Thursday, 24 September 2015

قانون کا دروازہ

قانون کے دروازے پر ایک(دیوتا) دربان کھڑا تھا۔ ایک دیہاتی دروازے کے سامنے کھڑے دربان کے پاس آکھڑا ہوا۔ اس نے قانون کے دروازے کے اندر داخلے کی اجازت مانگی۔

دربان نے جواب دیا کہ اُس لمحے وہ دروازے کے اندر داخل نہیں ہوسکتا۔ دیہاتی سوچ میں پڑگیا۔ پھر پوچھنے لگا کہ آیا بعد میں اسے داخلے کی اجازت مل جائے گی۔ اس پر دربان نے جواب دیا:’’ہاں، ہاں ، کیوں نہیں۔۔۔ البتہ اس وقت ایسا کرنا ممکن نہیں۔۔۔‘‘
قانون کے دروازے کھلے تھے اور دربان ایک طرف ہٹ کر بیٹھ گیا۔ دیہاتی نے جُھک کر دروازے کے اندر جھانکا۔ دربان نے اسے، ایسا کرتے ہوئے دیکھا۔ وہ ہنسا او رکہنے لگا:
’’۔۔۔ اگر تمہیں اندر داخل ہونے کی اس قدر کشش محسوس ہو رہی ہے تو تم میرے منع کرنے کے باوجود بھی اندر جاسکتے ہو۔ مگر تمہیں معلوم ہوناچاہئے کہ


میں ہی واحد خودمختار نہیں ہوں۔ اندر ہر ایک ہال کے بعد دوسرا ہال ہے۔ ہر ہال کے سامنے ایک دربان کھڑا ہے۔ ہر دربان ایک سے بڑھ کر زیادہ طاقتور ہے۔۔۔میری تو ان کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہی نہیں۔ تیسرا دربان اس قدر طاقتور ہے کہ میں اس کو دیکھنے کی بھی طاقت نہیں رکھتا۔‘‘

