Saturday, 28 February 2015

اور پھر بیاں ان کا

جنوری 1961ء کی ایک یخ بستہ شام ایک نو منتخب صدر اپنی قوم سے ان الفاظ میں مخاطب ہے:

’’یہ ہمارا ایک قوم کی حیثیت سے از سر نو مرتب ہونے کا دن ہے جس کے لیے میں آپ کے اور مقتدر اعلیٰ خدا کے سامنے وہی حلف اٹھاتا ہوں جو آج سے صدیوں پہلے ہمارے آباو اجداد اٹھا چکے ہیں۔ میرا آج بھی اپنے آباء کی طرح اس بات پہ یقین ہے کہ انسان کے حقوق کی بھرپائی ریاست کے نہیں بلکہ خدا کے ہاتھوں ہی ممکن ہے۔ نیک نیتی کے ساتھ ہم اپنی محبوب قوم کی خدمت کے لیے خدا کی مدد اور نصرت کے طلبگار ہیں بشرطیکہ ہمارے اعمال اس قابل ہوں۔‘‘

اپنے مختصر ’خطبے‘ میں تین بار خدا کا نام لینے کی وجہ سخت سردی بھی ہو سکتی ہے لیکن اس کا کیا کیا جائے جو اپریل 1789 کی ایک خوشگوار شام کچھ یوں گویا ہوا:

 ’’سخت معیوب ہوگا اگر میں اپنی اس پہلی تقریر میں اس خدا کی بارگاہ میں دعا نہ کروں جس کی حکمرانی پوری کائنات پہ ہے۔ جو اقوام کا اصل حکمران ہے۔ جس کی الوہی نصرت تمام خامیاں درست کر سکتی ہے۔ جس کی حفاظت میں مملکت کے لوگ اپنی آزادی اور خوشی حاصل کر سکتے ہیں جو اس مقصد کے حصول کے لیے تمام ضروری اقدامات کی کامیابی میں مددگار ہے۔ کوئی قوم خدا کی محبت کی حقدار نہیں ہو سکتی اگر وہ اس کے احکامات کی پابندی نہیں کرتی۔‘‘

یہ الفاظ کسی مبینہ خلیفہ اول و دوم کے مجوزہ خطبات کے نہیں بلکہ بالترتیب، امریکی صدور جان ایف کینیڈی اور جارج واشنگٹن کے ہیں۔ جان کینیڈی کی مذکورہ بالا تقریر کا تجزیہ
کرتے ہوئے امریکی ماہر سماجیات Robert N. Bellah نے 1967ء میں ایک آرٹیکل Religion in America کے نام سے پیش کیا جس نے امریکا میں ریاست اور مذہب کے تعلق پہ ایک نئی بحث چھیڑ دی۔ اس کا کہنا تھا کہ کینیڈی نے اپنے مختصر خطاب میں خدا کا ذکر ذاتی حیثیت میں نہیں بلکہ امریکا کے صدر کی حیثیت سے کیا ہے۔

کینیڈی گو کیتھولک تھے لیکن اپنے خطاب میں خدا کا ذکر انھوں نے عمومی معنوں میں کیا کیونکہ وہ اپنے ذاتی عقیدے کا خصوصی طور پہ ذکر کر کے مذہب کی ہمہ گیریت کو محدود نہیں کرنا چاہتے تھے اور یہی اہم نکتہ ہے۔ بالکل اسی طرح وہ خدا کا ذکر بھی نظرانداز کر سکتے تھے لیکن انھوں نے نہیں کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ایک مقتدر اعلی خدا کی امریکی معاشرے اور ریاست میں کیا اہمیت ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چرچ اور ریاست کی واضح علیحدگی کے باوجود ایک امریکی صدر کے خطاب میں لفظ خدا کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ یہ علیحدگی ریاست کے مذہبی رجحان کا بطلان نہیں کرتی۔ بجا طور پہ مذہب کسی بھی شخص کا ذاتی معاملہ ہے جس میں مذہبی عقائد و رسوما ت شامل ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی وہ مشترک مذہبی رجحانات بھی موجود ہیں جن پہ امریکیوں کی اکثریت عمل پیرا ہے۔ اسی مذہبی ذہنیت نے امریکی اداروں کی تعمیر میں حصہ لیا ہے اور آج تک پوری امریکی طرز حیات بشمول سیاست کو مذہبی رخ دے رہی ہے۔

