Tuesday, 8 September 2015

جدید تہذیب وعالمی ضمیر


کیا اس طرح بے بسی کی موت مرنے والے بچے ( ایلان ) کی یہ پہلی تصویر ہے جو پوری انسانیت کے منہ پر طمانچے کی طرح ثبت ہوئی ہے۔ نہیں اس جدید تہذیب کے منہ پر ہزاروں بلکہ لاکھوں طمانچے ایسے ہیں جو اپنی انگلیوں کے نشان تک چھوڑ کر گئے ہیں۔ جدید تہذیب جس کی سب سے بڑی پہچان جدید سیکولر قومی ریاستیں اور ان کی سرحدیں ہیں۔ وہ سرحدیں جن میں کسی دوسرے انسان کا گھسنا حرام ہے۔ سرحد کے بان کے پہریدار بندوقوں سے مسلح وہاں موجود ہوتے ہیں۔ آپ کو کسی دوسرے ملک میں یا تو پناہ کی بھیک مل سکتی ہے یا پھر اگر انھیں آپ کے کام کی ضرورت ہو تو مزدوری۔ آپ کے پاس سرمایہ ہے تو آپ کا استقبال بھی کیا جاتا اور آپ کو عزت و توقیر بھی ملتی ہے۔ آپ کے لیے یہ تمام سرحدیں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ آسٹریلیا سے لے کر امریکا تک آپ اپنا کاروبار چمکا سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ آپ سمندروں میں غرق ہو جائیں‘ صحراؤں میں جان دے دیں‘ رستے میں ڈاکو آپ کو لوٹ لیں‘ آپ کی عورتیں اغوا کر کے دنیا کے بازاروں میں بیچی جائیں‘ بچے پیاس سے تڑپ کر جان دے دیں۔ کوئی آپ کے لیے اپنی سرحدوں کے دروازے نہیں کھولے گا۔ یہ جدید سیکولر قومی ریاستوں کا ’’خوبصورت‘‘ چہرہ ہے جو 1920ء میں لیگ آف نیشنز میں پاسپورٹ کے ڈیزائن


