹی وی چینلز کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

بات ایسے سمجھ نہیں آئے گی۔ ویسے کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی تو ہماری بھی بچت ہو جائے۔ ہم میں تو اتنی صلاحیت بھی نہیں کہ اہل ایمان نیوز اینکرز کی طرح اِدھر ڈوبیں تو اُدھر نکلیں۔ نہ ہی زن بچہ رکھتے ہیں کہ کولہو میں پلوا دیا جائے۔ سو گمان غالب ہے کہ یہ ناخوشگوار فریضہ ہمیں ہی انجام دینا پڑے گا۔ پھر اس سے پہلے کیوں نا دل کا بوجھ ہلکا کر لیا جائے۔


امریکن سی آئی اے ہمیشہ ہی اپنی ماورائے قانون سرگرمیوں کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنتی رہی۔ امریکا کے قومی مفاد کے نام پہ اس نے کانگریس کی ناک کے نیچے وہ سب کچھ کیا جسے اس نے مناسب سمجھا۔ ۱۹۴۶ میں پناما میں قائم ہونے والا اسکول آف امریکن جو۲۰۰۱ سے Western Hemisphere Institute for Security Cooperation (WHINSEC) کہلاتا ہے، اب تک ۶۴ ہزار لاطینی امریکی فوجیوں کو تربیت فراہم کر چکا ہے۔

اس کے متعلق پنامہ کے سابق صدر کا کہنا ہے کہ اس کے تربیت یافتہ فوجی جہاں جاتے ہیں وہاں نہ کسی کی جان محفوظ رہتی ہے نہ عزت۔ وہ سنگین جرائم میں ملوث ہوتے ہیں۔ ان کا نشانہ اپنے ہی ہم وطن ہوتے ہیں جن میں تعلیمی ماہرین، میڈیا کے لوگ، مذہبی اسکالر اور جس کو وہ اپنا دشمن سمجھ لیں، شامل ہوتے ہیں۔ اس کے ناقدین اسے اسکول آف ڈکٹیٹرز کہا کرتے تھے۔ Association for Responsible Dissent کے مطابق جو سی آئی اے کے سابقہ آفیشلز پہ مشتمل ایک تنظیم ہے،۱۹۸۷ تک ۶ ملین امریکی CIA کے خفیہ مشنوں میں اپنے ہی ہم وطنوں کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں ۔

اسے وہ امریکن ہولوکاسٹ کا نام دیتے ہیں۔۱۹۴۸ میں اسی سی آئی اے نے اپنا خفیہ ونگ Office of Policy Coordination قائم کیا جس کا سر براہ وال اسٹریٹ کے ایڈووکیٹ Frank Wisner کو بنایا۔ اسی سی آئی اے کا سربراہ بعد ازاں (۱۹۵۳ سے ۱۹۶۱تک) Allen Dulles رہا۔ یہ صا حب بھی وال اسٹریٹ کی Sullivan and Cromwell کمپنی کے حصہ دار تھے جو معروف Rockefeller گروپ کی نمایندگی کرتی تھی۔ سرمایہ اور سیکیورٹی کے اس گٹھ جوڑ نے قومی مفاد نامی بچے کو جنم دیا اور شہرہ آفاق آپریشن Mockingbird کا آغاز ہوا۔

اس خفیہ آپریشن کے تحت New York Times, Newsweek, CBS ،Fortune،Time اور دیگر نشریاتی اور طباعتی اداروں میں چار سے چھ سو کے قریب مالکان، ملازمین اور رپورٹروں کو خریدا گیا۔ بظاہر اس خفیہ مشن کا مقصد کمیونزم کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف پروپیگنڈا تھا لیکن درحقیقت وال اسٹریٹ کے بازیگر اس کو سرد جنگ کو ہوا دینے اور بالآخر دنیا میں امریکی تجارتی منڈیوںکے نفوذ کے لیے استعمال کر رہے تھے اور میڈیا کو اسی مقصد کے لیے خریدا گیا تھا۔

William Colby (ڈائریکٹر سی آئی اے، جس نے Mockingbird کا بھانڈا پھوڑا اور بعد ازاں پراسرار موت کا شکار ہوا ) نے اعتراف کیا کہ میڈیا میں ہر اہم شخص ہمارا کارندہ ہے۔ امریکا میں آج بھی یہ مغالطہ پایا جاتا ہے کہ وہ ایک فری میڈیا کو انجوائے کر رہے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ میڈیا پہ چند کارپوریشنز کا قبضہ ہے جن کے اپنے مفادات ہیں۔

یہ کارپوریشنز جیسے جیسے چھوٹی کمپنیوں کو نگلتی جاتی ہیں ان کے مفادات ان کے حجم سے بھی بڑے ہو جاتے ہیں اور لامحالہ انھیں ان کے تحفظ کے لیے میڈیا پہ انویسٹ کرنا پڑتا ہے۔ آپریشن Mockingbird پہ جو سرمایہ لگایا گیا وہ سی آئی اے کو Congress for Cultural Freedom کے توسط سے ملا کرتا تھا جسے فورڈ کمپنی مالی امداد دیا کرتی تھی۔ آپ کو اب تک سمجھ آ گئی ہو گی کہ خفیہ ایجنسیاں بھی دراصل اسی کارپوریٹ مارکیٹ کا ایک حصہ ہیں۔

