Sunday, 9 August 2015

حکمتِ عملی

شام ہے اور ایک حالتِ استفہام ہے۔ میں اور میرا ہمزاد بیٹھے سوچ رہے ہیں اور بول رہے ہیں۔ یہ عمل وقفے وقفے سے جاری ہے۔ جو لفظ ہماری زبان پر بار بار آرہا ہے‘ وہ ’’سیاست‘‘ ہے۔ ہے یوں کہ جہاں سماج ہے وہاں سیاست اور جہاں سیاست ہے وہاں سماج۔ دنیا میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو ایک ایسے سماج کے خواب دیکھتا ہے جہاں کوئی سیاسی نظام یعنی حکومت یا ریاست نہ پائی جاتی ہو۔ اس گروہ کو اردو میں نراجی اور عربی میں قوضوی (Anarchist) کہتے ہیں۔ ایسا ہی سماج میرا اور میرے ہمزاد کا خواب رہا ہے۔یہ خواب کب اور کتنی نسلیں گزرنے کے بعد پورا ہوگا؟ اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن گمان یہ ہے کہ یہ خواب ضرور پورا ہوگا۔ یہ ایک ایسا خواب ہے جسے ہمیشہ مضحکہ خیز سمجھا گیا ہے۔ اس پر انیسویں صدی میں بھی بری طرح ہنسا گیا اور اس صدی میں بھی اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ انسانی ذہن کے سب سے خوب صورت خوابوں
کا مذاق کیوں اڑایاجاتا ہے؟ جو خیالات انسانی ذہن کا سرمایہ ہیں، بیش قیمت ترین سرمایہ انہیں دیوانگی کی پیداوار کیوں سمجھا جاتا ہے؟ جو خیالات دیوانگی کی پیداوار سمجھے گئے انہی نے تاریخ میں انقلابی کردار ادا کیا۔ وہ فکر وخیال کے دیوانے ہی تھے جنہوں نے فرزانگی کی پرورش اور پرداخت کی۔ تہذیب کی تاریخ دراصل دیوانوں ہی کی کارگزاری کی سرگزشت ہے۔
ذکر تھا سیاست کا۔ سیاست کو ایک ایسا عمل سمجھا جاتا ہے جو چالاکی، عیاری، سازش، فریب دہی اور دروغ گوئی سے تعلق رکھتا ہو۔ ایسا سمجھنا ’’سیاست‘‘ کے ساتھ بے حد افسوس ناک ناانصافی ہے۔ یہاں میں جس امر کو واضح کرنے پر اپنے آپ کو مجبور پاتا ہوں، وہ یہ ہے کہ سیاست یا ملک داری (حکومت) حکمت سے تعلق رکھتی ہے اور حکمت کی دو قسمیں ہیں۔
ایک حکمتِ نظری اور
دوسری حکمتِ عملی۔
حکمتِ نظری، منطق، ریاضت، طب، علم ہیئت(Astronomy)، طبیعات اور دوسرے علوم سے تعلق رکھتی ہے۔
اب رہی حکمتِ عملی، حکمتِ عملی کی تین قسمیں ہیں اور وہ ہیں
تہذیبِ اخلاق،
تدبیر منزل یعنی امور خانہ داری کی تنظیم اور
سیاست(یعنی حکومت یا ملک داری)۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاست حکمتِ عملی کی سب سے برتر قسم ہے۔ اگر میری یہ بات صحیح ہے اور ظاہر ہے کہ صحیح ہے ، اس لیے کہ یہ بات میرے ذہن کی ایجاد نہیں ہے بلکہ مہذب معاشروں کی تسلیم شدہ بات ہے تو مجھے بتایا جائے کہ سیاست دانوں یا حکمرانوں کی اکثریت جس طرزِ سیاست پر عمل پیرا ہے‘ کیا اس کا حکمت سے دور کا بھی کوئی واسطہ ہے…؟