منظور ہونے کے بعد تحریر کیا گیا۔ جس کے بعد میں 1924ء میں ویزا ریگولیشنز آئے‘ بارڈر سیکیورٹی فورسز قائم ہوئیں اور پوری دنیا کو ایک بہت بڑے چڑیا گھر میں تبدیل کر دیا گیا۔ خار دار تاروں کے پنجروں کے پیچھے کوئی ترک تھا تو کوئی عرب‘ کوئی ہسپانوی تھا تو کوئی ایرانی۔ بانکے پہریدار کسی کو اپنے پنجرے میں گھسنے کی اجازت نہیں دیتے‘ خواہ ایک جانب غلے کے گوداموں میں غلہ کائی لگنے سے ضایع ہو جائے اور دوسری جانب روزانہ قحط سے لوگ مر رہے ہوں۔ جدید قومی سیکولر ریاستوں کی سرحدوں کا تحفظ مفلوک الحال انسانوں کی جانوں سے زیادہ مقدس اور محترم ہے۔
یہ ساحل تھا اور یہی ترکی کا شہر قسطنطنیہ جب یہ مسلم امہ سرحدوں اور جدید سیکولر قومی ریاستوں میں تقسیم نہیں ہوئی تھی۔ کوئی عربی، ایرانی، مصری، شامی اور لبنانی نہیں تھا۔ خلافت عثمانیہ کے تخت پر بایزید دوم متمکن تھا۔ اس دوران 1492ء میں اسپین پر ازبیلا اور فرڈینینڈ نے قبضہ کر لیا اور کیتھولک چرچ نے ایک ٹرائبیونل قائم کیا جس کا مقصد غیر عیسائیوں‘ ملحدوں اور چرچ کے مخالفین سے زمین کو پاک کرنا تھا۔ اس کا نام تھا “Tribunal del officio de la inguicion” اس کا مقصد غیر عیسائیوں کو زبردستی عیسائی کرنا‘ ان کو ملک بدر کرنا‘ قتل کرنا‘ غلط نظریات رکھنے والوں کو آگ میں جلانا اور عمر بھر جیل میں قید رکھنا تھا۔ 31 مارچ 1492ء کو ایک حکم نامہ جاری کیا گیا‘ جسے حکم نامہ الحمراء کہا جاتا ہے جس کے تحت حکم دیا گیا کہ تمام یہودی 31 جولائی تک اسپین چھوڑ دیں۔
یہودیوں پر اسپین میں نہ رہنے کی پابندی 16 ستمبر 1968ء تک قائم رہی جب دوسری ویٹیکن کونسل نے 1492ء کے حکم نامے کو منسوخ کر دیا اور 2014ء یعنی گزشتہ سال اسپین کی حکومت نے یہ قانون منظور کیا ہے کہ وہ یہودی جو یہاں سے چلے گئے تھے، ان کی نسل میں کوئی شخص اگر ثابت کرے تو وہ دہری شہریت کے طور پر اسپین کی شہریت حاصل کر سکتا ہے۔ اس ٹرایبونل کے مظالم سے تاریخ کے صفحات بھرے ہوئے ہیں۔ اس ٹرایبونل کے مظالم سے تاریخ کے صفحات بھرے ہوئے ہیں۔ شاعروں، مصوروں، سائنس دانوں اور فلسفیوں کو جمع کیا جاتا‘ ٹرائبیونل فیصلہ کرتا کہ ان میں شیاطین کی روح گھس گئی ہے۔ پھر ایک دن شہر کے بیچوں بیچ بہت بڑا الاؤ روشن کیا جاتا اور ان سب کو اس میں پھینک دیا جاتا۔ یہودیوں کو جب یہ حکم ملا کہ وہ ناپاک ہیں اور اسپین چھوڑ دیں تو ان میں نصف کے قریب عیسائی ہو گئے۔ چرچ کے پروہتوں نے یہ حکم جاری کیا کہ وہ روزانہ ان کے سامنے سور کا گوشت کھائیں گے اور ہفتہ یعنی یہودیوں کی چھٹی کے دن اپنی دکانیں کھولیں گے۔ ایک مہینے کی مہلت تھی۔ لاکھوں یہودی چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں سوار اسی سمندر میں پناہ اور امان کی تلاش میں بھٹکنے لگے۔
