Monday, 19 September 2016

تربور

ایسا ہر گز نہیں کہ وہ لوگ افغان دشمن ہیں جوپاکستان کی افغان پالیسی بناتے اور چلاتے ہیں اور اللہ گواہ ہے کہ مجھ جیسے طالب علم جو اس پالیسی کے ناقد ہیں، بھی بدنیت ہیں اور نہ پاکستان کے مفادات کے خلاف قول یا عمل کا سوچ سکتے ہیں ۔ وہ لوگ جو پاکستان کی روایتی افغان پالیسی کے بنانے والے ، چلانے والے یا پھر اس کے حامی ہیں ،حیران ہیں کہ افغانستان کے کسی قول یا عمل پر ہم جیسے لوگ اُس ردعمل کا مظاہرہ کیوں نہیں کرتے جو خود ان کی طرف سے سامنے آتا ہے اور ہم حیران ہیں کہ وہ لوگ افغانستان کی طرف سے کسی ایک بیان یا اقدام کے ردعمل میں اس انتہا تک کیوں چلے جاتے ہیں ۔

پاکستان کے پالیسی ساز یا ان کے ہمنوا شک کرتے ہیں کہ خدانخواستہ ہم جیسے ناقدین کو پاکستان سے زیادہ افغانستان کے مفادات عزیز ہیں یا پھرخاکم بدہن پاکستان کے مفادات ہمیں ان جتنے عزیز نہیں جبکہ دوسری طرف پاکستان کے پالیسی سازوں کے ناقدین کو شک ہونے لگا ہے کہ وہ جان بوجھ کر ایسی پالیسی بنارہے ہیں جو افغانستان کے مفادات کے خلاف تو ہے ہی ، پاکستان کے مفادات سے بھی

متصادم ہوتی جارہی ہے ۔ لیکن جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں بحیثیت مجموعی کسی فریق کی نیت پر شک نہیں کرتا ۔ جس کسی نے بھی پاکستان کی وفاداری کا حلف اٹھایا ہے اور جو اپنے آپ کو پاکستانی کہلانے میں فخر محسوس کرتا ہے ، وہ کوئی بھی ہو ، میرے نزدیک ، محب وطن ہے ۔ الا یہ کہ اس کو کوئی عدالت غدار قرار نہ دے ۔ جہاں تک پاکستان کے اصل مختاروں اور پالیسی سازوں کا تعلق ہے تو ان کے ہر قدم سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن ان کی حب الوطنی شک وشبہ سے بالاتر ہے ۔



وہ لوگ عموماً غلط کام بھی کرتے ہیں تو پورے خلوص نیت کے ساتھ ، حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہوکر ہی کرتے ہیں ۔ وہ نمک حرام اور ننگ انسانیت لوگ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں کہ جو جان بوجھ کر ، کسی ادارے یا ملک سے فائدے کی خاطر ، پاکستان یا افغانستان کے مفادات کے خلاف شعوری طور پر کسی قبیح قول یا فعل کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ گویا اصل مسئلہ نیتوں کا نہیں بلکہ اختلاف نظر کا ہے ۔ مسئلہ ، مسئلہ کی تشخیص کا ہے اور میرے نزدیک بنیادی غلطی پاکستان اور افغانستان کے رشتے کے تعین میں سرزد ہورہی ہے ۔ پاکستانی پالیسی ساز افغانستان کو برادر (بھائی) ملک بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور جب ردعمل بھائی کی طرح نہیں آتا تو پھر وہ اسے دشمن سمجھنے لگ جاتے ہیں ۔ گویا ان کے نزدیک یہ رشتہ یا تو بھائیوں والاہوناچاہئے نہیں تو پھر دشمن والا ۔ حالانکہ جہاں تک میں سمجھا ہوں تو افغانستان اور پاکستان کا رشتہ بھائیوں والا ہے اور نہ دشمنوں والا ہے ۔ جو بھی اس رشتے کو راتوں رات بھائیوں والا رشتہ بنانے کی کوشش کرے گا ، ناکام ہوگا اور اسی طرح جو بھی ا س رشتے کو دشمنوں والا رشتہ سمجھے گا، نقصان اٹھائے گا ۔ میرے نزدیک یہ رشتہ ’’تربورولی‘‘ کا رشتہ ہے اور اس کو جو لفظ واضح کرتا ہے ، اسے پشتو زبان میں ’’تربور‘‘ کہتے ہیں ۔ پاکستانی پالیسی ساز اگر پاکستان اور افغانستان کے رشتے کو دو تربوروں کا رشتہ سمجھ کر آگے بڑھنے کی کوشش کریں تو بہتری یقینی بنائی جاسکتی ہے اور ہوسکتا ہے کہ پھر وہ وقت بھی آجائے کہ یہ رشتہ تربوروں کے رشتے سے آگے بڑھ کر بھائیوں کے رشتے میں بدل جائے ۔


