Saturday, 23 May 2015

ذہن کی زنجیریں توڑ دیں


یورپ اور دنیا بھر میں عیسائیت سمیت تمام مذاہب کا قدیم عقیدہ تھا کہ گناہ اور دکھ ناگزیر طور پر لوگوں کی قسمت میں لکھ دیے گئے ہیں۔ مذہب دنیا میں غربت اور بدحالی کو ایک مستقل بلکہ احترام کا مقام دینا چاہتا تھا، وعدے وعید اور اجر دوسری دنیا اور آخرت سے وابستہ تھے، اس دنیا میں صبر اور شکر کے ساتھ تمام مصائب اور محرومیوں کو برداشت کر نے کا درس دیا جاتا تھا۔
خیرات کی حوصلہ افزائی کی جاتی غریبوں میں بچا کھچا بانٹنا نیکی تصور کیا جاتا لیکن غربت کے خاتمے کے لیے کبھی کچھ سوچا نہ جاتا۔ آزادی اور مساوات کے تصورات چرچ اور معاشرے کی حاکمیت کے خلاف سمجھے جاتے تھے۔ جمہوری نظریے کے ارتقا کا ایک ظاہری نتیجہ یہ نکلا کہ ہر آدمی کو مقتدر اسمبلی یا پارلیمنٹ کے ارکان منتخب کرنے کا حق یعنی ووٹ دینے کا اختیار مل گیا۔ ووٹ سیاسی قوت کی علامت تھا یہ باور کر لیا گیا کہ اگر ہر ایک کو ووٹ کا اختیار مل جاتا ہے تو اس طرح ہر ایک سیاسی قوت و اقتدار میں حصے دار بن جاتا ہے ووٹ جدید دور کی سب سے بڑی طاقت کا نام ہے۔ بقول ابراہام لنکن ووٹ کی طاقت بندوق کی گولی سے زیادہ ہے آج ووٹ انقلاب کا دوسرا نام ہے۔
دنیا نے ووٹ کی طاقت کے ذریعے ہی ترقی اور خوشحالی کی منزلیں طے کی ہیں ووٹ کا احترام دنیا میں مذہب کی طرح کیا جاتا ہے جب کہ ہماری سیاسی تاریخ میں ووٹ کی جتنی بے حرمتی کی گئی اس کی مثال آپ کو مشکل ہی سے ملے گی۔ ووٹ زندگی ہے تو اس کی بے حرمتی خودکشی ہے اور ہم ایک دفعہ بنگلہ دیش کی صورت میں اجتماعی خودکشی کے مرتکب ہو چکے ہیں جب آپ ووٹ کی بے حرمتی کرتے ہیں تو آپ لاکھوں لوگوں کو ایک ساتھ ناامیدی کی قبر میں دفن کر رہے ہوتے ہیں۔
ووٹ کی بے حرمتی نے پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی بڑھانے میں ایندھن کا کام کیا ظاہر ہے جب آپ لوگوں کے حق پر شب خون اور ڈاکہ ماریں گے تو پھر


