Thursday, 22 May 2014

گھر کی آگ


روز روز کے لڑآئی جھگڑوں سے جہاں تباہیاں پھیل رہی ہیں وہاں جینے کے لیے امنگ اور آزآدی کی تحریکیں زور پکڑتی جارہی ہیں -
احساس ذلت کے بوجھ تلے ہم وقت کا ساتھ نہ دینے کی وجہ سے غربت اور جہالت کا شکارہیں - یہ کہنا بےجا نہ ھوگا کہ اس وقت ہم شکست خوردہ قوم ہیں - تمام عالم ا قوام نے متحد ہوکر مسلمانوں کو تقسیم کرنے کےلیے منفی کردارتخلیق کیے پھر بھرپور پروپیگنڈہ کرکے مسلمانوں کے وسائل ہتھیانے ان پر چڑھ دوڑۓ ، دھشت گردی کا لیبیل لگا کرھمارے گھر میں بن بلاے مہمان بن بیٹھے - " ہماری جوتی ہمارا سر"- اگر اسلام اورمسلمان دھشت گرد ہوتے تو طلوع اسلام کے وقت کفار مکہ ، تمام مذاھب ، بشمول عیسائی ، یہودی ، ھندو مسلمان نہیں ہوتے کیونکہ انسان فطری طور پہ امن سے محبت، جنگ سے نفرت کرتا ہے -
پانی ، مخصوص درجہ حرارت تک پہچنے کے بعد بھاپ کی صورت اختیارکرلیتا ہے مگرلوٹ کر پھراصل صورت میں واپس آجاتا ہے اسی طرح حق اور سچ کبھی فنا نہیں ہوتے یہ قانون فطرت ہے -
ظلم ، ناکامی کو جنم لیتی ہے اور ہر ناکامیابی اگلی کاميابی کا پیش خیمہ ہوتی ہے -عروج وزوآل عزت ذلت سے تاریخ انسانیت بھری ہوئی ہے - سیاہ فام کالوں سے جب پوچھا آپ نے غلامی کا طوق کیسے اتارا تو انہوں نے بے ساحتہ کہا احساس ذلت محسوس کرکے احساس عزت پایا -
جب چینیوں سے ان کے عروج کا راز پوچھا تو کہنے لگے گھر کی آگ دور سے لاے ہوے پانی سے نہیں بجھائی جاتی ۔۔



از۔ سید ظفر اقبال


No comments:

Post a Comment