’’تربور‘‘ کا لفظ پشتو زبان میں فرسٹ کزن کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اس رشتے سے جو تعلق جنم لیتا ہے اس کو ’’تربورولی ‘‘ کہتے ہیں ۔ یوں تو ہر قومیت کے ہاں فرسٹ کزن کا رشتہ کسی حد تک لواینڈ ہیٹ (Love and hate) قسم کے تعلق کا آئینہ دار ہوتا ہے لیکن افغانستان اور پاکستان کی پختون پٹی میں قبائلی کلچر اور اجتماعی ذمہ داری کے نظام کی وجہ سے اس کا بہت ہی خاص اور مخصوص مفہوم بن گیا ہے ۔ ’’تربورولی‘‘ کا لفظ عام زبان اور ادب میں ایک مخصوص قسم کے رشتے کے لئے استعمال ہوتا ہے اور کسی بھی قریبی تعلق میں جب حسد کا عنصر آجاتا ہے تو اس کے لئے ’’تربورولی‘‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے ۔ اگر سگے بھائی بھی آپس میں لڑنے جھگڑنے لگیں تو ماں باپ ان کو ڈانٹتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ تم کیا ایک دوسرے کے تربور بنے ہوئے ہو۔ فرسٹ کزنز کے مابین یہ مخصوص تعلق ایشیا کے دیگر علاقوں میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے لیکن باقی علاقوں میں یہ ضروری نہیں کہ کزن کے جرم میں اس کے کزن کوسزا ملے تاہم افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کزن کی غلطی کی سزا اس کے کزن یا چچا کو بھی ملتی ہے ۔

مثلاً مہمند ایجنسی میں اگر کسی معاملے سے میرا براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے تو بھی اگر میرے کزن نے قتل کیا ہے تو مقتول کا بدلہ مجھے مار کر بھی لیا جاسکتا ہے ۔ اسی طرح سرکار اجتماعی ذمہ داری کے قانون کے تحت میرے کزن کے جرم میں میری جائیداد بھی ضبط کرتی ہے اور میرے گھر کو بھی مسمار کرتی ہے ۔ گویا اس علاقے میں گھر کی چاردیواری سے باہر نکل کر کزن کے دوست اور دشمن یا پھر حلیف اور حریف ایک ہوجاتے ہیں ۔ یوں وہ آپس میں جتنا بھی حسد کریں اور گھر کے اندر جتنا بھی لڑیں لیکن باہر ایک دوسرے کا ساتھ دینے پر مجبور ہیں۔ گویا اس معاشرے میں عموماً ہر انسان سے سب سے زیادہ حسد کرنے والا اس کاتربور ہوتا ہے اور سب سے بڑا سہارا بھی وہی تربور ہوتا ہے۔ پھر جو تربور زندگی کی دوڑ میںپیچھے رہ جائے تو اس کی زبان سب سے زیادہ چلتی ہے اور وہ بات بات پر لڑنے جھگڑنے پر بھی آمادہ ہوتا ہے لیکن جب بھی معاملہ گھر سے باہر چلاجاتا ہے تو پھر وہ اپنے تربور کے ساتھ کھڑا رہنے پر مجبور ہوتا ہے ۔ اسی طرح وہ اپنے تربور کو زیادہ خراب ہونے بھی نہیں دیتا کیونکہ آخری نتیجے پر تربور کا خراب ہونا اس کی اپنی کمزوری بھی بن جاتی ہے ۔ میرے نزدیک پاکستان اور افغانستان کے رشتے کو جو لفظ صحیح تناظر میں واضح کرتا ہے وہ فرسٹ کزن (تربور) کا رشتہ ہے ۔ ہم اگر یہ کہیں کہ افغانستان کبھی ہم سے اسی طرح راضی اور مطمئن ہوجائے گا