یہ قصہ تو پرانا ہوا۔ حکایت جدید کچھ اور لذیز ہے۔ اس کی وجہ سوشل میڈیا کا اثر و نفوز ہے جو بعض اوقات روایتی میڈیا پہ سبقت لے جاتا ہے۔ سی آئی اے اس میدان کو کیسے کھلا چھوڑ سکتی تھی؟ ۲۰۱۱ میں United States Central Command (Centcom) نے جو وسطی ایشیا اور مڈل ایسٹ میں امریکی فوجی مہمات کی نگرانی کرتی ہے، ایک کیلیفورنین کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا۔

یہ معاہدہ ایک ایسا سافٹ ویئر بنانے کا تھا جس کی مدد سے حاضر سروس امریکی فوجی عام شہریوں کی حیثیت سے سوشل میڈیا پہ اپنے پروفائل بنا سکیں اور امریکی جنگی مہمات کے حق میں رائے عامہ ہموار کر سکیں۔ اس سافٹ ویئر کی خاصیت یہ ہے کہ یہ ایک صارف کو ۵۰ جعلی پروفائل بنانے کی آزادی دیتا ہے اور اس کی لوکیشن امریکا کے علاوہ دنیا کے کسی بھی حصے سے دکھا سکتا ہے جس کا مقصد لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ امریکی جارحیت کے حامی دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔

سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کام انگریزی میں کرنا غیر قانونی ہے۔ اس سافٹ وئیر کو عربی، فارسی، پشتو اور اردو میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ پروگرام Operation Earnest Voice (OEV) کا ایک حصہ ہے اور اسے Online Persona Management Services کا نام دیا گیا ہے۔ اسے عراق میں القاعدہ کے خلاف استعمال کیا جا چکا ہے اور اب پاکستان، افغانستان اور مڈل ایسٹ میں ۲۰۰ بلین ڈالر کے خرچ سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کا معاہدہ 2.76 ملین ڈالر میں Ntrepid نامی ایک کارپوریشن کو دیا گیا ہے۔ جب اس سارے کھٹ راگ کی بھنک اس ہجوم کو پڑی جسے عوام کہتے ہیں تو اس کا جواب National Defense Authorization Act کی شکل میں دیا گیا۔

NDAA ایسا وفاقی قانون ہے جس کا ایک حصہ وزارت دفاع کے بجٹ اور اخراجات سے متعلق ہے۔ یہی قانون خفیہ ایجنسیوں کے ملازمین کے مالی مفادات کا تحفظ بھی کرتا ہے۔ یہی قانون کسی دہشت گردی کی کاروائی کی صورت میں فوج کو اختیار دیتا ہے کہ وہ فوری مداخلت کرے۔ اس سلسلے میں بجٹ میں جو ترمیم و اضافہ ضروری ہو، کیا جا سکتا ہے۔

اس کے تحت کسی بھی امریکی شہری کو امریکی صدر کے اشارے پہ غیر معینہ مدت کے لیے نظربند یا ہماری آپ کی رائج لغت میں لاپتہ کیا جا سکتا ہے۔ کوئی سافٹ وئر کمپنی اگر دفاعی اداروں سے معاہدہ کرے تو اسے اپنا سائبر ٹریفک ایجنسیوں کے لیے کھولنا ہو گا۔ اس کے علاوہ پینٹاگون کو ۔۵۔۸۸ بلین ڈالر اس جنگ کے لیے درکار ہیں جو اس نے ساری دنیا میں چھیڑ رکھی ہے۔

اب اگر آپ کو وہ شخص یاد آئے جو ڈرتا ورتا کسی سے نہیں تھا اور جس نے دیدہ وروں کو پے در پے پیدائش کا لائیسنس دیا تو یہ نہ سمجھئے کہ اس نے اپنے ہی پاوں پہ کلہاڑی ماری بلکہ جان لیجیے کہ کارپوریٹ جنگجووں کو نائن الیون کے بعد اپنے حق میں پروپیگنڈا کرنے والے لاوڈ اسپیکر چاہیے تھے۔

اس کے لیے ضروری تھا کہ پاکستانی قوم پرستی کو ہوا دی جائے تا کہ اسلامی اخوت کی ماری اس قوم کے اندر قومی مفاد کا تعین آسان ہو سکے۔ اب یہاں Online Persona Management Services کے ساتھ وہ لال قلعے پہ جھنڈا لہرانے والا ایک دفاعی تجزیہ نگار تو یاد آئے گا جس نے ملک کی سب سے معتبر خفیہ ایجنسی کے پے رول پہ ہونے کا اعتراف کیا اور نہایت کامیابی سے سوشل میڈیا پہ دفاع وطن اور قوم پرستی کی مہم چلائی۔

آخر میں NDAA سے تحفظ پاکستان ایکٹ ذہن میں آئے اور ماضی قریب میں ہونے والے میڈیا بحران پہ آپریشن MOCKINGBIRD کا شائبہ ہو تو حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ کارپوریٹ کلچر میں ہر طرح کے مفادات کارپوریٹ ہو چکے ہیں۔ NATO اس کی ایک مثال ہے۔

ا افسوس اس بات کا ہے کہ جہاں قومی مفاد حقیقت میں عوامی امنگوں کا عکاس ہو وہاں اپنے ہی لوگوں پہ لشکر کشی کی ضرورت پڑتی ہے نہ اپنے ہی میڈیا کو لگام ڈالنے کی۔ ایسا صرف تب ہوتا ہے جب قومیں اندر سے تقسیم ہو جایا کرتی ہیں اور مفادات جمع ہو جاتے ہیں۔


 تحریر : قدسیہ ممتاز     ( روزنامہ ایکسپریس)

No comments:

Post a Comment