Friday, 10 June 2016

خارجہ پالیسی کی مابعدالطبیعات

امورِ خارجہ کو خوش اسلوبی سے نمٹانے کی تربیت کے بنیادی اصولوں کا جوہر یہ ہے کہ ،
      بڑے سلیقے سے میری نبھی محبت میں      تمام عمر   میں  ناکامیوں  سے   کام لیا
اور یہ کہ غصے کو ظاہر نہیں ہونے دینا۔آ بھی رہا ہو تو مدِ مقابل کے روبرو تحمل کی اداکاری کرنا تاکہ وہ آپ کی اس جبلی کمزوری کو اپنے لیے استعمال نہ کر سکے۔مدِ مقابل کی فطرت ، کارکردگی ، خوبی ، خرابی ، کمزوری اور طاقت کے بارے میں بنیادی معلومات رکھنا ۔کیمرہ دیکھتے ہی فوری رائے یا ردِ عمل کی خواہش کو دبا کے رکھنا۔کسی بھی پیش رفت ، خبر ، کامیابی و ناکامی کو پہلے ہضم کرنا ، پھر تمام ضروری پہلوؤں کا جائزہ لینا اور پھر اس کام کے ماہرین کے ذریعے نپا تلا ردِعمل یا رائے دینا۔الفاظ کا چناؤ یوں کرنا کہ کل کلاں وہ آپ کے خلاف استعمال نہ ہو جائیں۔ڈپلومیسی کا بنیادی مقصد ریاستی اہداف و فوائد کو بلا تشدد حاصل کرنا ہے۔حریف کو اگر رام نہ کیا جا سکے تو اس کی عداوت کو ٹھنڈا رکھنے کی مسلسل کوشش کرنا ہے۔ناکام ڈپلومیسی وہ ہے جس کے برتنے سے دوست بھی اگر دشمن نہ سہی تو لاتعلق ضرور بن جائے۔


ڈپلومیسی کسی عمل کے ردِ عمل کو بے ضرر بنانے کا فن ہے۔ اچھی ڈپلومیسی یہ ہے کہ آپ کوئی قدم اٹھائیں تو دوسرے آپ کے پیچھے یا ہمراہ چلیں نہ کہ آپ بیشتر وقت دوسروں کے پیچھے چلتے رہیں۔


اس تناظر میں ذرا یاد کیجیے کہ پچھلے ستر برس کے دوران پاکستان نے کون کون سے خارجہ امور بغیر غصے یا جھنجلاہٹ کے نپٹائے یا شروع کیے۔ہم لاکھ خود کو آزاد و خودمختار ملک کہتے رہیں۔عالمِ اسلام کا قلعہ سمجھتے رہیں۔لیکن روزِ اول سے آج تک ہماری خارجہ پالیسی دو ستونوں پر کھڑی ہے۔ پہلا ستون انڈیا ہے۔جس کے بارے میں ہمارا نظریہ ہے

ستم کرو گے ستم کریں گے ، کرم کرو گے کرم کریں گے
ہم آدمی ہیں تمہارے جیسے ، جو تم کرو گے وہ ہم کریں گے

یعنی انڈیا کے ایکشن کا ری ایکشن۔ہماری طرف سے اب تک کوئی ایسا پالیسی انیشیٹو تخلیق نہیں کیا جا سکا کہ انڈیا اسے فالو یا نقل کرنے کی کوشش کرے یا مجبور ہوجائے۔بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ پاکستان اور انڈیا کی دو طرفہ پالیسی ان کی باقی خارجہ پالیسی سے بالکل علیحدہ ہے۔یعنی ایک دوسرے کی زندگی جہاں تک ممکن ہو اجیرن بنائی جائے۔لیکن خارجہ پالیسی کے ایک شعبے میں انڈیا کو بہرحال سبقت حاصل ہے۔یعنی پاکستان کے دوست ممالک کو اپنا دوست یا پاکستان کے بارے میں غیر جانبدار بنانے کے لیے مسلسل کوشاں رہنا۔

مثلاً ایک زمانہ تھا کہ پاکستان کے روایتی دوست یعنی سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، ایران ، ترکی حتیٰ کہ چین بھی کھل کے پاکستان کے کشمیر کاز کی حمایت کرتے تھے۔ لیکن گذشتہ ساڑھے تین دہائیوں سے پاکستان کے دوست ممالک نے شائد ہی کشمیر کا کبھی کسی موثر فورم پر نام لیا ہو۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ انڈیا اور پاکستان دو طرفہ تنازعات کا پرامن حل تلاش کریں۔

