Wednesday, 18 November 2015

اسلام: بنیاد پرستی بمقابلہ جدیدیت


پیرس پر دہشت گردوں کے حملے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ دنیا سے دہشت گردی کا خاتمہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک ماڈریٹ مسلمانوں اور بنیاد پرست مسلمانوں کے درمیان کوئی متفقہ حل تلاش نہیں کر لیا جاتا۔ نائن الیون کے بعد القاعدہ کے خلاف بھرپور جنگ لڑی گئی ، اسامہ بن لادن کو مطعون کیا گیا لیکن ردعمل کے طور داعش اور دولت اسلامیہ وجود میں آگئیں۔

اگراسی طرح داعش اور دولت اسلامیہ کے خلاف آپریشن کیا گیا تو پھر دہشت گردی کا اگلا ورژن (ٹیررازم3) وجود میں آ سکتا ہے۔ دنیا میں امن صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو برداشت کرتے ہوئے تمام فرقوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کریں اور اس خیال کو رد کردیں کے مسلمان ایک مخصوص دائرے تک ہی محدود نہیں۔

مسلم دنیا نے کئی صدیوں تک دنیا پر راج کیا لیکن یہ آج کی جدید دنیا سے سمجھوتہ نہیں کر پائی۔ مسلمان جو اپنے


آپ کو دنیا کی بہترین قوم سمجھتے ہیں لیکن قرونِ وسطیٰ کے مسلم قوانین کے ذریعے دنیا پر راج کرنا چاہتے ہیں ۔ مثال کے طور پر مسلم سپین میں مذہبی ہم آہنگی، معتدل اسلام کا نمونہ تھی جہاں غیر مسلموں کو اپنے عقائد کے مطابق نہ صرف زندگی گذارنے کی آزادی تھی بلکہ مشروط طور پر تبلیغ کی بھی اجازت تھی۔

قرون وسطیٰ کا یہ معتدل مسلم رویہ آج کی جدید سیکولر ریاستوں میں کوئی جگہ نہیں پا سکتا۔مسلمان رہنما مسلم دنیا کو جدیدیت کی طرف لانا چاہتے ہیں جبکہ کئی رہنما جدید دنیا کو اسلامائز کرنا چاہتے ہیں۔

جدیدیت کی وجہ سے جو روایتی اسلامی دور ختم ہو گیا ہے وہ مغربی آئیڈیالوجی کا مخالف نظریہ ’’ سیاسی اسلام‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔یورپ اور شمالی امریکہ کے برعکس مسلم علاقوں کو یہ موقع نہیں مل سکا کہ وہ وقت کے ساتھ ساتھ جدید بن سکیں۔ برطانوی اور فرانسیسیوں نے عربی بولنے والے مسلم علاقوں میں، روس نے وسطی ایشیا میں ، ڈچ نے انڈونیشیا میں ، برطانیہ نے انڈیا اور ملایا کے مسلم علاقوں میں نئے آئیڈیاز اور ٹیکنالوجی متعارف کرائی۔

مسلم اشرافیہ کا اس تبدیلی پر ردعمل دو طرح سے تھا۔ پہلا ردعمل تو یہ تھا کہ مسلم اشرافیہ کے کچھ حصے نے 19 ویں اور 20 ویں صدی میں جدید نظریات کو اپنایا ۔ جدیدترکی کے بانی کمال اتا ترک نے ایک کسان کو اس کے سوال کہ’’ مغربیت کیا ہے ‘‘ کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ اس کا مطلب ہے کہ ایک بہتر انسان ہونا‘‘۔ جبکہ مسلم اشرافیہ کے ایک حصے نے جدید نظریات کو رد کرکے پرانے نظریات کے دوبارہ احیاء کا علم اٹھایا۔

انیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے آغاز میں مسلم سکالرز اور رہنماء اس بات پر زور دے رہے تھے کہ مسلم دنیا کو جدیدیت کی طرف مائل کیا جائے۔ تاہم 20 ویں صدی کے اختتام اور اکیسویں صدی کے شروع میں یہ عمل الٹا ہوگیاہے اور اب جدید دنیاکو اسلامائز کرنے کی تحریک زیادہ تیز نظر آتی ہے۔ ہم عصر جہادی، قرون وسطیٰ کے نظریات کو نافذ کرنے کے لیے جدید ذرائع، انٹر نیٹ اور جدید اسلحہ کا استعمال کررہے ہیں ۔ ان کی آئیڈیالوجی کو فوجی حکمت عملی کے ذریعے شکست نہیں دی جا سکتی ۔

اسلامی تحریکیں اپنے ساتھیوں کی شکست کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے مزید نئے وفادار ساتھی ساتھ ملا رہی ہیں۔یہ رحجان جنگ کی طرف مائل ہو تا ہے۔ یہ خیال کہ خودکش حملہ آور غریب آدمی کا ایف سولہ طیارہ ہے ، مسلم افواج کی شکست کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ یاسر عرفات اور اس کی الفتح تنظیم نے نوجوان فلسطینیوں کو اس وقت اپنی طرف مائل کیا جب انہیں 1967 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ویسٹ بینک کا علاقہ کھویا۔1971 میں پاکستان کی بھارت کے ہاتھوں بنگلا دیش میں شکست کے بعد کشمیر میں مذہبی عسکریت پسندی میں اضافہ ہوا۔

اسلام کی بنیاد پرست اور انتہا پسندتشریح زیادہ تر مسلمانوں کے نزدیک قابل قبول نہیں لیکن یہ واضح طور پر سیاسی ایجنڈہ کو آگے بڑھاتی ہے۔ اسلامسٹ ،مسلم افواج کی شکست پر سمجھوتہ کرنے کی بجائے انتقام لینے کا سوچتے ہیں اور ان کے لیے جنگ کی کوئی فرنٹ لائن نہیں ہوتی اور نہ ہی چند سال حتیٰ کہ یہ جنگ دہائیوں تک محدود نہیں ہوتی ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی آئندہ آنے والی نسلیں بھی انتقام لیں گی۔ برطانوی راج کے خلاف جہاد ایک زیر زمین تحریک تھی جو 1830 میں شروع ہوئی اور 1870 تک چلی اور اس کی باقیات 20 ویں صدی میں بھی سامنے آئیں۔

آج کے دور میں اسلام کی بنیاد پرستی پر مبنی تشریح ہی زیادہ تر مسلمانوں کی عام سوچ ہے لیکن مسلمان ممالک اسے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ترقی پسند مسلمانوں کی بڑی تعداد مغرب مخالف اور مذہب مخالف ان عقائد کا سامنا کرنے کو تیار ہیں جو اسلامسٹ بیانیہ کو تقویت دیتے ہیں۔ مسلم دنیا میں اسلامسٹ سیکولر سوچ رکھنے والوں کو نہ صرف قتل کردیتے ہیں بلکہ ان کی بڑی تعداد کو ملک چھوڑنے پر مجبور کردیتے ہیں۔

دنیا میں مسلمانوں کی تعداد 1.4 بلین ہے جو دن بدن بنیاد پرستوں کی تعداد میں تبدیل ہو تی جارہی ہے۔ اگر صرف1.4 بلین کا ایک فیصد بھی بنیاد پرستی اختیار کرتا ہے
اور ان کا دس فیصد ایسے متشدد افراد کی نفری مل سکتی ہے جو القاعدہ اور داعش میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے تیار ملے گی۔صرف سنجید ہ اور نظریاتی کوشش (جیسی کے کمیونزم کے خاتمے کے لیے کی گئی تھی ) ہی قرون وسطیٰ کی اسلامی آئیڈیالوجی سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

تحریر :حسین حقانی ۔ (امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر رہ چکے ہیں)
ڈیلی ٹیلی گراف، لندن
ترجمہ : عیسیٰ ملک

No comments:

Post a Comment