میری اس بات کے پیشِ نظر سیاست یا ملک داری کا کام چلانے والے لوگوں کامعاشرے کے حکیم ترین یا دانش مند ترین لوگوں کے حلقے سے تعلق ہونا چاہیے۔ ہونا چاہیے یا نہیں… اگر ہونا چاہیے اور ظاہر ہے کہ ہونا چاہیے تو کیا ہم بہت رعایت دینے کے بعد بھی سیاست دانوں یا حکمرانوں کو حکیم ترین اور دانشمند ترین نہ سہی، بہت ادنیٰ مفہوم کے اعتبار سے حکیم یا دانش مند قرار دے سکتے ہیں؟
یہاں چند لمحوں کے لیے رک کر ذرا ہنس لیجئے… سیاست داں یا حکمراں اور حکیم… سیاست داں یا حکمراں اور دانش مند! توبہ توبہ… یہ تو نیم حکیم بھی نہیں ہیں… ہاں خطرۂ جاں ضرور ہیں۔ میں دنیا کے سیاست دانوں یا ملک داروں کی ایک بڑی تعداد سے سوال کرنا چاہتا ہوں اور وہ سوال یہ ہے کہ کیا تمہارے عوام نے قومی معاملوں میں بھی کبھی قوم کو مایوس کیا…؟ ان میں سے کس کی مجال ہے جو یہ کہے کہ مایوس کیا۔ ہرگز مایوس نہیں کیا۔ پھر تم کیسی بدبلا ہو جو اپنی قوم کو لگا تار مایوس کرتے چلے آرہے ہو، تمہارے عوام نے ہمیشہ تم پر اعتبار کیا، پر تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تمہارے پیش رو اور تم ہمیشہ ناقابلِ اعتبار ٹھہرے۔ انہوں نے ہمیشہ تم سے عزیز ترین امیدیں وابستہ کیں، پر تم نے انہیں بڑے بڑے اور بینڈے انداز کے ساتھ ناامید کیا۔ تمہارا ٹولا تو بس بڑبولے پن کا ہنر مند اور آنکھوں میں دھول جھونکنے پر کاربند رہا ہے۔آخر تم لوگ کس غرے میںہو۔ کیا تم روشنی کے جنے ہو۔ کیا تم رنگ و خوشبو کے بیٹے ہو، کیا تم سلیقے اور شائستگی کے لے پالک ہو…؟ نہیں جانا جاتا کہ آخر تم کون ہو؟ جنہوں نے تم سے شروع شروع میں آس لگائی، ان کی بھویں بھی سفید ہوچکی ہیں اور جوان کے بعد آئے وہ… اور جو ان کے بعد آئے وہ اس عذاب میں مبتلا ہیں جسے ہونے کے احساس کی جان کنی کہتے ہیں۔
حقیقتِ حال یہ ہے کہ انسانوں کے حقیقی مسئلوں کو نہ تو سائنس دان حل کرسکتے ہیں۔ نہ فلسفی، نہ شاعر اور نہ ادیب… یہ فرض تو صرف سیاست داں اور حکمراں ہی ادا کرسکتے ہیں، اس لیے کہ عوام ان ہی کی بات سنتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ اپنی بات منوانے کی طاقت صرف سیاست دانوں یا حکمرانوں ہی کو حاصل ہے۔ آج انسانوں کے مسئلے پہلے سے کہیں زیادہ الجھے ہوئے ہیں اور یہ الجھے ہوئے مسئلے کسی ایک ملک یا ایک علاقے کے عوام کو متاثر نہیں کر رہے بلکہ دنیا کے تمام انسانوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ کیا دنیا کے سیاست دانوں اور حکمرانوں کا گروہ اس صورتِ حال کو حکمت پسندی، دانش مندی اور انسان دوستی کے پیشِ نظر رکھے گا یا نہیں؟

تحریر : جون ایلیا

No comments:

Post a Comment