Friday, 3 July 2015

خلافِ فطرت


امریکا کی عدالت کا حال ہی میں ایک تاریخ ساز فیصلہ سامنے آیا جب امریکا میں ایک طرف ملک کے سائنس دانوں کی جانب سے جینرک (Generic) اجزا کی تشہیر پر زور و شور سے مہم جاری ہے۔ یعنی ان کی جینی ہیئت کو تبدیلی کیے بغیر استعمال کیا جائے کائنات، ماحولیات کو آلودگی سے بچایا جائے قدرتی عمل میں رخنہ نہ ڈالا جائے اور نہ اس کو آلودہ کیا جائے بلکہ ہر شے کے محور کو پوری آب و تاب سے چلنے دیا جائے۔
اس کے مدار میں رخنہ اندازی غیر فطری ہے اور غیر فطری عمل کو ہرگز فروغ نہ دیا جائے اور غیر فطری عمل ہم اس کو قرار دیں گے جس عمل سے کوئی تعمیری پہلو نمایاں نہ ہوں۔ بلکہ منفی نتائج برآمد ہوں مرد اور عورت کے ملاپ سے ایک اور فرد مرد و زن کی نمو ہوتی ہے مگر عورت عورت اور مرد مرد کے اختلاط سے کسی حد تک ایک غیر فطری جنسی پہلو کی بنیاد تو پڑ سکتی ہے مگر اس کا عمل غیر تعمیری اور غیر فطری کہلائے گا۔ کیونکہ دوسرے ذی حیات میں اس کی مثال نہ ملے گی۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ جینرک یا Organic یا نامیاتی


