Friday, 5 February 2016

علاقائی سلامتی کے تقاضوں کی ترتیب نو


اس بات سے قطع نظر کہ سعودی عرب نے پاکستان کی جانب سے مصالحت کی کوششوں کو حقارت کی نظر سے ٹھکرا دیا ہے ’ایران اور سعودی عرب کے مابین کشیدگی کو ختم کرنے کے حوالے سے پاکستان نے انتہائی اہم اقدامات اٹھائے ہیں کیونکہ پاکستان بذات خود‘‘ فرقوں کے مابین ہم آہنگی کا عمدہ نمونہ ہے۔ ’’ملک دشمن قوتیں شیعہ سنی فسادات بپاکرانے کی سازشوں اور دہشت گردوں کے بزدلانہ حملوں کے باوجود ہماری قومی یکجہتی کو توڑنے میں ناکام رہی ہیں۔ پاکستان میں کسی بھی فرقے کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا بلکہ کوئی بھی قابل اور اہل پاکستانی ’چاہے کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتا ہو ’اپنی اہلیت اور قابلیت کی بنا پر ملک کے بلند ترین عہدے پر پہنچ سکتاہے۔ لہٰذا ہمیں امید ہے کہ پاکستان جو بھی اقدامات کریگا ’اس کی مخلصانہ کوششوں اور جذبہ خیرسگالی کو ضرور پذیرائی ملے گی۔ سعودی عرب کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ خطے کے بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی ماحول نے فرقہ وارانہ جھگڑوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے اس تبدیلی پر نظر رکھی ہوئی ہے جو امڈ آئی ہے اور جس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کیلئے ہم سب نے اپنے آپ کو تیار کرنا ہے۔
سعودی عرب : خطے میں طاقت کی تقسیم و انتشارنے سلامتی کے حوالے سے شدید تحفظات پیدا کئے ہیں۔ عرب انقلاب نے تبدیلی کی


نئی امیدیں دیں۔ ترکی اور مصر خطے کی نئی طاقتوں کی حیثیت سے ابھری ہیں۔ یمن کی ناکام جنگ؛ تیل کا تنازعہ اور ایران پر سے پابندیوں کے اٹھنے سے سعودی عرب کی اقتصادیات اور امریکہ کے ساتھ اسکے تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں لیکن اسکے باوجود‘‘سعودی عرب خطے کے اقتصادی ڈھانچے کے توازن کو قائم رکھنے کے حوالے سے ناگزیر حیثیت کا حامل ہے۔ ’’سعودی عرب کیلئے ایران کاعراق ’بحرین‘ یمن میں حوثیوں اور سعودی عرب کے اسی فیصد تک تیل پیدا کرنے والے مشرقی صوبوں تک پھیلتا ہوا ایران کا اثر ورسوخ بڑی تشویش کا باعث ہے۔ اندرونی طور پر وہابی انتہا پسندوںکا دبائو بڑھتا جا رہا ہے جو عراقی اور شامی گروپوں کے اشتراک سے داعش کا ایک بڑا گروپ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی حکومت کو خطرہ محسوس ہو رہا ہے جس سے بچاو کیلئے 34 ملکی اتحادکا منصوبہ بنایا ہے تاکہ سنی مسلک کے حامیوں کی مدد سے‘‘ حکومت کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ ’’حالانکہ یہ خوف بلاوجہ ہے کیونکہ تمام تر اختلافات کے باوجود دونوں اسلامی ریاستوں میں موجود مشترکہ اسلامی اقدار انہیں صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ پر امن رکھے ہوئے ہیں اور انشاء اللہ وہ آئندہ بھی پرامن رہیں گے۔
