Tuesday, 16 May 2017

مشرق کی ہوائیں


چین کے دارالحکومت بیجنگ میں سجے میلے کا آج دوسرا روز ہے۔ یہ میلہ اس قوم نے سجایا ہے جس کی دانش کے حوالے چار ہزار سال پر محیط ہیں اور اس کی دانش کے سوتے کبھی خشک نہیں ہوتے۔ کبھی کنفیوشس نے اس قوم کو وہ راہ دکھائی تھی جس پر چل کر راہیں بنانا ان کی خارجہ پالیسی کا ایسا مستقل جزو بنا کہ پرانے وقتوں میں بھی ان کی دیوار چین سے وہ سلک روڈ نکلی جو دنیا کے طول عرض تک انہیں رسائی دیتی تھی۔ راستے انسان کی بنیادی ضرورت ہیںسو جہاں بھی انسان پایا گیا، وہاں راہیں ضرور پائی گئیں مگر تاریخ نے دیومالائی حیثیت صرف سلک روڈ کو ہی دی ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ جو راہیں چینی بناتے ہیں وہ ایسے عالمگیر اثرات رکھتی ہیں کہ اسے سنبھالنے کو تاریخ کو باب کے باب رقم کرنے پڑ جاتے ہیں۔ اپنے تحفظ کے معاملے میں چینیوں کی سنجیدگی دیوار چین کی عظمت میں دیکھی جا سکتی ہے۔ وہ دیوار چین جسے کچی دیواروں والے جدید عالم کا جو بھی انسان دیکھتا ہے، انگلی دانتوں میں دبانے ہی نہیں چبانے پر مجبور نظر آتا ہے ۔ دیوار چین کی مضبوطی بتاتی ہے کہ چینی بھی مدتوں سے جانتے ہیں کہ دیوار گر جائے تو لوگ صحن میں رستے بنا لیتے ہیں۔

چینی ایک بار پھر اس کرہ ارض پر وہ راہیں بنانے جا رہے ہیں جو عالمگیر اثرات مرتب کریں گے۔ وہ اثرات جن کے احاطے کے لئے تاریخ نے ابھی سے آستین چڑھا لئے ہیں کیونکہ وہ جانتی ہے کہ جب چینی راہیں بناتے ہیں تو صدیوں کو مصروفیت اور تاریخ کو نئے موڑ ملتے ہیں۔ بیجنگ میں سجنے والے ’’بیلٹ اینڈ روڈ فورم‘‘ کا عنوان اس کی کہانی عیاں کر رہا ہے تو روس، ترکی، سویٹزر لینڈ، چیک ریپبلک، ارجنٹائن، چلی، انڈونیشیا، فلپائن، لاوس، ویتنام، کینیا، بیلاروس، ازبکستان، قازقستان، ازبکستان اور میزبان چین کے صدور جبکہ پاکستان، سری لنکا، سپین، اٹلی، سربیا، یونان، ملیشیا، فیجی، پولینڈ، ہنگری، کبوڈیا، ایتھوپیا، منگولیا اور برما کے وزرائے اعظم کی شرکت بتا رہی ہے کہ ’’ون بیلٹ ون روڈ‘‘ محض رومانوی طور پر ہی نہیں بلکہ عملا عالمگیر اثرات والا منصوبہ ہے۔ اس فورم میں فرانس، برطانیہ، جرمنی اور آسٹریلیا سمیت ستائس ممالک کے وزراء بھی شریک ہو رہے ہیں جن میں سے تھالینڈ کا ڈیلی گیشن پانچ وزراء پر مشتمل ہے جس سے اندازہ کیا جا سکتاہے کہ سجنے والا یہ میلہ کوئی عام میلہ نہیںکیونکہ اس اکٹھ کے نتیجے میں جو ہونے جا رہا ہے وہ بڑا نہیں بہت ہی بڑا ہے۔ اتنا بڑا کہ اس پر آنے والے وقت میں چین 900 ارب ڈالرز سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے اور اس منصوبے سے چار ارب سے زائد انسانوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔

ماوزے تنگ نے کہا تھا ’’ ایک وقت آئے گا جب مشرق کی ہوائیں مغرب پر حاوی ہو جائیں گی‘‘ آج ون بیلٹ ون روڈ کے تحت وہ راہیں بن رہی ہیں جو مشرق کی ہواوں کو مغرب پر حاوی کردیں گی اور کون نہیں جانتا کہ مشرق کی ہوائیں ہمیشہ ٹھنڈی ہوتی ہیں، یہ ہوائیں جہاں بھی جاتی ہیں خیر و برکت ہی لے جاتی ہیں۔ زیادہ عرصہ نہیں ہوابس پچھلی صدی کی ہی بات ہے جب دوسری جنگ عظیم کے ملبے پر بیٹھ کر ’’مارشل پلان‘‘ کی وہ دستاویز لکھی گئی جس سے مغرب کی گرم ہواؤں نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ان گرم ہواوں نے چار بڑے دھوکے دیتے ہوئے ڈکیتی کو تجارت، جارحیت کو امن، وباؤں کو علاج اور عریانیت کو ثقافت قرار دیا۔ اربوں انسان تاجر اور صنعتکار کے رحم و کرم پر آگئے جس سے امیر، امیر تر اور غریب، غریب تر ہوتے چلے گئے۔ ان گرم ہواؤں کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی ہی زمین سے اگنے والا غلہ کس بھاؤ اپنے شہریوں کو مہیا کرے گا، یہ پاکستان نہیں ورلڈ اکنامک فورم بتائے گا۔ یہ ورلڈ اکنامک فورم یعنی استحصال کا وہ ہتھیار جسے بڑے صنعتی ممالک اربوں انسانوں کو لوٹنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ حد نہیں کہ خود کو شعوری لحاظ سے ترقی یافتہ سمجھنے والوں نے عالمگیر ڈکیتیوں والے اس نظام کو ’’فری مارکیٹ اکانومی‘‘ کا عنوان دیا۔ یہ اکانومی اتنی ’’فری‘‘ ہے کہ اس میں پانی تک فری نہیں رہا۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ ہوائیں قبض کرنے والے آلات یہ نظام تاحال بنا نہ سکا ورنہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ ہوائیں بھی بوتلوں اور سلینڈروں میں فروخت ہو رہی ہوتیں۔ دوسری جنگ عظیم سے آج تک کی جنگوں کا بغور جائزہ لیجئے، آپ کو ہر جنگ کے پیچھے مغرب نظر آئے گا۔ جارحیت کو ان کی خارجہ پالیسی میں کلیدی کردار حاصل رہا ہے اور اس حوالے سے ’’مغربی اتفاق‘‘ آپ کو ہر بڑی جنگ میں نظر آئے گا۔ صدام حسین کے ترقی پذیرعراق پر پہلی خلیجی جنگ میں دو درجن سے زائد ترقی یافتہ مغربی ممالک حملہ آور ہوئے۔ افغانستان کے کھنڈرات اور ہنڈا موٹر سائیکلوں پر پھرنے والے طالبان کو فتح کرنے کے لئے امریکہ کی قیادت میں پینتالیس ممالک میدان میں اترے۔ پچھلے سو سال کی جنگوں کے ذریعے اپنے دور عروج میں مغربی ہواؤں نے لاکھوں انسانوں کا قتل عام ’’امن ‘‘ کے نام پر ہی کیا۔ خفیہ جراثیمی حملوں کے ذریعے تیسری دنیا کے ممالک میں وبائیں پھیلائی گئیں تاکہ دکھی انسانیت کا ’’علاج‘‘ کیا جا سکے۔ یہ محض اتفاق ہی رہا ہوگا کہ ہر وبا کا علاج مغربی دوا سازوں کے پاس ہی رہا۔ جوں ہی کسی وبا کی دوا ترقی پذیر ممالک نے بنانی شروع کی وہ وبا غائب ہوگئی اور اس کی جگہ ان نئی وباؤں نے لے لی جس کی دوا مغرب ہی تیار کرکے انہیں فروخت کرتا۔ ثقافت کے نام پر ایسا لچر پن متعارف کرایا گیا جس میں ڈھکنا معیوب بنا دیا گیا۔ لباس کے نام پر وہ ’’برانڈڈ چیتھڑے‘‘ متعارف کرائے گئے جو سب کچھ ہیں بس لباس نہیں ہیں۔ پچھلے سو سال سے انسانیت جو کچھ بھگت رہی ہے یہ مغربی ہواؤں کے حاوی ہونے کے ہی نتائج ہیں۔

