Tuesday, 12 January 2016

مودی , افغانستان اور لاہور


امریکہ یقینا ایک بہت طاقت ور ملک ہے۔ پاکستان اور بھارت جیسے ممالک سے اپنی کوئی بات منوانے پر ڈٹ جائے تو اکثر کامیاب بھی ہوجایا کرتا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم کی  ”اچانک“ لاہور آمد کو لیکن صرف امریکہ کے کھاتے میں ڈال دینا مناسب نہ ہوگا۔ پاکستان اور بھارت دو ایٹمی ملک ہیں۔ ان دونوں کے درمیان ”تم نہیں یا ہم نہیں“ والی جنگ آج کی دُنیا کا کوئی ملک برداشت ہی نہیں کرسکتا۔

چین جو اپنا یار ہے اور جس پر جان بھی نثار ہے، کاشغر کو ایک طویل شاہراہ کے ذریعے گوادر سے ملاکر بحر ہند کے سمندری راستوں سے ایشیاءاور افریقہ کے تمام ممالک کے ساتھ اپنے تجارتی روابط کو وسیع تر کرنا چاہ رہا ہے۔ سمندری راستوں تک رسائی کے حصول کے لئے وہ 46ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کرنے پر تلا بیٹھا ہے۔
چینی پوری دُنیا میں جبلی طورپر طویل المدتی منصوبے بنانے والے کاروباری افراد تسلیم کئے جاتے ہیں۔ پانی کے دو گھونٹ پی کر ذرا سوچئے کہ وہ کسی ایسے ملک میں 46ارب ڈالر کی خطیر رقم میگا پراجیکٹس کی تعمیر پر خرچ کرنا چاہیں گے جو کسی بھی وقت اپنے ازلی دشمن مگر ایک ہمسایہ ملک کے ساتھ ایٹمی جنگ لڑنے کا تہیہ کئے بیٹھا ہے؟


دور رس معاشی مفادات کے بارے میں قطعی لاعلم شخص ہی یہ فرض کرنا چاہے گا کہ چین کو پاکستان سے ملانے والی جدید ترین شاہراہ کبھی چینی اور بھارتی ٹرالرز کے ذریعے خام مال یا تیار شدہ اشیاءبھجوانے کے لئے استعمال نہیں کی جائے گی۔

