Monday, 20 April 2015

خدمت اور خوف

جمہوری اور آمرانہ حکومتوں میں ایک بنیادی فرق یہ ہوتا ہے کہ جمہوری حکومتیں عوام کی خدمت کے ذریعے عوام کی حمایت حاصل کرتی ہیں اور آمرانہ حکومتیں خوف پھیلاکر عوام کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
خدمت کے ساتھ خلوص اور محبت جڑے ہوئے ہوتے ہیں اور خوف کے ساتھ ناپسندیدگی اور نفرت جڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں چونکہ ہمیشہ اشرافیائی جمہوریت ہی رہی ہے لہٰذا ان جمہوریتوں میں خدمت کے ذریعے عوام کی حمایت حاصل کرنے کا کلچر سرے سے موجود ہی نہیں رہا۔ اشرافیائی جمہوریت کا کلچر خوف و ہراس، ظلم و بددیانتی پر مبنی ہوتا ہے اور اس کا ماخذ چونکہ جاگیردارانہ نظام ہے لہٰذا ہماری اشرافیائی جمہوریتوں کی بنیادیں بھی خوف و ہراس پر ہی اٹھی ہوئی ہیں۔
ہماری آبادی کا لگ بھگ 60 فیصد حصہ زرعی معیشت سے جڑا ہوا ہے اور زرعی معیشت آج بھی وڈیرہ شاہی کے قبضے میں ہے، لہٰذا اس معیشت سے جڑی 60 فیصد آبادی 68 سال سے وڈیروں اور جاگیرداروں کے زیر تسلط ہے، ہمارے دیہی علاقے جہاں ہاری اورکسان رہتے ہیں وڈیروں کے ایسے انتخابی حلقوں میں بدل گئے ہیں جہاں دیہی آبادی اسی کو ووٹ دیتی ہے جسے وڈیرے آگے لاتے ہیں اور یہ آگے آنے والے عوام دشمن یا تو خود وڈیرے ہوتے ہیں یا پھر ان کی

