Saturday, 23 May 2015

مادہ اور وجودیت پر ایک مکالمہ

زید :
سنی لیون کہتی ہے ۔۔۔ اے دنیا پیتل دی ۔ .... اسکی وضاحت فرما دیں ؟
بکر:
جی اس کی وضاحت کے لیے اس سے پچھلا مصرع پڑھنا ضروری ہے۔
محترمہ فرماتی ہیں کہ
بے بی ڈال میں سونے دی۔اور باقی دنیا پیتل دی۔
اس سے واضح ہے کہ وہ سونااور پیتل کو استعارہ بنا کر اپنے اور باقی دنیا میں تناسب کو طے فرمارہی ہیں۔
باقی اگر اس کا کوئی پنہاں مطلب ہے تو میں اسے نہیں پاسکا کہ بقولِ شخصے:
المعانی فی البطن شاعر۔
شاد مردانوی :
دیکھئے محترمہ سنی لیون بارک اللہ فی بحر جمالها کے اس کلام کے مطالب حد درجہ وضوح کے حامل ہیں. ان کی متن کا مقصد سمجھنے سے قبل یہ بات سمجھنا ضروری ہے انسان کے خارج کے بارے میں دو مشہور مکاتب فکر موجود ہیں. ایک روحانیت کا اور ایک وجودیت کا. محترمہ سنی لیون کا تعلق ان کے کلام کی روشنی میں


فلسفہ وجودیت کے انتہاپسند طبقے سے واضح ہورہا ہے.
وہ خود کو سونا جو ایک مادہ ہے اور خارج دنیا کو پیتل قرار دیکر دراصل ہر قسم کی روحانیات اور الہامیات سے انکار کررہی ہے.
واضح رہے ہم شدت سے روحانیات اور الہامیات کے قائل ہیں لیکن محترمہ کے حق میں ہم اپنے اصولوں سے مختصر عرصے کیلئے روگردانی کیلئے تیار ہیں...
عمر :
شاد صآحب یہ مختصر عرصہ کتنی مدت پر محیط ہوگا اور کیا اس کے بعد بچی کھچی محترمہ سنی لیون کو جناب سے حاصل کیا جاسکتا ہے یا نہیں
شاد مردانوی :
دیکھئے کتنے عرصے تک؟؟
تو اس کا انحصار تو اپنے اپنے تاب، حوصلے، قوت ارادی، تاب ھزیمت اور ذوق فرار پر ہے.
اور چونکہ ہم بنیادی طور پر مادہ پرست نہیں ہے. لہذا ہم بخوشی مذکورہ مادہ آپ کے دسترس و تحویل میں دینے پر رضامند ہیں
عمر:
جزاک اللہ، آپ کا جذبہ ایثار و قربانی دیکھ کر آنکھیں نم ہوگئی۔ اللہ سب مومنوں کو آپ جیسا دل و جگر و حوصلہ عطا کرے۔ آمین
شاد مردانوی :
ہم سپاس گزار ہیں اپنے عہد کے. کہ آپ ایسے وفاشعار اور وفا شناس اصحاب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا

از ۔شاد مردانوی
‫#‏خرافات_شاد

No comments:

Post a Comment