لوگ مایوس ہو کر دوسری سمت دیکھنے پر مجبور ہونگے دوسری طرف جب مذہبی جماعتوں کو اس بات پر یقین ہو گیا کہ وہ کبھی بھی ووٹ کی طاقت کے ذریعے اقتدار میں نہیں آ سکیں گے تو پھر انھوں نے لوگوں سے مایوس ہو کر دوسرا راستہ اختیار کر لیا اور جمہوریت کو برا بھلا کہنے لگ گئے اور اتنے غصے میں آ گئے کہ اسے کفر کا نظام ہی کہنے لگ گئے۔ اور وہی کھیل کھیلنا شروع کر دیا جو کلیسا نے اٹھارویں صدی میں یورپ میں کھیلا تھا۔
آج پاکستان میں واضح طور پر دو مختلف سوچیں اور مختلف نظریات الگ الگ سمت میں اپنا کام کر رہے ہیں۔ ایک سوچ وہ ہے جو ہمیں واپس اٹھارویں صدی میں لے جانا چاہتی ہے اور دوسری سوچ وہ ہے جس کی منزل وہ خوشحالی و ترقی اور استحکام ہے جو بڑی جدوجہد کے بعد یورپ، امریکا اور دیگر ممالک نے حاصل کیا جہاں انسان آزاد ہے خوشحال ہے ہماری نجات، خوشحالی اور ترقی کا انحصار خود ہماری سوچ، کوشش اور جدوجہد پر ہوتا ہے۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم آیا واپس ماضی کی سمت سفر کرنا چاہتے ہیں یا آگے کی سمت سفر کرنا چاہتے ہیں۔
کیونکہ اصل مسئلہ ہی سوچ کا اور نظریہ کا ہے اندھیرے کی سوچ اور نظریہ والے ہم سب پر جبراََ اپنی سوچ اور نظریہ مسلط کرنا چاہتے ہیں اور وہ اس سلسلے میں تشدد اور ہر حربے کو جائز سمجھتے ہیں وہ جنتوں کا وعدہ کر کے ہماری زندگی کو جہنم بنانا چاہتے ہیں۔ فیصلہ خود ہم نے کرنا ہے کہ آیا ہم واپس اٹھارویں صدی میں جانا چاہتے ہیں یا اپنے ملک کو ہی جنت بنانا چاہتے ہیں۔ نیپولین ہل کہتا ہے کہ انسان جو کچھ سوچ سکتا ہے ذہن وہی کچھ حاصل کر سکتا ہے۔
جس طرح تھوڑی سی آگ زیادہ حرارت نہیں دے سکتی اسی طرح کمزور خواہش عظیم نتائج کو جنم نہیں دے سکتی خوشحالی، ترقی اور کامیابی ہماری سوچوں اور فیصلوں کا نتیجہ ہوتی ہے کامیابی اتفاقاََ نہیں ملتی یہ ہمارے رویوں کا نتیجہ ہوتی ہے خدارا ماضی کے مزاروں سے نکل آؤ مستقبل کے خیابانوں کی طرف دیکھو انسان کی آنکھیں اس کے سر کے اگلے حصے میں ہوتی ہے۔ پچھلے حصے میں نہیں گویا فطرت یہ چاہتی ہے کہ انسان پیچھے نہ دیکھے آگے کی طرف دیکھے ہم پرانے زمانے کی رجعت اور قدامت پرست، آمرانہ روایات سے آگے بڑھ چکے ہیں اب نئی سرزمینیں ہیں نئے لوگ ہیں اور نئے افکار ہیں تو آئیے ہم اٹھارویں صدی کی نقل کرنے ان کے نقش قدم پر چلنے سے انکار کر دیں ہم نئی دنیاؤں کو دیکھیں اور نئی روایتیں بنائیں دوسروں کے پیروکار اور چیلا بننے سے انکار کر دیں۔
اس کے بجائے اپنی دنیا خود بنائیں یاد رکھو کہ ایک شخص کی نجی زندگی کو تاریخ کی کسی سلطنت سے زیادہ بلند مرتبہ اور نامور بنایا جا سکتا ہے آپ جو بھی ہیں بس یہ جان لیجیے کہ اس ساری دنیا کا وجود آپ کے لیے ہے آئیں نفرت، تعصب، غلامی کا پردہ تار تار کر ڈالیں اپنے آپ کو منوائیے دوسروں سے الگ تھلگ ہو کر نہیں بلکہ دوسروں کے ساتھ مل کر جو کچھ آدم کے پاس تھا اور جو کچھ سیزر کر سکتا تھا وہ آپ کے پاس ہے اور آپ بھی وہ سب کچھ کر سکتے ہیں ذہن کی زنجیریں توڑ دیں۔
اپنے ذہن کو آزاد کر دیں اور اپنے آپ کو جانیں اس انسان کے طور پر جو آپ بن سکتے ہیں جو آپ کا مقدر ہے انسان کے پاس امکانات بے پناہ ہیں ان کی کی کوئی حد نہیں ہے پھر آپ نے کیوں خود پر بے بسی طاری کر رکھی ہے۔ اپنے امکانات کو کیوں زنجیروں میں باندھ رکھا ہے۔ یہ بے معنی زنجیریں ہیں آپ جب چاہیں ان کو توڑ سکتے ہیں یہ زندگی آپ کی ہے اپنے بارے میں فیصلہ آپ نے خود کرنا ہے نہ کہ مٹھی بھر افراد نے۔ آئیں مٹھی بھر افراد کے خلاف اٹھ کر کھڑے ہوں۔ اور انھیں بتا دیں ہماری زندگیوں کا فیصلہ آپ نہیں بلکہ ہم خود کریں گے پھر دیکھیں خوشحالی، ترقی، آزادی، آپ کا کس بے تابی کے ساتھ انتظار کرتی ہے۔


از  ۔۔ آفتاب احمد خانزادہ

No comments:

Post a Comment