اقبال نے مغرب کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا، تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی۔ مغرب کو آج خودکشی کا مرحلہ درپیش ہے۔ جو ان میں سے سب سے زیادہ سمجھدار سمجھا جاتا ہے اس کے وائٹ ہاؤس میں ایک مسخرہ براجماں ہے اور امریکی قوم کی حالت دیکھ کر لگتا ہے یہ اردو شعر امریکیوں نے کہہ رکھا ہے ؎
وہ آئیں گھر میں ہمارے، خدا کی قدرت ہے
کبھی ہم ان کو، کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

کمیونزم اپنے سب سے بڑے دارالحکومت ماسکو میں فیل ہوا تھا، کیپٹلزم بھی اپنے سب سے بڑے دارالحکومت واشنگٹن میں اپنی ناکامیوں کے مناظر دیکھ رہا ہے۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ نامی مسخرا ان پر مسلط رہتا ہے تو اس کے فیصلے امریکہ کو بڑی تنہائی سے دوچار کریں گے اور اگر وہ اس مسخرے کو نکالتے ہیں تو سوال پیدا ہوگا کہ کیا یہ ہے جمہوریت کی روح؟ آپ کا تو بنیادی دعویٰ ہی یہ تھا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں اور حکمرانی عوام کے ووٹ کے ذریعے ہوگی۔ عوامی ووٹ کے ذریعے آنے والے ڈونلڈ ٹرمپ کی بیدخلی ثابت کرے گی کہ لبرل ڈیموکریسی ہی دنیا کی سب سے بڑی منافقت ہے۔ وہ منافقت جس میں فیصلوں کا اختیار عوام نہیں بلکہ کسی اور کے پاس ہے، عوام کا توبس نام استعمال ہوتا ہے۔ مغرب کی گرم ہواؤں کے نتائج صرف امریکہ میں ہی ظاہر نہیں ہو رہے بلکہ وہ یورپ بھی اسے بھگتنے کو ہے جس کی یورپی یونین کبھی مثالی سمجھی گئی تھی۔ یورپی ممالک کی اس یونین کو بریکسیٹ کی نظر لگ چکی اور اب ہر ملک انفرادی سوچ اختیار کرتا نظر آ رہا ہے۔ نسل پرست اور انتہاء پسند سیاستدان کہیں اقتدار میں آچکے تو کہیں بس آیا ہی چاہتے ہیںاور کون نہیں جانتا کہ نسل پرستی انسانوں کو جوڑنے والا نہیں بلکہ توڑنے والا نظریہ ہے۔ یورپی یونین کا حصہ بننے کے لئے منت سماجت کرنے والا ترکی روس سے سٹریٹیجک تعلقات کا ڈول ڈال چکا اور اب وہ ہر دوسرے روز منتشر ہوتے یورپ کو طعنے دیتا نظر آتا ہے۔ جہاں مغرب میں ٹوٹ پھوٹ اور انتشار کا عمل جاری ہے وہیں مشرق میں اتحاد و اتفاق کا ماحول فروغ پا رہا ہے ۔ اس ماحول میں بیجنگ میں منعقد ہونے والے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے منطقی نتائج مغربی بالادستی کے خاتمے کی صورت ظاہر ہوں گے۔ دنیا کی قیادت کرنے والی ہر عالمی طاقت اپنی سوچ اور فکر کو ہی عالمی چلن بناتی ہے۔ ہم مغرب کی گرم ہواؤں کا چلن ہی نہیں اس کے نتائج بھی دیکھ چکے، اب وہ وقت بس آیا ہی چاہتا ہے جب مشرق کی ٹھنڈی ہواؤں کا چلن ہوگا اور یہ مشرقی ہوائیں مغرب پر حاوی ہوجائیں گی۔ وہی مشرق جس کے افق کی جانب متوجہ کرتے ہوئے اقبال نے کہا تھا۔
کھول آنکھ، زمین دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ
مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ
سمجھے گا زمانہ تیری آنکھوں کے اشارے
دیکھیں گے تجھے دور سے گردوں کے ستارے


تحریر : رعایت اللہ فاروقی

No comments:

Post a Comment