امریکی صدور کے مذکورہ بالا خطاب کوئی اتفاق کی بات نہیں ہے بلکہ یہ ملک کے اعلیٰ ترین منصب کا مذہب کی قانونی حیثیت کی توثیق کرنا ہے۔ علاوہ ازیں یہ حلف، oath of office ہے جو آئین کی بالادستی کو قبول کرتا ہے لہٰذہ ’میں خدا کے سامنے حلف اٹھاتا ہوں‘ کے الفاظ دراصل صدر کی آئینی بالادستی کو خدا کے زیردست لانے کی طرف ایک اشارہ ہے۔ امریکی سیاسی نظریہ بلا شبہ جمہور ی ہے لیکن کبھی خفیہ تو کبھی اعلانیہ یہ دراصل خدا کی طرف سپردگی کا معاملہ ہی ہے۔

یہی کرنسی پہ لکھے “In God we trust” کا مطلب ہے اور یہی Pledge of Allegiance’ ‘ میں موجود الفاظ “under God” کا۔ اب ووٹ ہم ڈالیں اور حاکمیت خدا کی ہو یہ کیا بات ہوئی؟ بات یہ ہوئی کہ لوگوں کی مرضی بذات خود درست اور غلط کے تعین کی مجاز نہیں بلکہ یہ ایک اور بالاتر ہستی کا کام ہے۔ لوگ غلط بھی ہو سکتے ہیں۔ صدر کا خدا کا تذکرہ اسی کسوٹی کی طرف اشارہ تھا۔ یہ پورا خطاب اس نظریے کا بیانیہ ہے جس کی جڑیں امریکی ثقافت میں، انفرادی اور اجتماعی طور پہ بہت گہرائی میں پیوست ہیں اور جس کا مقصد زمین پہ خدا کا نظام نافذ کرنا ہے۔

یہی وہ عمل انگیز جذبہ تھا جو امریکا کے بانیوں کے دلوں میں جاں گزیں تھا اور جو آج تک ہر نسل میں منتقل ہوتا رہا ہے۔ بنجمن فرینکلن اپنی بائیوگرافی میں لکھتا ہے: میں کبھی مذہبی اصولوں کے بغیر نہیں رہا۔ میں نے کبھی اس ہستی کے وجود پہ شک نہیں کیا جو کائنات کی خالق اور کارساز ہے اور جس کے نزدیک بہترین عبادت اس کے بندوں کی خدمت ہے اور یہ کہ ہمارے اعمال کا ایک دن حساب ہو گا۔ جارج واشنگٹن نے اپنے الوداعی خطاب میں کہا: ان تمام عادات و افعال میں، جو سیاسی خوشحالی کی طرف لے جاتے ہیں، مذہب اور اخلاقیات غیر متبدل امداد مہیا کرتے ہیں۔

جو شخص انسانی معاشرے کے ان ستونوں کو گرانے کی کوشش کرتا ہے اس کی حب الوطنی بھی مشکوک ہے۔ کسی شب زندہ دار کو ہی نہیں ایک سیاستدان کو بھی ان کی اتنی ہی عزت کرنی چاہیے۔ سیدھی سی بات ہے کہ جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کیسے ممکن ہے اگر حلف میں سے وہ مذہبی پابندیاں نکال دی جائیں جن کی مدد سے عدالتوں میں انصاف فراہم کیا جاتا ہے؟ اور کیا اخلاقیات کو مذہب کی مدد کے بغیر قائم رکھا جا سکتا ہے؟

امریکا کے تمام بانیان خاص طور پہ ابتدائی چند صدور نے اپنے الفاظ اور عمل کے ذریعے ملک کے سول مذہب کی شکل و صورت متعین کر دی تھی جو آج تک موجود ہے۔ یہ مذہب خاص طور پہ عیسائیت نہیں ہے بلکہ اس کا خدا سیاسی طور پہ زیادہ فعال ہے اور احکامات میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔ اسے فطری قوانین سے زیادہ قدیم اسرائیل میں دلچسپی ہے۔ امریکی اسرائیل کی اصطلاح تسلسل سے استعمال ہوتی رہی ہے۔ تھامس جیفر سن نے اپنے افتتاحی خطاب میں واضح طور پہ اس کا تذکرہ کیا تھا جس میں یورپ کو مصر جب کہ امریکا کو خدا کی ارض موعود قرار دیا۔