برکھادت کی بتائی سجن جندال والی کہانی سے لہذا بالاتر ہوکر سوچئے۔ صحافیوں کو کتابیں لکھنے کا شوق بھی ہوا کرتا ہے۔ خبریں خواہ کتنی ہی دھانسو کیوں نہ ہوں بالآخر بھلادی جاتی ہیں کیونکہ خلقتِ شہر کو ہر روز کوئی نیا فسانہ سننے کی عادت ہوتی ہے۔ ایک رپورٹر کی دی خبر کے بعد کسی اور رپورٹر کے Exclusiveکے چرچے شروع ہوجاتے ہیں۔ رات گئی بات گئی والاقصہ ہوجاتا ہے۔ کتابیں لکھنے کے ذریعے رپورٹر خواتین وحضرات بہت دیر تک آپ کے ذہنوں میں زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ صرف یہ خواہش ہی مگر ذاتی انا کی تسکین کے لئے کافی نہیں ہوتی۔ لوگوں کو یہ بتانا بھی ضروری ہوجاتا ہے کہ آپ نے ”تاریخ بننے“ کے مراحل کو بہت قریب سے دیکھاہے۔
سجن جندال کے مودی، نواز شریف اور اب ان کے حال ہی میں بننے والے رشتے دارچودھری منیر کے ساتھ روابط کی کہانیوں سے فرصت ملے تو ذرا یہ بھی یاد کرلیں کہ ایک ملک ہوتا ہے-سعودی عرب۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اس کے شاہ فیصل سے دوستی بڑھاتے ہوئے ایران کے شہنشاہ کو پاکستان سے ناراض کردیا تھا۔ رضا شاہ پہلوی نے جواباََ افغانستان کے سردار داﺅد اور بھارت سے تعلقات کو دوستانہ اور گہرا بنانا شروع کردیا۔ بھٹو نے زیادہ پریشانی نہیں دکھائی۔ اس حقیقت کو جان لیا تھا کہ پاکستان کی بے تحاشہ بڑھتی آبادی کے بے زمین افراد اور ہنر مندوں کو صرف پٹروڈالر سے مالا مال عرب اور خلیجی ممالک ہی میں کھپایا جاسکتا ہے۔ جنرل ضیاءالحق نے بہت سی دیگر پالیسیوں کی طرح ذوالفقار علی بھٹو کی عرب نوازی کو بھی برقرار رکھا اور نوا ز شریف بھی اس پر شدت سے قائم رہے۔
انقلابِ ایران کے بعد بھی بھارت کے اس ملک کے ساتھ تعلقات بہت گہرے رہے ہیں۔ اپنے لئے تیل حاصل کرنے کے لئے اس نے سب سے زیادہ انحصار اس پر ہی کیا۔ پھر آگیا امریکہ میں اوبامہ۔ ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے ضروری تھا کہ اس کے تیل کو خریدار نہ ملیں۔ بھارت جیسے ممالک نے دہائی مچادی کہ ایران جس قیمت پر انہیں تیل فراہم کررہا ہے وہ کسی اور ملک سے مل ہی نہیں سکتا۔
بھارت کی اس ضمن میں پریشانیوں کو رفع کرنے کے لئے بطور امریکی وزیر خارجہ، ہیلری کلنٹن خاص طورپر نئی دہلی گئی اور وہاں ایک پریس کانفرنس کے ذریعے وعدہ کیا کہ بھارت کی تیل والی ضروریات سعودی عرب انہی نرخوں پر فراہم اور پوری کرنے کو تیار ہے جن کی ذمہ داری ایران نے اپنے سر لے رکھی تھی۔طویل مذاکرات کے بعد اب ایران نے امریکہ سے ایک جوہری معاہدہ کرلیا ہے۔ سعودی عرب کو فکر لاحق ہے کہ اس معاہدے کے بعد ایرانی تیل ایک بار پھر عالمی منڈی میں بھرپور انداز میں میسر ہونا شروع ہوجائے گا۔ وہ اس حوالے سے بھارت جیسی منڈی کو ہاتھ سے نہیں جانے دے گا۔
تیل سے جڑے معاشی مفادات کے ساتھ ہی ساتھ سعودی عرب کو بے تحاشہ فکر یمن، عراق، شام اور لیبیا جیسے ملکوں میں ایران کے حامیوں اور داعش کے انتہاءپسندوں کے بارے میں لاحق ہوچکی ہے۔ اپنے خدشات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس نے بھی 34ممالک پر مشتمل ایک اتحاد کا اعلان ”اچانک“ کردیا تھا۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری اتحاد کے اس اعلان پر ”حیران“ ہوگئے تھے۔
میرے ساتھی جو مودی کی لاہور میں ”اچانک“ آمد پر اتنے چراغ پا نظر آرہے ہیں، اپنے سیکرٹری خارجہ کے سعودی عرب کی جانب سے اعلان کردہ اتحاد کے قیام پر دکھائی ”حیرت“ کے بارے میں اتنے پریشان کیوں نہیں ہوئے تھے۔ خبروں اور تجزیوں کے ضمن میں میٹھا میٹھا ہپ ہپ والا رویہ تو نہیں اپنانا چاہیے۔
بہرحال سعودی عرب نے مسلم ممالک میں بڑھتی دہشت گردی اور خلفشار سے نبردآزما ہونے کے لئے ایک اتحاد کا اعلان کردیا ہے۔ پاکستان اس اتحاد کا فوجی اعتبار سے اپنی ایٹمی قوت کی بدولت بھی ایک اہم ترین ملک ہے۔ پاکستان مگر سعودی عرب کے اعلان کردہ اتحاد میں ہرگز کوئی کردار ادا نہیں کرپائے گا اگر اس کی فوج سرحدوں اور اپنے شہروں میں بھارت کی اعلانیہ یا خفیہ دراندازیوں کے بارے میں مسلسل خدشات میں مبتلا رہے۔ یادرہے کہ بھارت کے وزیر اعظم کو 2016ءکے ابتدائی ایام میں سعودی عرب بھی جانا ہے۔ لاہور میں اپنی ”اچانک“ آمد سے مودی نے اس متوقع دورے کے دوران ریاض کی جانب سے اٹھائے کچھ ممکنہ سوالات سے بھی جان چھڑالی ہے۔ اپنی لاہور آمد سے قبل افغانستان سے پہلے بھارتی وزیر اعظم روس بھی تو گئے تھے اور روس میں ایک خطہ ہے جسے کہا جاتا ہے چیچنیا۔ یہ مسلم اکثریتی علاقہ ہے اور باسی یہاں کے بہت جنگجو ہیں۔ ان ہی جنگجو لوگوں میں سے کئی نوجوان ان دنوں عراق اور شام میں داعش کے کمانڈر بھی ہوا کرتے ہیں۔
داعش اب افغانستان کے مشرق میں ہمارے خیبر کے عین اس طرف ننگرہار میں بھی اپنی جڑیں پھیلارہی ہے۔ وہ مزید پھیلی تو ازبکستان اور تاجکستان بھی اس کے اثر سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ ان دو ممالک کو روس اپنا Soft Bellyٹھہراتا ہے۔ چین بھی سنکیانگ کی وجہ سے داعشی ممکنہ اثرات کے بارے میں بہت فکر مند ہے۔
افغانستان میں دائمی امن کی تلاش لہذا امریکہ سے کہیں زیادہ روس اور چین کا فوری مسئلہ بھی بن چکا ہے۔ مودی کو افغانستان کے بعد لاہور آنا ہی تھا۔ اسے ”اچانک“ سمجھنا چھوڑدیجئے اور سجن جندال کو اس کی اصل اوقات سے زیادہ اہمیت ہرگز نہ دیں۔

تحریر: نصرت جاوید

No comments:

Post a Comment