کچھ کو قریب کے افریقی ساحلوں پر رہنا نصیب ہو گیا لیکن تاریخ کا روشن باب یہ ہے کہ سلطان بایزید دوم کو جب ان کی حالت زار کا علم ہوا تو اس سمندر میں بکھرے یہودیوں کو بچانے کے لیے اپنا سب سے بڑا بحری جہاز ’’کمال رئیسں‘‘ روانہ کیا جو تقریباً ڈیڑھ لاکھ یہودیوں کو سمندر کی لہروں کے سپرد ہونے سے بچا کر لایا۔ یہودیوں کو خلافت عثمانیہ کے کسی بھی شہر میں آباد ہونے، کاروبار کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس وقت تک جدید قومی سیکولر ریاستوں کے قیام کے بعد پناہ گزین‘ مہاجرین‘ یا عارضی شہری کا تصور نہیں تھا جو آج کی مہذب دنیا کا تحفہ ہے۔ کسی سے شہریت دینے کے لیے پانچ‘ دس یا پندرہ سال تک مملکت سے وفاداری کا تجربہ نہیں مانگا جاتا تھا۔ پہلے کام کا ویزہ، پھر عارضی رہائش اور پھر شہریت کے جدید مہذب قوانین نہیں تھے۔ انسان دنیا بھر کے انسانوں کو اپنی طرح ہی کے انسان تصور کرتے تھے۔ یہ یہودی ترکی میں آباد ہو گئے۔ 1923ء میں جب خلافت عثمانیہ ٹوٹی اور ترکی بھی ایک جدید سیکولر قومی ریاست بن گیا تو یہودیوں نے یروشلم کی جانب آہستہ آہستہ جا کر آباد ہونا شروع کیا۔ 1949ء میں کمال اتاترک کے سیکولر ترکی نے اسرائیل کو تسلیم کیا تو یہودیوں کی اکثریت وہاں جا کر آباد ہوئی۔ اسے دنیا میں اسرائیل کی طرف جانے والی دوسری بڑی ہجرت کہا جاتا ہے۔
یہودی اسرائیل میں آباد ہو گئے بلکہ آباد کر دیے گئے۔ وہ لوگ جو اس وقت عالمی ضمیر کے جاگنے اور برطانوی وزیر اعظم کے ضمیر کے زندہ ہونے پر تحسین کے ڈونگرے برسا رہے ہیں انھیں 1982ء کا صابرہ و شتیلہ کا وہ قتل عام اور اس کی تصویریں یاد نہیں آ رہی ہیں۔ انھیں گلیوں میں کھیلتے ان سیکڑوں معصوم بچوں کے گولیوں سے چھدے جسموں کی تصویریں بھول گئی ہیں۔ انھیں غزہ کے معصوم بچے یاد نہیں آئے جو اسرائیل کی بمباری سے اسپتالوں میں مارے گئے‘ گھروں میں ان کے جسموں کے پرخچے اڑا دیے گئے۔ انھیں عراق کے فلوجہ میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قتل ہوتے بچوں کی تصویریں بھول گئیں۔ افغانستان میں غزنی کے قریب امریکی فوجی ہیلی کاپٹر سے پوری کی پوری بارات کی لاشیں کیا ذہن سے محو ہو گئیں۔ روہنگیا مسلمانوں کے بچوں کی لاشیں تو آج بھی کبھی ملائیشیا اور کبھی تھائی لینڈ کے ساحلوں پر دفنائی جاتی ہیں۔
یہ عالمی ضمیر کس چڑیا کا نام ہے۔ یہ انسانی حقوق کس خطے میں پائے جاتے ہیں۔ ایلان کُردی وہ تین سالہ بچہ جسے کوبانی کے شہر میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ اس کے آباؤ اجداد کو تقسیم کس نے کیا اور کیوں کیا۔ وہ جو صلاح الدین ایوبی کے وارث تھے آج یورپ میں پناہ حاصل کر کے خوش ہو رہے ہیں۔ انھیں جدید قومی ریاستوں کی تخلیق کے وقت شام، عراق، ترکی، اردن اور ایران میں تقسیم کر دیا گیا۔ ان کے گرد عالمی سرحدیں کھینچ دی گئیں۔ ان کے ہاتھ میں بندوق دے کر کہا گیا لڑو‘ ترکی سے لڑو‘ ایران سے لڑو‘ شام سے لڑو‘ عراق سے لڑو‘ پھر انھیں در بدر کیا گیا۔ وہ کبھی روس کے ہاتھ میں کھیلے اور کبھی امریکا کا کھلونا بنے۔ صلاح الدین ایوبی کی قوم جس سے شکست آج بھی مغرب نہیں بھولا۔ کس قدر انا کو تسکین ملی ہو گی۔ برطانوی وزیراعظم اور یورپ کے دیگر حکمرانوں کو جب انھوں نے اعلان کیا ہو گا کہ ہم ان کرد مہاجرین کے لیے سرحدوں کے دروازے کھولتے ہیں۔ سوال کیا جاتا ہے مسلم امہ کہاں ہے۔ مسلم امہ کہاں ہے۔ ستاون اسلامی جدید قومی ریاستوں پر سیکولر حکمران مسلط ہیں۔ وہ اتنے ہی قوم پرست ہیں جتنا کوئی فرانسیسی یا برطانوی ہو سکتا ہے بلکہ ان سے بھی 
زیادہ۔

تحریر : اوریا مقبول جان

No comments:

Post a Comment