Saturday, 15 August 2015

چودہ اگست کی مناسبت سے ایک مکالماتی نظم آپ کی نذر

"اے بھائی ذرا بات سنوگے؟"
"ہاں بولو پر جو بھی بولو جلدی بولو
چھوٹی بٹیا کو جلدی ہے
اسکی گڑیا کی شادی ہے
گھر میں سب مہمان بھرے ہیں"
"ہاں ہاں بھیا بات تو ہمری چھوٹی سی ہے
بالکل ننھی گڑیا جیسی منی سی ہے
تمرا زیادہ وقت نہ لیں گے
تو پھر یوں ہے
دور افق کے دوجی جانب اک صحرا ہے
اس صحرا میں رنگ برنگے پھول کھلے ہیں"
"رنگ برنگے پھول کھلے ہیں؟اک صحرا میں؟"
"ہاں تو بھیا اس میں کیا ہے؟


ریت کے سینے میں بھی تو اک دل ہوتاہے
اس دل میں جب پیاس کے مارے کانٹے اگنے لگتے ہیں
تو دل روتا ہے
تب صحرا مین رنگ برنگے نیلے پیلے اودے اودے چڑیوں جیسے گل کھلتے ہیں
یہ ننھی ننھی پیاری چڑیاں جب اڑتی ہیں
تو صحرا میں رنگ گھلتے ہیں
ہم اس دیس سےآئے بھیا
اتنا پیارا چنری جیسا رنگ برنگا ھولی کی پچکاری جیسا
عیدوں کی سرشاری جیسا
نئی نویلی دلہن کی شرمیلی سی کھلکاری جیسا
گوٹے اور کناری جیسا
ایسا پیارا دیس ہے ہمرا
اور پتا ہے
دن بھر سورج ریت کے دریا میں رہتا ہے
ریت کا سونے جیسا دریا
سانجھ ڈھلے تک بہتا ہے
سانجھ ڈھلے پھر تارے سارے چاند کے پیچھے چھپ چھپ کے یوں ہم سے آنکھ مچولی کھیلیں
جیسے تمری ننھی بٹیا
ساتھ کسی ہمجولی کھیلے
ایسا سوہنا دیس ہے ہمرا..."
"اچھا ہوگا دیس تمہارا اتنا پیارا
جیسا تم نے بتلایا ہے اس سے بھی کچھ بڑھ کر ہوگا
اب جائیں ہم؟"
"ٹہرو بھیا
کھانے کوکچھ دوگے کیا؟
روٹی کا اک لقمہ یا پھر
چھاگل کے اس بچے ہوئے پانی کا گھونٹ
پچھلی شام شفق میں ڈوبا بجھتا سورج کھایا تھا..
اے بھائی کچھ دان کروگے؟"


تحریر:  قدسیہ ممتاز

No comments:

Post a Comment