دیہاتی کو داخلے سے متعلق دقتوں کا ہرگز اندازہ نہ تھا۔ اس کا خیال تھا کہ قانون ہر وقت، ہر ایک کی دسترس میں ہونا چاہئے۔ دیہاتی نے دربان کو بہت قریب سے دیکھا۔ اسے معلوم ہوا کہ دربان نے فرکوٹ پہنا ہوا ہے، اس کی لمبی اور تیکھی ناک ہے۔ اس کی داڑھی تاتاریوں کی طرح سیاہ اورخشخش ہے۔ اس نے دِل میں فیصلہ کیا کہ اسے داخلے کی اجازت ملنے تک انتظار کرنا چاہئے۔
دربان نے اسے بیٹھنے کے لئے ایک سٹول دے دیا۔ اسے دروازے کی ایک جانب بیٹھنے کی اجازت دے دی۔ یہاں وہ سینکڑوں دِن کیا برس ہا برس بیٹھا رہا۔ اس نے بارہاقانون کے دروازے میں داخلے کی کوششیں کیں مسلسل، دربان سے داخلے کی اجازت مانگتا رہا۔ دربان، اس کی ان حرکتوں کی وجہ سے زچ ہورہا تھا۔
دربان نے دیہاتی کے ساتھ مختلف اوقات میں چھوٹے موٹے سوالات بھی کئے۔ وہ دیہاتی سے اس کے گھر او ردیگر معاملات پرا ستفسار کرتا رہا۔ اس کا سوال کرنے کا انداز بالکل امراء جیسا تھا۔ وہ ہر بات کے آخر میں یہی کہہ رہا تھا کہ ابھی اسے داخلے کی اجازت نہیں مل سکتی۔
دیہاتی کے پاس زاد راہ کے لئے بہت سی چیزیں تھیں۔ اس نے ان میں تمام قیمتی اشیاء کی قربانی دے کر انہیں دربان کو رشوت کے طو رپر پیش کردیا۔ دربان ہر چیز قبول کرتا جارہا تھا مگر ساتھ ہی یہ بھی کہہ رہا تھا کہ وہ یہ چیزیں محض اس لئے قبول کررہا ہے تاکہ دیہاتی مسلسل سوچتا رہے۔ وہ ان چیزوں کے بارے میں سوچتا رہے تو اب تک اس نے رشوت کے طور پر پیش نہیں کیں۔
ان تمام سالوں کے دوران دیہاتی کی تمام ترتوجہ مسلسل دربان کے اوپر مرتکزرہی۔ وہ دیگر دربانوں کو بھول گیا۔ اسے اوّلین دربان ہی واحد اور سب سے بڑی رکاوٹ لگ رہا تھا۔ وہ یہاں آنے کے بعد ابتدائی دِنوں میں اپنی قسمت کو کوستا رہا۔
جب وہ بوڑھا ہونے لگا تو اس نے اپنے آپ پر لعن طعن شروع کردی۔ وہ بچوں کی طرح حرکتیں کرنے لگا۔ دربان کے بارے میں اس کے سالہاسال کے غور وفکر کے بعد اسے دربان کے فرکوٹ میں موجود پسوؤں کا بھی پتہ چل گیا۔ اس نے ان پسوؤں سے بھی درخواست کی کہ وہ دربان کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنے کے لئے سفارش کریں۔
آخر کار اس کی بنیائی ختم ہونے لگی۔ اسے یہ بھی ہوش نہ رہا کہ اس کے اردگرد کی دنیا میں اندھیرا چھانے لگا ہے یا اس کی آنکھیں اسے دھوکہ دے رہی ہیں۔ قانون کے دروازے سے مسلسل روشنی نکل رہی تھی۔ بیتائی کے خاتمے کے باوجود بھی اسے اس مقدس روشنی کے مدھم ہونے کا احساس ہرگز نہ تھا۔
اب اس کے پاس زندہ رہنے کے لئے زیادہ وقت نہ تھا۔ مرنے سے پہلے، اس کی اپنی زندگی کے تجربات اس کے دماغ میں ایک نکتے پر مجتمع ہوگئے۔ اس نے ابھی تک ایک سوال دربان سے نہیں پوچھا تھا۔ اس نے دربان کو قریب آنے کا اشارہ کیا۔ اس وقت اس کا جسم مسلسل بے جان ہورہا تھا۔ اس میں اٹھنے کی سکت بھی نہ تھی۔ دربان کو اس کے سامنے جھکنا پڑا۔ دیہاتی، دربان کے مقابلے میں بہت کمزور تھا۔



’’اچھا، اب تمہیں کس بات کے بارے میں پوچھنا ہے،

تمہارا تجسس ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔‘‘ 
دربان نے پوچھا۔

دیہاتی نے سوال کیا۔
’’ہر شخص قانون کے قریب آنے کی کوشش کرتا ہے۔ آخر وہ کونسی وجہ ہے کہ اتنے سارے برسوں میں میرے علاوہ کسی نے اس دروازے کے اندر داخل ہونے کی خواہش ظاہر نہیں کی۔۔۔؟‘‘

دربان کو اندازہ ہو چکا تھا کہ دیہاتی کا آخری وقت آن پہنچا ہے۔ دیہاتی کے حواس اب اپنا کام کرنا چھوڑ رہے تھے۔ اس نے دھاڑتے ہوئے دیہاتی کے کان میں کہا:

’’آج تک کوئی اور شخص اس دروازے کے اندر داخلے کی اجازت نہیں حاصل کرسکا۔ یہ دروازہ دراصل صرف تمہارے لئے ہی بنا ہے۔۔۔ اب جبکہ تم مر رہے ہو، اب میں اس دروازے کو ہمیشہ کے لئے بند کررہا ہوں۔۔۔‘‘
*
تحریر: کافکا۔ ترجمہ: سبط حسن


No comments:

Post a Comment