آل اولاد یا خاندان کے دوسرے افراد یوں سیاست اور اقتدار پر ان عوام دشمن طاقتوں کا قبضہ مضبوط اور مستحکم رہتا ہے۔
ہمارا میڈیا وڈیروں کے ہاریوں کسانوں پر مظالم کی داستانوں سے بھرا پڑا ہے۔ غریب ہاریوں پر مظالم ڈھانا، معمولی معمولی باتوں پر انھیں قتل کروا دینا، ان پر جھوٹے مقدمات بنوا کر ہراساں کرنا، کسانوں ہاریوں کے بچوں سے غلاموں کا سا سلوک کرنا یہ سارے وہ حربے ہیں جن کا مقصد غریب عوام کو مستقل طور پر خوف و ہراس میں مبتلا رکھ کر انھیں ظلم کے خلاف آواز اٹھانے سے روکنا ہے، ابھی حال ہی میں ایک کم عمر بچے کے دونوں بازو محض اس جرم میں کاٹ دیے گئے کہ وہ ایک وڈیرے کی زمین پر اپنے جانور لے گیا تھا۔ اس قسم کی معمولی معمولی غلطیوں پر ہاریوں کسانوں کو ایسی ایسی سزائیں دی جاتی ہیں کہ انھیں دیکھ کررونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ان مظالم کے خوف سے ہاریوں اورکسانوں کو اپنی مرضی کے خلاف ظلم کے آگے سر جھکانا پڑتا ہے لیکن ان جھکے ہوئے سروں میں نفرت کے جو لاوے پکتے رہتے ہیں وہ اگرچہ وقتی طور پر نظر نہیں آتے لیکن جب یہ پھوٹ پڑتے ہیں تو پھر انقلاب فرانس کی شکل اختیار کرلیتے ہیں یا عرب بہارکا روپ دھار لیتے ہیں جہاں کرنل قذافی جیسے مقبول لیڈر سڑکوں پر گھسیٹے جاتے ہیں اور حسنی مبارک جیسے آمروں کو لوہے کے پنجروں میں بیٹھنا پڑتا ہے۔ چونکہ ہمارے اقتدار مافیا کا سینئر پارٹنر جاگیردار طبقہ ہے لہٰذا اس کی طاقت اس قدر مستحکم ہے کہ اس کی مرضی اور رضا مندی کے بغیر حکومتیں کوئی کام نہیں کرسکتیں۔ جب یہ طبقہ اپنی غلطیوں بددیانتیوں کی وجہ عوام کی طاقت سے محروم ہوجاتا ہے تو پھر وہ نئے نئے فلسفے ایجاد کرکے اپنی کمزوریوں کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے، ان میں سے ایک فلسفہ ’’مفاہمتی سیاست‘‘ کا ہے۔
بدقسمتی سے ہماری تاریخ بادشاہوں، جاگیرداروں، سرداروں، نوابوں، خانوں، چوہدریوں سے بھری ہوئی ہے اور یہی میراث نئی نسلوں کو منتقل ہوتی رہی ہے لہٰذا ہماری معاشرتی اور سیاسی زندگی بھی اسی نقش قدم پر چل رہی ہے جو ہندوستان پر مغلوں کی حکومتوں نے چھوڑے ہیں، اس میراث کی گیرائی اور گہرائی کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے شہری علاقے بھی وڈیرہ شاہی کے نقش قدم پر چلتے نظر آتے ہیں، وڈیرہ شاہی کلچر کی ایک بڑی پہچان موروثیت ہے، یہ کس قدر شرم اور افسوس کی بات ہے کہ شہری علاقوں میں بھی موروثیت کا گندہ کلچر فروغ پا رہا ہے جو اشرافیہ سے نکل کر اب مڈل کلاس تک پہنچ گیا ہے۔
سیاسی جماعتوں ہی میں نہیں بلکہ مڈل کلاس کی مذہبی جماعتوں میں بھی سیاسی موروثیت جڑیں پکڑ رہی ہے چونکہ اس موروثیت کی بنیادیں خوف و دہشت پر استوار ہوتی ہیں، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری دیہی اور شہری سیاست بھی ان ہی بنیادوں پر استوار نظر آرہی ہے اور اگر آپ ایلیٹ کے ساتھ ساتھ مڈل کلاس کی سیاست پر بھی نظر ڈالیں تو موروثیت کی بیماری آپ کو اس طبقے میں بھی نظر آئے گی۔ باپ کی جگہ بیٹا لیتا نظر آئے گا اور اس کلچر کو وڈیروں کی طرح مڈل کلاس بھی جمہوریت کا رنگ دینے کی ناکام کوشش کرتی نظر آئے گی۔
ہم نے اپنے کالم کا آغاز خدمت اور خوف کے ذریعے عوامی حمایت حاصل کرنے کے کلچر سے کیا تھا، اس میں وڈیرہ شاہی اور مغلیہ دور کا ذکر اس لیے آگیا کہ یہ طبقات بھی خدمت کے بجائے خوف کے سہارے زندہ رہے اور زندہ ہیں خدمت کا مطلب یہ طبقات اپنی توہین سمجھتے ہیں اس کا ماخذ بھی ہمارا تاریخی ورثہ ہی ہے جس میں رعایا کا کام حاکم کے آگے صرف سر جھکانا ہوتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد چونکہ پسماندہ ملکوں میں بھی کسی نہ کسی شکل میں جمہوریت متعارف ہوئی لیکن پاکستان میں چونکہ بادشاہوں کا چھوڑا ہوا کلچر بہت مضبوط اور مستحکم ہے۔
لہٰذا ہمارے ملک میں خدمت کے ذریعے عوام کی حمایت حاصل کرنے کا کلچر مضبوط نہ ہوسکا بلکہ خوف کے ذریعے خواہ یہ خوف جماعتی سطح کا ہو یا ریاستی سطح کا ہماری جمہوریت کا حصہ بنا ہوا ہے۔ اگر حکمرانوں کے پاس ریاستی طاقت خوف کی شکل میں موجود ہے تو سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے پاس عسکری ونگز وغیرہ کی شکل میں یہ ورثہ موجود ہے، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ خوف و دہشت خواہ وہ کسی شکل میں ہو کسی کے ہاتھوں میں ہو کبھی عوامی حمایت حاصل نہیں کرسکتے۔ کیونکہ خوف کے ساتھ نفرت جڑی ہوئی ہوتی ہے خواہ اس کا اظہار برملا ہو یا نہ ہو۔ اور خدمت کے ساتھ خلوص اور محبت جڑے ہوتے ہیں خواہ وہ کسی شکل میں ہو کسی شعبے میں ہو۔
اس حوالے سے ستار ایدھی کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے۔ ستار ایدھی اور اس جیسی شخصیات چونکہ خدمت کو ہی اپنا ایمان سمجھتی ہیں لہٰذا ان کی خدمات سے عوام کی محبت جڑی ہوتی ہے۔ جمہوریت کا اصل اور معنوی نام خدمت ہی ہے لیکن ہمارے سیاسی وڈیرہ شاہی نظام میں خدمت کا سرے سے کوئی تصور ہی موجود نہیں، لہٰذا خوف کے ذریعے ہماری جمہوری گاڑی کو گھسیٹا جا رہا ہے۔
حالانکہ جمہوریت میں اصل حاکم عوام ہوتے ہیں اور صدر اور وزیراعظم سے لے کر نچلی سطح تک ہر شخص عوام کا تنخواہ دار ملازم ہوتا ہے اور تنخواہ دار ملازم کی پہلی اور آخری ذمے داری خدمت ہی ہوتی ہے، خدمت کے علاوہ جمہوریت کا تصور ہی ممکن نہیں۔ لیکن ہمارا سیاسی اور حکمران طبقہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں جس کا آخری نتیجہ ایلیٹ کا گریبان اور عوام کے ہاتھ ہی ہوگا۔


از ۔ ظہیر احمد بیدری

No comments:

Post a Comment