یہاں اس پری وش کا ذکر اور Robert Bellah کا بیان ختم ہوا۔ امریکا کے قدما و علما کے خطابات، ہجرت، ارض موعود، چنیدہ قوم اور الوہی نصرت کے اسرائیلی لفظیات سے بھرے پڑے ہیں لیکن وہ ٹھہرے دقیانوسی بزرگ، لگے ہاتھوں جدید امریکا کے pew research centre کا بیان بھی ہو جائے جو اپنی ایک رپورٹ میں رقم طراز ہے کہ پورے امریکا میں ’شرعی عدالتیں‘ بغیر کسی نوٹس میں آئے، روزمرہ کے ایک معمول کی طرح کام کر رہی ہیں۔ یہ رپورٹ امریکا میں موجود ان پندرہ مذہبی گروپوں کے متعلق ہے جو اپنے مذہبی قوانین کو اپنی زندگیوں پہ لاگو کیے ہوئے ہیں۔

صرف رومن کیتھولک کی 200 کورٹس یومیہ پندرہ سے بیس ہزار ازدواجی تنازعات کا تصفیہ کرتی ہیں۔ بہت سی یہودی عدالتیں موجود ہیں جو ازدواجی کے ساتھ کاروباری تنازعات بھی نبٹاتی ہیں اور بے شمار مسلم کورٹس بھی یہی خدمات مسلمانوں کے لیے انجام دے رہی ہیں۔ ایسا اس لیے ہے کہ امریکا کے سیکولر قوانین طرز معاشرت کے ساتھ ’بتدریج‘ بدل چکے ہیں مثلا ہم جنس شادیاں قانونی ہو چکی ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ ان کا مائیکل، عبداللہ یا ڈیوڈ ایک شام گھر آئے اور کہے کہ ان سے ملیے یہ ہیں ٹونی ہم نے آج صبح ’گے میرج‘ کر لی ہے۔ گو کہ ان مذہبی عدالتوں خاص طور پہ اسلامی شرعی عدالتوں کے خلاف تیس سے زائد ریاستوں میں بل پیش کیے جاتے رہے ہیں لیکن سپریم کورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ جج اور سرکاری افسر مذہبی مقدمات میں مداخلت نہیں کر سکتے۔

آرکنساس کے سابق گورنر حکابی نے حال ہی میں کہا کہ ہماری بقا اسی میں ہے کہ ہم ایک بار پھر خدا پرست قوم بن جائیں جسے علم ہو کہ قوانین انسان نہیں خدا کی طرف سے نازل ہوتے ہیں۔ الاباما کے چیف جسٹس نے واشگاف اعلا ن کیا کہ اگر سپریم کورٹ نے ہم جنس شادی کو قانونی قرار دیا تو وہ پیروی سے انکار کر دیں گے۔ کسی کو بھی خدا کے قانون کو بدلنے کا اختیار نہیں۔ ہماری کیا اوقات کہ علمائے جدید کے بیانیوں کو چیلنج کرتے پھریں۔

ہماری عرض تو بس اتنی ہے کہ جدید ترین امریکا کے علمائے قانون و معاشرت کے بیانیے تسلی کے لیے کافی نہیں تو امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں office for religious engagement کے قیام اور جان کیری کے بیان ’چونکہ مذہبی رہنما معاشرے کی تشکیل کرتے ہیں لہٰذہ وہ ہماری خارجہ پالیسی پہ بھی اثر انداز ہوتے ہیں، یہ ہمارے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ انھیں سمجھیں اور سیاسی عمل میں ان کی شرکت کو یقینی بنائیں‘ کو اتفاق نہیں بلکہ قدیم بیانیہ کا تسلسل سمجھیں اور یہ کہ جارج بش کا نائن الیون کے بعد صلیبی جنگ والا بیان بھی ان کی تردید کے باوجود زبان کی لغزش نہیں تھا۔ وہ ان کا بیانیہ ہی تھا۔۔



۔۔۔۔ قدسیہ ممتاز۔۔۔ روزنامہ ایکسپریس

No comments:

Post a Comment