ایران: عالمی طاقتوں کے ساتھ ایٹمی معاہدے کے بعد معاشی پابندیوں سے آزادی اور سینکڑوں بلین ڈالر مالیت کے سرمایے و اثاثوں کی واپسی سے ایران مشرق وسطی میں طاقت ور ملک بن کر ابھرا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین تعلقات بڑھ رہے ہیں۔ ایران اقتصادی و سیاسی دونوں لحاظ سے اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے کیونکہ ایران ایک ایسا ملک ہے جو خطے کی اہم طاقت کی حیثیت اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اپنی صلاحیتوں کی بنا پر ترکی جیسی عالمی منڈی بن سکتا ہے۔ تاہم ایران کیلئے ضروری ہے کہ تعمیری کردار سے اپنے آپ کو مشرق وسطی کے ممالک کیلئے قابل قبول بنائے اور معاشی پابندیوں کے تین عشروں کے اختتام پر حاصل ہونیوالے مواقع سے بھر پور فائدہ اٹھانے کیلئے جارحانہ رویہ ترک کرکے مثبت پالیسی اپنائے۔ ایران کو اب اس صورتحال کا بھی سامنا ہے کہ اسکی اقتصادیات جب بین الاقوامی منڈی کے ساتھ جڑیں گی تو وہ اسے کہاں تک آزادی دے سکے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ایران کو امن و سلامتی کے فروغ کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی کہ سعودی عرب کو اور یہی حقیقت دونوںممالک سے متقاضی ہے کہ علاقائی سلامتی کے ڈھانچے کی تشکیل کی خاطرباہمی تعاون و ہم آہنگی سے مل کر کام کرنا اب لازم ہے۔ ایران نے چین کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کر لئے ہیں کیونکہ چین کی خاصیت ہے کہ وہ کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔اسکا مقصد ہر ملک کو اقتصادی فوائدکے ثمرات سے بہرہ مند کرنا ہے۔پاکستان اور چین کے تعلقات اس حوالے سے اپنی مثال آپ ہیں۔ چین کے صدر کے دونوں ممالک کے حالیہ دورے کے مثبت اثرات مرتب ہونگے اور موجودہ کشیدگی کوختم کرنے کی نئی راہیں کھلیں گی۔ چینی صدر نے ایران کے ساتھ طویل المیعاد تذویراتی تعلقات کے قیام کیلئے سترہ معاہدوں پر دستخط کر کے واشنگٹن اور دوسرے ممالک کو حیرت میں ڈال دیا ہے کیونکہ ان معاہدوں کی تکمیل سے ایک دہائی کی مدت کے دوران دونوں ممالک کے مابین تجارت کا حجم پچاس بلین ڈالر سے بڑھ کر چھ سو بلین ڈالر کی سطح تک پہنچ جائینگے۔ ہمیں اسکی اہمیت کا اندازہ تب ہوگا جب ہم اس کا موازنہ پینتالیس بلین (45 bn) ڈالر لاگت کے پاکستان چین اقتصادی راہداری کے منصوبے سے کرینگے جسے ہمارے دانشمند وزیر احسن اقبال نے شروع ہونے سے پہلے ہی متنازع بنا دیا ہے۔
قیام امن کے امکانات: قیام امن کی راہیں تلاش کرتے وقت افراتفری اور انتشار کی اصل وجوہات پر غور کرنا ضروری ہے جس نے پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر رکھا ہے۔ کسی معاشرے میں بدنظمی اور انتشار اس وقت پھیلتا ہے جب اس معاشرے سے آئین و قانون کی حکمرانی اٹھ جاتی ہے اور عدل و انصاف سے محرومی اس کا مقدر بن جاتی ہے اور پھر نتیجے میں پورا معاشرتی نظام مفلوج ہوجاتا ہے۔ تین دہائیوں کے مختصر عرصے میں عالمی طاقتوں نے مسلم ممالک کو بربریت کا نشانہ بنایا ہے جس سے ان کامعاشرتی و سیاسی نظام تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔ان منفی اثرات کی وجہ سے ظلم و بربریت کیخلاف انتقامی ذہنیت پروان چڑھی ہے۔ مثلاً آئین و قانون کی حکمرانی سے انحراف برتتے ہوئے افغانستان و عراق میں فاتح قوتوں سے ناانصافی کی گئی۔ معاملے میں اس وقت مزید شدت آئی جب حکومتوں کی تشکیل میں اکثریت کو انکے حق سے بھی محروم کر دیا گیا۔ یہ نا انصافی انتہا پسندی کی صورت اختیار کر کے اجتماعی انتقامی ذہنیت ابھارنے کا سبب بنی ہے جو داعش کے نام سے موسوم ہے جس کا دائرہ کار عراق شام اور سعودی عرب تک ہے اور اسکے حامی دنیا کے اسی (80) ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ داعش کیخلاف اقوام عالم میں کمزوری اور بے بسی کا عنصر غالب نظر آتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس خطرے کا سدباب اداروں کی تشکیل نو؛ سیاسی جماعتوں اور سیاسی حکومتوں کی بہتر کارکردگی جیسے اقدامات سے کیا جا سکتا ہے جبکہ اس نظریے کوقابل عمل بنانے کیلئے تباہ و برباد کردینے کی دھمکیوں کی بجائے سیاسی تدبرکی ضرورت ہے۔ہم امریکہ اور اسکے اتحادیوں سے بھلائی کی توقعات کیسے رکھ سکتے ہیں جبکہ وہ جنگ جیتے بغیر اور امن قائم کئے بغیر اپنے اپنے ٹھکانوں کی جانب پسپا ہوچکے ہیں اوراتنی ذلت وناکامی کے باوجود اپنے آپ کو فاتح اور عالمی طاقتیں سمجھتے ہیں۔
حرف آخر: اختلافات کی بنیادی وجہ تیل ہے جو جنگ کی نئی قسم ہے جس میں تیل بطور ہتھیار استعمال کیا جائیگا۔ تیل تو اللہ کی خصوصی رحمت سے ایک تحفہ ہے جسے انسان زحمت بنانے کے درپے ہے۔ اوپیک (OPEC) میں تیل کی عالمی منڈی اور اسکے دائرہ اختیار سے باہر کنٹرول حاصل کرنے کیلئے جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جس نے تیل کی عالمی منڈی میں لرزہ طاری کر دیا ہے۔لیکن اسکا ایک آسان حل بھی ہے جسے اختیار کر کے ایران اور سعودی عرب اس خطرناک صورت حال پر قابو پا سکتے ہیں وہ حل یہ ہے کہ دونوں ممالک تیل کی سپلائی میں ایک بڑی حدتک کمی کر کے دنیا کو امنڈتے ہوئے اقتصادی تباہی کے خطرے سے نجات دلا سکتے ہیں اور تیل کی قیمتی دولت کومحفوظ رکھ کر مستقبل میں بہتر طور پراستعمال کرکے خیرو برکت کا ذریعہ بنا سکتے ہیں۔ رہا فرقہ واریت کا مسئلہ تو اسے دونوں ممالک کی اخلاقی صوابدیدپر چھوڑ دیا جانا چاہئے کہ جس سے وہ اچھی طرح نمٹ لیں گے جیسا کہ وہ صدیوں سے نمٹتے چلے آئے ہیں۔ پاکستان کو اپنے خطے میں قیام امن کے اقدامات کو متوازن بنانے کیلئے ترجیحات کا از سر نو تعین کرنا ہوگا کیونکہ ایک طرف ایران یورپ سے 20 بلین ڈالر کے 160مال بردار طیارے خرید رہا ہے تو دوسری جانب بھارت فرانس سے (150 بلین ڈالر کے سودے میں سے) 20 بلین ڈالر مالیت کے 42 جنگی طیارے خریدنے کا معاہد کر رہا ہے جس کے سبب امن اور جنگ 
کی تیزو تند ہوائیں دونوںسمتوں سے ہمارا خیرمقدم کرنے کو تیار ہیں۔ اس لئے لازم ہے کہ ہم اپنی ترجیہات اور سمت کا ابھی سے تعین کر لیں۔

تحریر: جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