غذا پر بہت زور ہے مغرب میں اور امریکی ریاستوں میں ایسی سبزی اور غذا سے پرہیز کیا جا رہا ہے جس کو کیمیاوی کھاد یا کیڑے مار ادویات کا چھڑ کاؤ کیا گیا ہو، اکثر یہ ہو رہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے پھل خصوصاً آم کی ایکسپورٹ کے کنٹینرکے کنٹینر ان ممالک سے واپس آ گئے کہ پیوند کاری، یوریا کھاد، کے الزامات عائد کر دیے جاتے ہیں۔ بغیر کھاد محض عام مٹی میں پیدا شدہ ٹماٹر جو بمشکل دو انچ کے قطر والے ہوتے ہیں خاصے مہنگے داموں فروخت ہوتے ہیں۔ آرگینک یا جینرک کا زور ہے کیونکہ یہ فطرت کے تقاضوں سے مماثلت رکھتے ہیں۔ مگر جب یہ بات انسان پر منطبق کی جائے تو پھر مغربی دنیا یا یوں کہیے کہ جدت پسند بغیر سوچے سمجھے مخالفت شروع کر دیتے ہیں کہ یہ معاملہ انسانی حقوق کا ہے۔
اب میں ثنا خوان مغرب سے سوال کرتا ہوں کہ آخر وہ کون سی ذی حیات ہے جو ہم جنسی کے سبب پروان چڑھ سکتی ہے۔ بہت سی ایسی جانوروں کی نسلیں ہیں کہ جن کی افزائش نسل سست روی کا شکار ہے۔ اور وہ ناپید ہونے کے قریب ہیں۔ ان کی افزائش نسل کی باقاعدگی سے کوششیں جاری ہیں جن میں پانڈا بھی ایک ہے۔ گویا اگر کسی جاندار میں زندگی کے بعض اجزا کی کمی رہ گئی ہے اور وہ ایک مکمل حیوان یا انسان کے زمرے میں نہیں آتے تو یقینا ان کی ہر طریقے سے ہمت افزائی کی ضرورت ہے۔
ایک انسان کے لیے زندگی کی جو سہولیات موجود ہیں وہ ان کو بھی ضرور ملنی چاہیے، شہری حقوق، مالکانہ حقوق، رہائش، انسانی حقوق، ووٹ ڈالنے کا حق، اظہار رائے کا حق مگر جو چیز اس میں موجود نہیں ہے وہ زبردستی اس میں ٹھونسی نہیں جا سکتی۔ یہ معاملہ آج کا نہیں بڑا قدیم ہے۔ انسان کو اشرف المخلوقات کہا ہی اس لیے گیا ہے کیونکہ وہ آزاد بھی ہے مگر جا بجا پابند بھی۔ مرد اور عورت محض ہارمون کا کھیل ہے۔ نہ ہی کوئی مرد 100 فیصد مرد ہے اور نہ ہی کوئی عورت 100 فیصد عورت، بس ایک تناسب ہے۔
عورت کا مرکزی ہارمون پروجسٹرون (Progestron) اور مرد کا بنیادی ہارمون ٹیسٹو سٹیرون (Testosterone) اور پھر دیگر ہارمون جو ان سے منسلک ہیں بلوغت کے دنوں کی قربت جب آتی ہے تو پھر مردوں کی آواز بدلتی ہے چہرے پر داڑھی مونچھ کا اضافہ ہوتا ہے اور پھر عورتوں میں بلوغت کی نشانیاں نمایاں ہوتی ہیں۔ نمایاں تبدیلیوں کے ساتھ غنائی اور ترنم کی آوازوں سے لگاؤ اور رغبت۔ یہ سب ہارمونز کا کمال ہے مختلف ہارمونز کے اضافے اور کمی ہی مرد اور عورت کی جنس کا فیصلہ کرتی ہے۔
مگر بعض اوقات ہارمون کی درست نشو و نما نہ ہونے پر عام طور پر پروجسٹرون کی اضافی قوت عورتوں کے مظاہر مردوں میں پیدا کر دیتی ہے ایسی کیفیت میں اعضا مرد ہونے کے باوجود عورتوں کی حرکات ان میں پیدا ہو جاتی ہیں اور وہ ’’گے‘‘ (Gay) جس کو انگریزی زبان کے معنوی اعتبار سے خوش مزاج کے نام سے پکارا جاتا ہے جب کہ اردو زبان میں عرف عام میں انکو مخنث کہا جاتا ہے مگر رائج الوقت عام فہم زنخا پکارا جاتا ہے گویا یہ جنس کی تیسری قسم ہے۔ اب اس تیسری جنس کے علاوہ مغربی ممالک اور امریکا میں بے راہ روی نشہ اور دماغی الجھنوں کی وجہ سے ایک ایسی صنف بھی سامنے آئی ہے جس کو چوتھی شاخ کہا جا سکتا ہے جو ہم جنس پرستی پر یقین رکھتی ہے۔
غیر نظریاتی لوگ جو دین دھرم پر یقین نہیں رکھتے وہ ادویات کے اسیر بن جاتے ہیں پھر ادویات بھی ان کو پرسکون نہیں رکھ پاتیں وہ تمام اصول اور عمل کا پردہ چاک کر دیتے ہیں۔ اخلاق کے تمام رائج اصولوں کا پردہ چاک کر دیتے ہیں ان کو ہیومن رائٹس کی انجمنوں نے عمل کی آزادی کی اجازت دے رکھی ہے اور اب تاریخ عالم میں امریکا نے اخلاق کے منہ پر طمانچہ لگایا ہے۔ کیونکہ امریکا میں بڑے عہدوں پر فائز اکثریت ایسے لوگوں کی ہے ایپل (Apple) کمپیوٹر کے مالک کو اپنی اس ادا پہ ناز ہے۔
مگر ایک ہی جنس کے افراد کا میاں بیوی کے طور پر رہنا شادی کرنا اس لیے غیر منطقی ہے کہ فطرت نے ان کے فریب کا پردہ چاک کر دیا ہے کیونکہ ان کا وارث کون ہوگا؟ ان کی اگلی نسل کہاں رہائش پذیر ہے اور اگر فرض کیا جائے کہ یہ اگر کسی بچے کو گود لیتے ہیں اس کی پرورش کرتے ہیں تو ان کا کیا آدرش ہوگا گویا قدرت کے خلاف یہ صریحاً بغاوت ہے۔
اس کا پوشیدہ رہنا ہی معاشرے کے لیے مفید ہے۔ اس عمل کی سرپرستی اور اس کا نمایاں کرنا یا حقوق کی شکل عطا کرنا مناسب نہیں۔ بعض اوقات ہم جنس پرستی ایسے معاشرے کا رخ کرتی ہے جہاں شادی بیاہ کے لیے مشکلات، حصول زر کا مسئلہ ایسے موقعے پر ہم جنس پرستی کا عذاب نازل ہوتا ہے مگر مغرب اور امریکا میں جنسی اختلاط کے وافر مواقعے کے باوجود ہم جنس پرستی محض ایک مرض ہے۔ ہر سال مغرب میں موسم سرما، گرما، آمد بہار کے موقعے پر فیشن شو محض کپڑے کی نمائش نہیں بلکہ جنسی ابھار کا ذریعہ ہے۔
آپ غور کریں مغرب اور خصوصاً ریاست ہائے متحدہ امریکا میں مجموعی طور پر سرد علاقے ہیں چند ماہ کے لیے یہاں گرمیاں آتی ہیں تو پھر بے راہ روی اور عریانی کا ایک شور عورتوں میں برپا ہوتا ہے کہ مرد ان سے متوجہ ہوں خواہ وہ ذاتی محفلیں ہوں یا پبلک پلیس خصوصاً شکاگو کا فوارہ پارک بچوں کے لیے تو تفریح کا ذریعہ تھا ہی جوان عورتوں کو بھی اپنی جسمانی نمائش کی نوید مل جاتی ہے مگر کسی مرد کا دھیان ان پر نہیں ہوتا کیونکہ یہ کوئی انہونی نہیں۔ بس معلوم یہ ہوا کہ حسن وہی پرکشش ہوتا ہے جو کچھ پردے میں ہو۔
اس مسئلے پر مجھے ایک نوجوان انگریز لڑکی سے بات کرنے کا موقع ملا جو نیوجرسی سے وسکانسن جا رہی تھی۔ بقول اس کے جس قدر عریانی بڑھتی جا رہی ہے شادی کا رواج کم ہوتا جا رہا ہے۔ شادی کا بندھن خصوصاً رائج الوقت مرد و زن کی شادی میں پلڑا عورتوں کی طرف ہے اس لیے شادیاں کم ہوگئی ہیں کہ ذمے داریاں کیوں اٹھائی جائیں۔
اور اب تو صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ بظاہر یہ مساوات جو امریکی سپریم کورٹ نے قائم کی ہے امریکی سوسائٹی پر ضرب کاری لگ چکی ہے ان لوگوں نے ریڈ انڈین کی نسل تلف کی ہے اور ان کو جوئے، گانجے، شراب میں ڈبو دیا ہے اب اگر میں علامہ اقبال کی زبان میں بولوں تو یہی کہ یہ تہذیب خود خودکشی پر تیار ہو چکی ہے اور اصل امریکی نسل کی تعداد ہر دس سال بعد 20 فیصد کم ہوتی جائے گی اور ان کی تعداد 40 یا 30 برس بعد سفید فام امریکیوں کی تعداد آج کے مقابلے میں آدھی رہ جائے گی۔

تحریر ۔ انیس باقر

No comments:

Post a Comment