جس طرح کہ چین ہے تو ایسا کبھی نہیں ہوسکتا اور اگر یہ سوچیں کہ وہ ہندوستان جیسا دشمن بن جائے گا تو ایسا بھی کبھی نہیں ہوسکتا ۔ تاریخ نے یہی سبق دیا ہے ۔ مثلاً پاکستان کے ساتھ افغان حکومت کے تعلقات اس کے قیام سے کشیدہ رہے ۔ توتو، میں میں کا سلسلہ پہلے روز سے جاری رہا ۔ لیکن جب 1965ء کی جنگ ہوئی تو بھارت کا ساتھ دینے کی بجائے افغانی تربور نے پاکستانی تربور کو اطمینان دلایا کہ وہ اس کی طرف سے مطمئن رہے ۔ اسی طرح جب پاکستان اور بھارت کے مابین 1971ء جنگ کے نتیجے میں پاکستان دولخت ہوا اور اس کے ہزاروں فوجی بھارت کی قید میں چلے گئے تو افغانستان کے پاس اچھا موقع تھا کہ وہ جنگ یا دشمنی پر اتر آئے لیکن اس نے ایسا کرنے کی بجائے پاکستان کو اطمینان دلایا کہ وہ مغربی سرحد سے بے فکر رہے حالانکہ اس وقت کی افغان حکومت کے تعلقات پاکستان کے ساتھ موجودہ افغان حکومت کے مقابلے میں زیادہ خراب تھے ۔ ابھی چند سال پہلے کی بات ہے کہ جب پاکستان اور امریکہ کے مابین کشیدگی بڑھ گئی تو افغان صدر حامد کرزئی نے میرے ساتھ انٹرویو میں یہ اعلان کیا کہ اگر دونوں کی جنگ ہوئی تو وہ پاکستان کا ساتھ دیں گے وہ خود کئی حوالوں سے امریکہ کے محتاج تھے۔ اس انٹرویو کی وجہ سے امریکہ اور بھارت ان پر برہم ہوئے اور داخلی محاذ پر ان کے لئے شدید مشکلات پیدا ہوئیں لیکن چند ماہ بعد جب میں نے دوبارہ ان سے انٹرویو کیا تو وہ اپنی بات پر قائم تھے۔ ا س تناظر میں دیکھا جائے تو افغانستان سے نہ اس طرح کی توقع وابستہ کرنی چاہئے کہ وہ چین کی طرح کا دوست بن جائے لیکن اس کو بھارت جیسے دشمن یا حریفوں کی صف میں شامل کرنا بھی حماقت ہے۔ کچھ بھی ہوجائے ایک دائرے سے نکل کر دونوں تربوروں کے مفادات اور خدشات یا پھر دوست اور دشمن ایک ہوجاتے ہیں۔

پاکستان چونکہ نسبتاً بڑا اور خوشحال تربور ہے ، اس لئے اسے بڑے دل کا مظاہرہ کرنا چاہئے ۔ افغانستان جنگوں کی وجہ سے پیچھے رہ جانے والا تربور ہے اور اس کا یہ بھی خیال ہے کہ اس پر جو برا وقت آیا ہے ، اس میں بڑے تربور کا بھی ہاتھ ہے ، اس لئے وہ کبھی شکوہ کرے گا، کبھی گالی دے گا اور کبھی ہماری طرف پتھر پھینکے گا ۔ کبھی غصہ نکالنے یا دلانے کے لئے بڑے تربور کے ہندوستان جیسے حریفوں سے راہ و رسم بڑھائے گا لیکن بڑے تربور کو چاہئے کہ وہ اس طرح کا رد عمل ظاہر نہ کرے جس طرح کہ بھارت جیسے دشمنوں کے معاملے میں کرتا ہے ۔ وہ اپنے اس پیچھے رہ جانے والے تربور کو سہارا دے تاکہ وہ اپنے گھر کو بناسکے اور اپنے پائوں پر کھڑا ہوجائے ۔ دھیرے دھیرے ایک وقت وہ آسکتا ہے کہ یہ تربور بھی خوشحال اور خودمختار بن کر بھائی بن جائے لیکن اگر اس موقع پر اس کے ساتھ سختی کریں گے تو یہ خطرہ موجود ہے کہ وہ تربور سے آگے بڑھ کر خاکم بدہن مکمل دشمن بن جائے۔



تحریر: سلیم صافی  ۔ ''جنگ''

No comments:

Post a Comment