تجارتی اعتبار سے دیکھا جائے تو انڈیا اس وقت چین کا بارہواں ، سعودی عرب کا چوتھا ، ایران کا دوسرا بڑا ٹریڈنگ پارٹنر ہے۔اگرچہ افغانستان کے لیے پچھلے چالیس برس میں پاکستان نے بہت کچھ اچھا بھی کیا لیکن تعلقات کی زیادہ ملائی انڈیا نے چاٹی۔حالانکہ انڈیا کی سرحد بھی براہ راست افغانستان سے نہیں ملتی۔یوں سمجھئے کہ اس وقت پاکستان کے چار میں سے تین ہمسائے ایک دوسرے سے زیادہ قربت محسوس کر رہے ہیں۔جب کہ پاکستان کی دوستی کا محور صرف چین ہے۔ ان حالات میں فلم دیوار میں امیتابھ اور ششی کپور کا یہ مشہور مکالمہ ذہن میں آ رہا ہے کہ ’’ میرے پاس گاڑی ہے ، بنگلہ ہے ، بینک بیلنس ہے تمہارے پاس کیا ہے ؟ میرے پاس چائنا ہے ’’…

پاکستان کی خارجہ پالیسی کا دوسرا ستون امریکا ہے۔ پاکستان کی امریکا پالیسی ’’ اٹھائے جا ان کے ستم اور جئیے جا ، یونہی مسکرائے جا ، آنسو پئے جا ’’کی عملی تفسیر ہے۔

حالانکہ سرد جنگ کے بعد سے عالمی تعلقات میں کلائنٹ پیٹرن ریلیشن شپ کا تصور کمزور سے کمزور تر ہوتا جا رہا ہے۔لیکن پاکستانی پالیسی ساز آج بھی پاک امریکا تعلقات کے سرد جنگ والے دور میں پھنسے دکھائی دیتے ہیں۔چنانچہ ان کا دل ٹوٹ جاتا ہے جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ سواری ہم پر اور آنکھ مٹکا انڈیا کے ساتھ۔

آج بھی یکطرفہ عشق کا عالم یہ ہے کہ اگر چینی صدر زی پنگ اگلے سنیچر کو کسی بھی اعلی یا طاقتور پاکستانی شخصیت کو دورے کی دعوت دیں اور اسی سنیچر کے لیے واشنگٹن سے اوباما کا نیوتہ آجائے تو طیارہ پہلے واشنگٹن جائے گا اور واپسی میں بیجنگ سے ہوتا اسلام آباد آئے گا۔چنانچہ پاکستان کبھی بھی بہ سبب ِبے توقیری ، امریکا سے بہتر سودے بازی کی پوزیشن میں نہیں رہا۔اس سے اچھی سودے بازی تو ایران نے امریکا سے کر لی۔

سن اکہتر میں پاکستان کے دو دوست تھے۔چین اور امریکا۔آج ایک ہی دوست ہے۔مگر دل ہے کہ اب بھی مغرب کی طرف دیکھتا رہتا ہے۔ایسی گھمبیرتا میں تغافل کا عالم یہ ہے کہ خارجہ پالیسی کے جہاز کے دو کپتان ہیں۔یعنی سرتاج عزیز اور طارق فاطمی۔وزارتِ خارجہ کا قلمدان میاں نواز شریف نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے اور اس جہاز کے لیے رسد و ایندھن و قطب نما وغیرہ کی فراہمی جی ایچ کیو نے اپنے زمے لے رکھی ہے۔

پچھلے ہفتے انگور اڈہ کی چوکی افغانستان کو جذبہِ خیر سگالی کے طور پر واپس کر دی گئی۔ بہت اچھی بات ہے۔مگر چوہدری نثار علی خان کو یہ اطلاع میڈیا کے ذریعے ملی۔ افغانستان نے اس جذبہِ خیرسگالی کا شکریہ یوں ادا کیا کہ انگور اڈے کے آس پاس کے مزید دس مربع کلومیٹر کا بھی مطالبہ کردیا۔اب اس پر بچارا دفترِ خارجہ کیا کہے۔اسے تو خود نہیں پتہ کہ کون سے صاحب کو کب اور کس بات پر خوش کرنا یا غصہ جھیلنا ہے۔

میں تیرے قربان میرا سوہنا پاکستان…


تحریر: وسعت اللہ خان ''بی بی سی''  

No comments:

Post a Comment